Al-Risala · April 2010

خیرامت

Al-Risala, April 2010, pp. 9–13

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر 3 کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: کنتم خير أمة أخرجت للناس، تأمرون بالمعروف، وتنهون عن المنكر، وتؤمنون بالله (آل عمران: 110)

یعنی تم بہترین گروہ ہو، جس کو لوگوں کے واسطے نکالا گیا ہے۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

قرآن کی اس آیت میں، خیرامت کا مطلب خیر الامم یا افضل الامم نہیں ہے۔ قرآن کے یہ الفاظ دراصل امت کی مسئولیت (responsibility) کو بتاتے ہیں۔ اس مسئولیت کی طرف اشارہ 'الناس' کے لفظ میں پایا جاتا ہے، یعنی لتكونوا شهداء على الناس (البقرة: 143)۔ آیت کے ذریعے یہ اعلان کیا گیا کہ خاتم النبیین کے بعد پیغمبرانہ رول کی ادائیگی کے لیے امت محمدی کا تقرر کیا گیا ہے۔ پیغمبر کا کام شہادت علی الناس تھا۔ اب شہادت علی الناس کا یہی کام امت محمدی کو قیامت تک انجام دیتے رہنا ہے (لیکون الرسول شهيداً عليكم، وتكونوا شهداء على الناس)۔ لیکن امت محمدی کسی جامد گروہ کا نام نہیں ہے۔ دوسرے انسانی گروہوں کی طرح، امت محمدی میں بھی موت وحیات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس طرح ایسا ہوتا ہے کہ ایک نسل اپنی عمر پوری کر کے ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کی جگہ دوسری نسل آجاتی ہے۔ اس طرح توالد و تناسل کے ذریعے یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت کی حیثیت حکماً تو ہمیشہ یکساں طور پر باقی رہتی ہے، لیکن امت کے افراد ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ مثلاً صحابہ کے گروہ کے بعد تابعین کا گروہ، تابعین کے گروہ کے بعد تبع تابعین کا گروہ، اور تبع تابعین کے گروہ کے بعد ہر دور کے دوسرے مسلم گروہ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہم عصر مسلم گروہ (صحابہ) کی تربیت براہ راست کی تھی۔ اس پیغمبرانہ تربیت کو قرآن میں تزکیہ (البقرة: 129) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام کی تربیت کے ذریعے صحابہ خیر امت کی پہلی ٹیم بنے۔ اب سوال یہ ہے کہ بعد کی نسلوں کو دوبارہ خیر امت کا

مصداق بنانے کا طریقہ کیا ہوگا۔ یہی وہ بات ہے جس کو آیت کے اگلے حصے میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنکر۔ اس آیت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے مراد تأمر بالمعروف اورتناهي عن المنكر ہے، یعنی اہل ایمان کا آپس میں ایک دوسرے کے اوپر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا۔ اس سے مراد دراصل داخلی تربیت کا نظام ہے۔ دوسرے الفاظ میں، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی حیثیت اصلاحی تدابیر (corrective measures) کی ہے جو امت کو نسل درنسل مسلسل طور پر حالتِ خیر پر باقی رکھنے کی ضمانت ہے۔ خیر أُمّۃ‘ سے مراد امت کی نمائندہ حیثیت ہے۔ ’لِلناسِ‘ کے لفظ میں یہ اشارہ ہے کہ اس امت کا خارجی نشانہ شہادت علی الناس ہے۔ تأمرون بالمعروف، وتنهون عن المنکر کے الفاظ میں، داخلی تربیت کے نظام کو بتایا گیا ہے۔ تؤمنون بالله‘ سے مراد امت کے افراد میں زندہ ایمان کو مسلسل طور پر باقی یہی نظام امت کو، خیر امت کی حالت پر باقی رکھنے کی ضمانت ہے۔ امت کے اندر اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام باقی نہ رہے تو اللہ کے نزدیک امت کی حیثیت العیاذ باللہ، ملعون امت کی بن جائے گی، نہ کہ خیر امت کی۔ یہ انتباہ خود قرآن اور حدیث میں واضح طور پر دیا گیا ہے۔ اس معاملے کی سنگینی ایک حدیثِ رسول سے معلوم ہوتی ہے۔ یہ روایت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ الترمذی کے الفاظ یہ ہیں: لما وقعت بنو إسرائيل في المعاصي نهتهم علمائهم فلم ينتهوا، فجالسوهم في مجالسهم، واكلوهم وشاربوهم، فضرب الله قلوب بعضهم ببعض، فلعنهم على لسان داؤد وعيسي ابن مريم ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون۔ قال: فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان متكئاً، فقال: لا، والذي نفسي بيده حتى تأطروهم أطراً (كتاب التفسير) یعنی جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑ گئے، اُن کے علماء نے ان کو روکا، مگر وہ نہیں رکے۔ پھر علماء ان کی مجلسوں میں بیٹھے۔ انھوں نے ان کے ساتھ کھایا اور ان کے ساتھ پیا، پھر اللہ نے لوگوں کے دلوں کو ایک دوسرے سے متاثر کر دیا۔ چناں چہ اللہ نے داؤد اور عیسی بن مریم کی زبان سے اُن پر لعنت کی۔

