Al-Risala · January 2010

We are already in Paradise

Al-Risala, January 2010, pp. 15–31

By Maulana Wahiduddin Khan

جدید مادی ترقیوں نے جو دنیا بنائی ہے، وہ اتنی پرکشش ہے کہ ہر آدمی اس میں گم ہو گیا ہے، ہر آدمی کی کوشش صرف ایک ہے— زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا اور دنیا میں اپنے لیے ایک جنت بنانا۔ موجودہ زمانے میں یہ حال تقریباً تمام عورتوں اور مردوں کا ہے، حتی کہ اُن لوگوں کا بھی جو بظاہر جنت پر عقیدہ رکھتے ہیں، لیکن اب ان کا عقیدہ محض ایک رسمی عقیدہ بن چکا ہے۔ عملی طور پر دیکھیے تو جنت کا عقیدہ رکھنے والوں اور جنت کا انکار کرنے والوں کے درمیان کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا تجربہ ہے کہ اکثر لوگ گفتگو اور تقریر کا فرق نہیں سمجھتے۔ مثلاً ایک شخص اگر اسٹیج پر دھوم سے تقریر کرتا ہے تو وہ بات چیت (conversation) میں بھی اسی طرح دھوم کے ساتھ بولنے لگتا ہے۔ وہ تقریر اور گفتگو کے فرق کو ملحوظ نہیں رکھتا، حالاں کہ تقریر اور گفتگو کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔

ایک شخص جب اسٹیج پر تقریر کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اُس وقت ایک بولنے والا ہوتا ہے اور دوسرا یہ گویا کہ یک طرفہ بات (monologue) کا معاملہ ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اگر بولنے والا دھوم سے بولے تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن جب وہ کسی موضوع پر ایک شخص سے بات کرتا ہے تو وہ دو طرفہ بات (dialogue) کا معاملہ ہوتا ہے۔ یہ ایک تبادلۂ خیال ہے جس میں آدمی کو سننا بھی ہے اور سننا بھی ہے۔ اس لیے دوطرفہ گفتگو کے موقع پر آدمی کو نہ تو دھوم سے بولنا چاہیے اور نہ اُس کو ایسا کرنا چاہیے کہ وہ اتنی لمبی گفتگو کرے کہ دوسرے کو اپنی بات کہنے کا موقع ہی نہ ملے۔

وارسا (Warsaw) سولھویں صدی عیسوی سے پولینڈ کی راجدھانی ہے۔ دوسری عالمی جنگ (1939-1945) میں یہ شہر تقریبا ًپورا تباہ ہو گیا تھا۔ بعد کو اسے قدیم طرز پر دوبارہ تعمیر کیا گیا: وارسا کی تباہی کے بعد دوبارہ قدیم طرز (old pattern) پر اس کی تعمیر اس لیے کی گئی تا کہ وارسا کی تاریخی حیثیت کو باقی رکھا جا سکے۔ یورپین قوموں میں تاریخی ذوق کامل طور پر موجود ہے۔ بد قسمتی سے مسلمانوں میں یہ تاریخی ذوق پیدا نہ ہو سکا۔ اس کا آخری نمونہ یہ ہے کہ بعض انتہا پسند علماء اور رہنماؤں نے ’’ازالہ بدعت‘‘ کے نام پر حجاز کے ان مقدس تاریخی مقامات کو ڈھا دیا جو بعد کی نسلوں کے لیے ایک عظیم پوائنٹ آف ریفرنس کی حیثیت رکھتے تھے، جو زائرین کے لیے ایک ربانی نقطہ فیضان (point of inspiration) کے ہم معنی تھے۔

اسلام میں تاریخی مقامات کی اہمیت کا اندازہ حسب ذیل واقع سے کیا جا سکتا ہے: عطاء خراسانی ایک تابعی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے گھر دیکھے ہیں۔ وہ کھجور کی ٹہنیوں کے تھے۔ ان کے دروازوں پر ٹاٹ کے پردے پڑے ہوئے تھے جو کالے بال سے تیار کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد خلیفہ ولید بن عبد الملک اموی کی طرف سے مدینہ کے حاکم کے پاس خط آیا۔ اس خط میں مسجد نبوی کی نئی تعمیر کا حکم تھا اور یہ ہدایت دی گئی تھی کہ ازواجِ رسول کے حجرے تو ڑکر ان کو مسجد نبوی میں شامل کر دیا جائے۔