یہی بات قرآن کی اس آیت میں بیان ہوئی ہے (ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون - المائدة : 78)۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر آپ اٹھ کر بیٹھ گئے ۔ آپ نے فرمایا : اُس ذات کی قسم، جس کے قبضے میں میری جان ہے (لعنت کی حالت باقی رہے گی ) یہاں تک کہ تم ان کو پوری کوشش سے روک دو۔

دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں : کلا، واللہ لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر، ولتأخذنّ على يدى الظالم، ولتأطرنّه على الحق أطراً، ولتقصرنّه على الحق قصْراً، أو ليضربنّ اللہ بقلوب بعضكم على بعض، ثم لیلعننّکم كما لعنهم (أبو داؤد، كتاب الملاحم) یعنی ہرگز نہیں، تم کو ضرور (آپس میں) معروف کا حکم دینا ہوگا اور تم کو ضرور (آپس میں) منکر سے روکنا ہوگا، تم کو ضرور (آپس میں) ظالم کے ہاتھ کو پکڑنا ہوگا، تم کو ضرور اُسے حق کی طرف موڑنا ہوگا، تم کو ضرور اُس کو حق کی طرف لوٹانا ہوگا، ورنہ اللہ ضرور تمھارے دلوں کو ایک دوسرے سے متاثر کر دے گا، پھر تم پر وہ اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح اُس نے اس سے پہلے یہود پر لعنت کی ۔

لعنت کوئی پراسرار لفظ نہیں۔ لعنت سے مراد ہے۔ امت کے خیر کی حیثیت کا چھن جانا، یعنی جب تک امت کے افراد، خاص طور پر اس کے علماء امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عمل کو واقعی طور پر زندہ رکھیں گے، اُس وقت تک امت خیر پر باقی رہے گی اور جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عمل حقیقی طور پر جاری نہ رہے تو اُس وقت امت کے خیر کی حیثیت لازماً چھن جائے گی۔ اور خیر کی حیثیت کے چھن جانے ہی کا دوسرا نام لعنت ہے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے مراد صرف کچھ جزئی چیزیں نہیں ہیں۔ مثلاً کسی مسلمان کا پاجامہ ٹخنے سے نیچا ہو تو آپ کہیں کہ اپنا پاجامہ ٹخنے سے اوپر کرو، کسی مسلمان کی داڑھی چھوٹی ہو تو آپ کہیں کہ اپنی داڑھی بڑھاؤ، کسی مسلمان کے سر پر ٹوپی نہ ہو تو آپ کہیں کہ اپنے سر پر ٹوپی رکھو، وغیرہ۔ قسم کی باتیں شریعت سے زیادہ مسلم کلچر کا حصہ ہیں، اور مسلم کلچر کا تحفظ اپنی حیثیت کے اعتبار سے، صرف ایک قومی کام ہے۔ اس قسم کی باتوں سے ہرگز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا نہیں ہوتا۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک اصولی کام ہے۔ اس کا تعلق شریعت کے اصولی معاملات سے ہے۔ جزئی معاملات یا کلچرل شناخت کے معاملات میں امر و نہی کرنے سے اس کا حق ادا نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر پچھلے کئی سوسال کے دوران جو اسلامی لٹریچر تیار ہوا، اس میں دعوت الی اللہ کو حذف کر دیا گیا، اور علماء اس غلطی کی تصحیح کے لیے نہیں اٹھے۔ دو سوسال سے علماء، براہ راست یا بالواسطہ طور پر، مسلح جہاد میں مشغول ہیں، اور علماء کی کسی جماعت نے یہ فتوی نہیں دیا کہ مسلح جہاد حکومت کا کام ہے، نہ کہ علماء کا کام۔ مسلم ملکوں میں مختلف جماعتیں اپنے ملک کی حکومتوں کے خلاف ‘‘خروج’’ کی تحریکیں چلا رہی ہیں، لیکن علماء کی کسی جماعت نے یہ فتویٰ نہیں دیا کہ قائم شدہ مسلم حکومت کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔

موجودہ زمانے میں ساری دنیا کے مسلمان غیرمسلم قوموں کے خلاف نفرت کی نفسیات میں مبتلا ہیں، مگر علماء کی کسی جماعت نے کھلے طور پر یہ اعلان نہیں کیا کہ غیرمسلم قومیں ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں، اور مدعو سے نفرت کرنا جائز نہیں۔ بعد کی صدیوں میں کچھ لوگوں نے غیرمسلم علاقوں کے بارے میں مبتدعانہ طور پر یہ اعلان کیا کہ وہ دارالكفر يا دار الحرب ہیں، لیکن علماء کی کسی جماعت نے نہیں کیا کہ وہ اس تصور کو کھلے طور پر غلط بتائیں اور یہ کہیں کہ ساری دنیا دارالانسان یا دارالدعوہ ہے، کوئی بھی علاقہ نہ دارالكفر ہے اور نہ دار الحرب۔

نہی عن المنکر یا تنہی عن المنکر کوئی پر اسرار لفظ نہیں۔ یہ عین اسی چیز کا نام ہے جس کو عام زبان میں، نقد یا تنقید (criticism) کہا جاتا ہے۔ اسی صفت کو حدیث میں المؤمن مرأة المؤمن (أبو داؤد، کتاب الأدب) کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی ایک مومن دوسرے مومن کے لیے آئینے کی حیثیت رکھتا ہے۔ آئینہ کسی تحفظ (reservation) کے بغیر بے کم و کاست آپ کے چہرے کو دکھا دیتا ہے۔ اسی طرح مومن کو ایسا ہونا چاہیے کہ وہ دوسرے مومن کے بارے میں کھلے طور پر اظہار وہ کھلے طور پر اپنی نصیحت دوسرے کو پہنچادے۔ ایسا اُسی وقت ممکن ہے کہ مسلم معاشرے میں تنقید کو برا نہ مانا جائے، بلکہ تنقید کو کھلے دل کے ساتھ قبول کیا جائے۔

کسی مسلم معاشرے میں اگر کھلی تنقید کا ماحول نہ ہو تو یہ ایک سنگین خطرے کی علامت ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ لوگ دین کے بارے میں بے حسی کا شکار ہو چکے ہیں۔ سنانے والے مفاد پرستی میں مبتلا ہیں، اور سننے والے خود پرستی میں جی رہے ہیں۔ کسی معاشرے میں نہی عن المنکر یا تناهی عن المنکر کے ماحول کا ختم ہو جانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ معاشرہ ایسے افراد سے خالی ہو گیا ہے جو خدا کے لیے تڑپے، جو خدا کے دین کی پامالی پر بے قرار ہو۔ مزید یہ کہ معاشرہ ایسے افراد سے بھی خالی ہو گیا ہے جو تنقید سننے کے بعد یہ کہہ سکیں کہ: میں غلطی پر تھا۔ ایسا معاشرہ دینی اعتبار سے، ایک مردہ معاشرہ ہے۔ ایسا معاشرہ گویا کہ زندوں کی بستی نہیں، بلکہ وہ مردوں کا قبرستان ہے۔ جب کوئی معاشرہ اس حالت تک پہنچ جائے تو اس کے اوپر سے خدا کی نصرت اٹھ جاتی ہے۔ خدا کی نصرت سے اسی محرومی کو قرآن اور حدیث میں لعنت کہا گیا ہے۔

تؤمنون بالله‘ ــ اللہ پر زندہ ایمان رکھنا، اللہ پر زندہ یقین کا مسلسل طور پر ذہن میں باقی رہنا، یہی ایمان باللہ ہے۔ اور اس قسم کا ایمان باللہ ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ امت اپنی مطلوب حالت پر مسلسل باقی رہے۔ زندہ ایمان ہوگا تو امت کے اندر مسئولیت کا احساس تازہ رہے گا۔ ہوگا تو امت شہادت علی الناس کے فرض کی ادائیگی میں مسلسل طور پر سرگرم رہے گی۔ زندہ ایمان ہوگا تو امت کے افراد ایک دوسرے پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ مطلوب انداز میں انجام دیتے حقیقت یہ ہے کہ اللہ پر زندہ ایمان تمام فرائض کی حسنِ ادائیگی کی یقینی ضمانت ہے۔ قرآن میں اللہ کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ : کل یوم هو فی شأن (الرحمن: 29) یعنی اللہ ہر لمحہ ایک نئی شان کے ساتھ ہے۔ یہ اللہ کی صفت ہے۔ یہی صفت انسان کے اندر عبدیت کی سطح پر ہونا چاہیے ۔ اللہ پر ایمان وہ ہے جو تخلیقی ایمان ہو، جو ہر لمحہ ایک نئی ذہنی سرگرمی کے ہم معنی بن جائے۔ ایسا ایمان، ہی کسی آدمی کو مسلسل طور پر زندہ یقین عطا کر سکتا ہے۔ ایسے ایمان والے لوگ ہی اُس ذمے داری کو حقیقی طور پر انجام دے سکتے ہیں جو خیر امت سے مطلوب ہے۔

Printed page