اس حکم کو معلوم کر کے مدینہ کے بہت سے لوگ روپڑے ۔ حضرت ابو امامہ انصاری نے کہا۔ کاش، یہ حجرے اسی طرح چھوڑ دئے جاتے اور گرائے نہ جاتے، تاکہ لوگ بڑی بڑی عمارتیں بنانے سے رک جاتے، اور وہ یہ دیکھ لیتے کہ اللہ اپنے نبی سے کس چیز پر راضی ہوا، حالاں کہ دنیا کے خزانوں

کی چابیاں اس کے ہاتھ میں تھیں (لیتها تُرکت فلم تَهدم حتی يقصر الناس عن البناء، ویروا ما رضي الله لنبيه، ومفاتيح خزائن الدنيا بیدہ۔ طبقات ابن سعد، جلد 1، صفحہ 499) 5 ستمبر 2009 کی دوپہر کو دو بجے وارسا سے کریکو (Krakow) کے لیے روانگی ہوئی۔ سے کریکو کا فاصلہ تقریباً ڈھائی سو کلومیٹر ہے۔ یہ سفر پولش ائر لائنز (Lot Polish Airlines) کی فلائٹ نمبر 3913 کے ذریعے طے ہوا۔ یہ صرف پچاس منٹ کی پرواز تھی اور اس کا جہاز بھی چھوٹا تھا۔ پرواز کرتے ہوئے جب ہمارا جہاز کریکو کے انٹرنیشنل ائر پورٹ جان پال دوئم (John Paul II) پر اترا تو مسافروں نے تالیاں بجائیں۔ اُس وقت میرا دل بھی جذباتِ شکر سے بھرا ہوا تھا، لیکن میرے ہاتھ دوسروں کی طرح تالی بجانے کے لیے نہیں اٹھے۔

میں نے اس فرق پر غور کیا تو میری سمجھ میں آیا کہ دوسرے لوگ جہاز کے اس طرح منزل پر پہنچنے کو صرف ایک مادی واقعہ سمجھتے ہیں، اس لیے وہ اس پر مادی سطح کا رسپانس (response) دے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ خالص ایک خدائی واقعہ ہے جو فرشتوں کی مدد سے اپنی کامیابی میں نے محسوس کیا کہ جس وقت لوگ تالیاں بجارہے تھے، اُس وقت میں خاموش ہو کر خدا کی یاد میں مشغول تھا اور انسان پر خدا کی رحمتوں کو یاد کر کے شکرِ خداوندی کے جذبات سے مغلوب تھا۔ کریکو ائر پورٹ پر ہم کو ریسییو (receive) کرنے کے لیے کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو کے تین افراد موجود تھے۔ ان کے ساتھ سواریاں تھیں۔ وہ ہم کو ائر پورٹ سے لے کر چلے اور شہر کے مشہور ہوٹل (Sheraton Krakow) تک پہنچایا۔ یہاں ہمارے لیے اور ہمارے ساتھیوں کے لیے جدید طرز کے دو کمرے پہلے سے رزرو تھے۔ یہاں دوسری تمام سہولتیں موجود تھیں۔

اس تجربے سے میرا دل بھر آیا۔ میں نے روتے ہوئے کہا۔ خدایا، اسی طرح میری زندگی کا جہاز ایک اور منزل پر پہنچنے والا ہے۔ یہ آخرت کی منزل ہے۔ وہاں بھی تو میرے ساتھ یہ احسان فرما کہ جب میں آخرت کی ابدی منزل پر پہنچوں تو وہاں رحمت کے فرشتے میرا اور میرے ساتھیوں کا استقبال کرنے کے لیے موجود ہوں۔ وہ ہم کو اپنے ساتھ لے کر چلیں اور ہم کو

جنت کی ابدی رہائش گاہوں میں پہنچادیں۔

کری کوائر پورٹ پر جب ہم نے کنوئر بیلٹ (conveyer belt) سے اپنا سامان حاصل کیا تو معلوم ہوا کہ ہمارے پانچ پیکیٹ نیو یارک ائر پورٹ پر چھوٹ گئے ہیں۔ وہ کری کو آنے والے جہاز کے ذریعے یہاں نہیں پہنچے۔ کری کوائر پورٹ کے عملہ کو یہ بات بتائی گئی تو انھوں نے کہا کہ ہم آپ کے سامان کو دوسرے جہاز سے منگار ہے ہیں اور وہ شام کو سات بجے تک آپ کے ہوٹل میں پہنچادیا جائے چناں چہ ایسا ہی ہوا، شام کو سات بجے یہ پانچ پیکٹ ہمارے ہوٹل کے کمرے میں موجود تھے۔ یہ بلاشبہ خدا کی خصوصی مدد تھی۔ ہوائی سفر میں سامان چھوٹنے کے واقعات بہت ہوتے ہیں، لیکن اس طرح ٹھیک وقت پر اس کا واپس ملنا ایک انوکھا واقعہ تھا جو خدا کی خصوصی مدد سے پیش آیا۔ کی خصوصی مدد کے بغیر ایسا ہونا ممکن نہیں۔

کری کو، پولینڈ کا ایک تاریخی شہر ہے۔ کری کو گیارھویں صدی سے سولھویں صدی عیسوی تک پولینڈ کا دار السلطنت رہا ہے۔ کیتھولک چرچ کے سب سے بڑے مذہبی عہدے دار کو پوپ کہا جاتا ہے۔ پوپ ہمیشہ اٹلی کے کسی مسیحی کو بنایا جاتا رہا ہے۔ جان پال دوم پہلے غیر اطالوی پوپ ہیں، وہ پولینڈ کے اسی قدیم شہر کری کو میں پیدا ہوئے تھے۔ ذیل میں کری کو کے متعلق مختصر معلومات دی جارہی ہے: Krakow is one of the largest and oldest cities in Poland. Situated on the Vistula river. Krakow has traditionally been one of the leading centres of Polish academic, cultural and artistic life, and is one of Poland's most important economic centres. It was the capital of Poland from 1038 to 1596. After the invasion of Poland by Nazi Germany at the start of the Second World War, Krakow was turned into the capital of Germany's General Government. Karol Wojtyla, Archbishop of Krakow, was elevated to the papacy as John Paul II, the first non-Italian pope in 455 years, and the first ever Slavic pope. 6 ستمبر 2009 کی شام کو 5 بجے کانفرنس کا افتتاحی اجلاس (opening assembly) تھا۔ یہ اجلاس کری کو شہر کے آڈی ٹوریم مکسیم (Auditorium Maximum) میں ہوا۔ یہ ایک وسیع اور

شان دار آئی ڈی ٹوریم تھا۔ اِس پروگرام میں کانفرنس کے شرکاء کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں مقامی لوگ اِس اجلاس کے مقررین حسبِ ذیل تھے: Assistant Director-General for Culture of UNESCO, France Rector of the Jagiellonian University, Poland Cardinal, Archbishop of Krakow, Poland Minister of Foreign Affairs, Poland Community of Sant'Egidio, Italy Honorary Governor of the Bank of France Ambassador of Poland to the Holy See Jose Manuel Barroso President of the European Commission, Belgium Henri de Luxembourg Grand Duke of Luxembourg President of the Republic of Montenegro

Chief Rabbi of Israel Cardinal, President of the Pontifical Council for Christian Unity, Rector of al-Azhar University, Egypt اس موقع پر پروفیسر احمد الطيب (ریکٹر، الازہر یونیورسٹی، قاہرہ) نے مسلم مقرر کی حیثیت سے عربی زبان میں خطاب کیا، جس کو ہیڈ فون کے ذریعے مختلف زبانوں میں سنا گیا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں اہل مغرب کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے ہر زمانے میں ان کے ساتھ اچھے سلوک کا معاملہ کیا ہے، لیکن اہل مغرب ابھی تک اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ انصاف کا معاملہ نہ کر سکے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ مذکورہ مسلم مقرر نے اپنی تقریر میں اس طرح کی متعدد منفی اور شکایتی باتیں کہیں، لیکن عجیب بات ہے کہ مسیحی حضرات نے ان باتوں کو خاموشی کے ساتھ سن لیا اور اس کے خلاف کسی قسم کے ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔

اس اجلاس کی صدارت ایک مسیحی خاتون (Hanna Suchoka) کر رہی تھیں۔ وہ پولینڈ کی طرف سے ویٹکن میں سفیر ہیں۔ انھوں نے پروفیسر احمد الطيب کی تقریر کے بعد اپنے مختصر ریمارک میں کہا کہ ہم پروفیسر صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں ہماری کمی کی طرف ہم کو توجہ دلائی۔ کی تنقید کا استقبال کرتے ہیں۔

عجیب بات ہے کہ مسلم مقررین کو بین الاقوامی اسٹیج پر اظہار خیال کا موقع ملتا ہے، لیکن وہ اپنے منفی ذہن کی بنا پر اسلام کی صحیح نمائندگی نہیں کر پاتے۔ مثلاً ایک بار مجھے ایک عرب شیخ کو سننے کا موقع وہ ایک بین الاقوامی اسٹیج سے بول رہے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں، اسلام کی پالیسی کو بتاتے ہوئے قرآن کی اس آیت کا حوالہ دیا: فما استقاموا لكم فاستقيموا لهم (التوبة: 7) یعنی جب تک وہ تم سے سیدھے رہے رہیں، تم بھی اُن سے سیدھے رہو۔

عرب شیخ کا یہ حوالہ ایک غیر متعلق (irrelevant) حوالہ ہے۔ قرآن کی اس آیت میں جس مساویانہ سلوک کا ذکر کیا گیا ہے، وہ اُس صورتِ حال کے لیے ہے جب کہ مسلم سلطنت اور غیر مسلم سلطنت کے درمیان باقاعدہ جنگی حالت قائم ہو گئی ہو۔ جہاں تک عمومی زندگی کا تعلق ہے، اس کے لیے خُلقِ عظیم (القلم: 4) کا طریقہ مطلوب ہے، یعنی برتر اخلاقیات کا طریقہ۔ اِسی روش کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ: لا تکونو ا اُمّعۃ (الترمذی، کتاب البر)

افتتاحی اجلاس کے اِس موقع پر قرآن کا انگریزی ترجمہ بڑی تعداد میں لوگوں کو دیا گیا۔ ہمارے ساتھیوں نے لوگوں تک قرآن پہنچانے کا یہ کام شروع کیا تو وہاں بیٹھے ہوئے ایک بڑے مسیحی پادری نے ہماری ٹیم کی ایک ممبر سعدیہ کو ناراضگی کی نظر سے دیکھا۔ سعدیہ نے الفاظ میں ان کو کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ یہ کیا کہ پادری کے سامنے جاکر متواضعانہ انداز میں اپنا سر جھکاتے ہوئے کہا: Bless me, father!

اس کے بعد مذکورہ پادری کا لہجہ بالکل نرم پڑ گیا۔ انھوں نے کہا کہ ــــ او کے، او کے (Ok, Ok)۔ اس مثال سے دعوت کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ دعوت کے دوران اگر کسی سے کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اس کو ہرگز دلیل دینے کی کوشش مت کیجئے، بلکہ تواضع کا انداز اختیار کیجئے ۔ تواضع، دعوت کے بند راستے کو کھولتی ہے اور غیر متواضعانہ روش دعوت کے کھلے دروازے کو بند کر دیتی ہے۔ پولینڈ کے شہر کریکو میں ہونے والی اِس کانفرنس میں 22 پینل (panel) بنائے گئے تھے۔ پینل الگ الگ موضوع پر تھا۔ ہمارے ساتھی اِن پروگراموں میں دعوتی لٹریچر لے کر جاتے۔ لوگوں سے انٹرایکشن کر کے اُنھیں مطالعے کے لیے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر دیتے ۔ لوگ اس کو خوشی سے لیتے اور شکریہ ادا کرتے ۔ یہاں پینل کے موضوعات نقل کئے جا رہے ہیں: 1. Do Not Forget Auschwitz 2. Memory and Prophecy: The Legacy of John Paul II 3. 70 Years After World War II, War is not a Destiny 4. Europe's Mission in the World 20 Years After 1989 5. Latin America in a Globalized World

Market Society, Religions and the Challenge of Materialism Dialogue of Faith and Culture Faiths and the Value of Life Fafiths in Asia: Building a World Without Violence Xenophobia and Philoxenia: Europe at a Crossrads Living Together in a Plural World John Paul II and the "Spirit of Assisi" Africa, Land of Opoorunity 1989: A Peaceful Transition Humankind's Spiritual Quest in a Time of Economic Crisis No to the Death Penalty: No Justice Without Life Religions and Global Health of the World: The Rebirth of Africa Christian Unity, for the World to Believe The Power of Prayer Over History Martyrdom and Resistance to Evil The Scriptures in Monotheistic Faiths Faith and Science 7 ستمبر 2009 کو پیٹل 12 میں میری تقریر تھی۔ اس پینل کا موضوع یہ تھا: John Paul II and the "Spirit of Assisi" یہ پینل نسبتاً زیادہ بڑا تھا۔ اس کی کارروائی کریکو کے مشہور تھیٹر سلوواک نیشنل تھیٹر (Slovak National Theater) کے کشادہ ہال میں کی گئی۔ سینٹ فرانس آف ایسی (St. Francis of Assisi) ایک مشہور مسیحی راہب تھے۔ 1182ء میں پیدا ہوئے اور 1226ء میں اٹلی میں ان کی وفات ہوئی۔ انھوں نے اپنی ایک دعا میں کہا تھا کہ اے خدا، مجھ کو تو امن کے قیام کا ذریعہ بنا: O Lord, Make me an instrument of Your peace. اس دعا کو میں نے اپنی تقریر میں کلمہ سواء (آل عمران : 64) کے طور پر استعمال کیا۔

میں نے کہا کہ اسلام اور مسیحیت کے درمیان ایک مشترک قدر (common value) کی حیثیت ایسی پیغام بھی امن پر مبنی ہے اور اسلام کا پیغام بھی امن پر مبنی: Spirit of Assisi and spirit of Makkah both are one and the same. اس کے بعد میں نے موقع کی مناسبت سے اسلام کی کچھ مثبت تعلیمات کو بیان کیا۔ اندازِ خطاب بہت مؤثر ثابت ہوا۔ پینل کے چترمین مسٹر راجر (Roger Etchegaray) نے بہت اچھے الفاظ کے ساتھ اس کا اعتراف کیا۔ سامعین کے اندر جو فضا بنی، اس کو استعمال کرتے ہوئے ہمارے ساتھیوں نے یہاں قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر لوگوں کو دیا۔ لوگوں نے بہت خوشی کے ساتھ اس کو لیا۔ اس پینل میں تقریباً 500 لوگ شریک تھے۔ چناں چہ قرآن کے تمام نسخے فوراً ختم ہوگئے۔ ہمارے ساتھیوں نے بقیہ لوگوں کا پتہ لکھ لیا، تا کہ دہلی سے اُنھیں بذریعہ ڈاک قرآن کی کاپیاں روانہ کی جاسکیں۔

پینل 12 کے آغاز میں میری طرف سے لوگوں کے درمیان حسب ذیل پیپر تقسیم کیا گیا: Prayer means establishing a spiritual communion with God or higher reality. This kind of communion is most unique experience for a man or a woman. It is going to the deeper world of inner reality. Prayer is the greatest attainment of higher truth. Prayer is life for soul as well as man. There is a well known saying that prayer is power. But according to my experience I would like to say that prayer is the greatest power. There are two kinds of power— physical power and spiritual power. Physical power is a limited power, it can work only in space and time. But prayer can go beyond space and time. Prayer is universal in nature. Prayer can engulf both, physical world and non-physical world. There is a difference between physical power and spiritual power. Physical power is bound to create reaction. Newton's well known formula applies here: every action has equal and opposite reaction. In other words, physical power always creates some new problem. Even it can prove to be counter-productive. It is not possible to use

اس کانفرنس کے موقع پر کئی گروپ نے انٹرویو لیے۔ ان میں سے ایک ویٹکن ریڈیو کا انٹرویو 7 ستمبر 2009 کو وہ شریٹن (Sheraton) ہوٹل کے میرے کمرے میں آئے اور تفصیلی انٹرویو

انٹرویو ر کا نام مسٹر اسٹیفینو (Stefano Leszczynsti) تھا۔ ان کا ایک سوال یہ تھا کہ آپ کا مشن کیا ہے۔ میں نے بتایا کہ ہمارا مشن پیس اور اسپرچوئلٹی کو فروغ دینا ہے اور اسلام کی مثبت تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانا اور اسلام کے بارے میں لوگوں کی غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے۔ ان کا ایک سوال یہ تھا کہ یورپ میں اسلام کی جو منفی تصویر بن گئی ہے، وہ کس طرح درست کی جائے۔ میں نے کہا کہ ہم اس پہلو سے مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ ہم لوگوں کو یہ بتائیں کہ آپ اسلام اور مسلمانوں میں آپ مسلمانوں کے کسی عمل کو لے کر اسلام کے بارے میں رائے قائم نہ کریں، بلکہ براہ راست قرآن اور حدیث کی روشنی میں اسلام کو سمجھنے کی کوشش کریں:

You have to differentiate between Islam and Muslims, you have to judge Muslims in the light of Islamic teachings and not vice versa. اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، یکم اگست 2009 کو پاکستانی پنجاب کے شہر گوجرہ میں ’’قرآن کی بے حرمتی‘‘ کے نام پر وہاں کے مشتعل گروہ نے ایک مسیحی آبادی پر حملہ کر دیا۔ اس موقع پر مسیحیوں کے تقریباً 40 گھر نذر آتش کر دیئے گئے تھے جس میں کئی مسیحی افراد ہلاک ہو گئے۔ ویٹکن آ رک بشپ آف کینٹر بری اور ورلڈ کونسل آف چرچز (WCC) نے ان واقعات کی مذمت کی تھی۔

میں نے کہا کہ ’’قرآن کی بے حرمتی‘‘ کے نام پر اس طرح کا کام بلاشبہ ایک مجرمانہ کام ہے، وہ کوئی دینی کام نہیں۔ قرآن اور حدیث میں کہیں یہ تعلیم نہیں دی گئی ہے کہ جو لوگ بظاہر قرآن کی بے حرمتی کریں، ان کو مارو اور ان کے گھروں کو جلاؤ۔ قرآن اور حدیث میں اگر کسی کام کو قابلِ سزا قرار دیا گیا ہو، تب بھی یہ سزا ایک باضابطہ عدالت دے سکتی ہے۔ عوام کو کسی بھی حال میں اور کسی بھی عذر کی بنا پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔ جو لوگ ایسا کریں، وہ فساد برپا کرنے والے لوگ ہیں، نہ کہ اسلام کو ماننے والے لوگ۔

دوسری بات یہ کہ اس طرح کے واقعات کے اصل ذمے دار عوام نہیں، بلکہ علماء ہیں۔

مسلسل ایسا کیا ہے کہ وہ’’ قرآن کی بے حرمتی‘‘ اور’’ رسول کی گستاخی‘‘ جیسے موضوعات پر جذباتی تقریر کر کے یا جذباتی تحریریں شائع کر کے لوگوں کو مشتعل کر رکھا ہے۔ یہی اشتعال مذکورہ قسم کے واقعات کی شکل میں ظاہر ہوتاہے۔ علماء کی دوسری غلطی یہ ہے کہ وہ اس قسم کے مسلمانوں کو کھلے طور پرکنڈم نہیں کرتے، وہ ان کا ہاتھ نہیں پکڑتے۔ یہی وہ علماء ہیں جن کو حدیث میں علماء سوء کہا گیا ہے۔ انٹرویو کا ایک سوال یہ تھا کہ انڈیا میں فرقہ وارانہ ذہنیت کی موجودگی میں ڈائلاگ کس طرح اس کے جواب میں بتایا گیا کہ اختلافات فطری ہیں۔ اصل مسئلہ اختلاف کا ہونا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اختلاف کے بارے میں رواداری (tolerance) کا ذہن لوگوں کے اندر میں نے کہا کہ یورپ میں بھی اس طرح کے اختلافات ہیں، لیکن وہاں اختلافات سنگین مسئلہ نہیں بنتے، کیوں کہ وہاں ڈائلاگ کلچر ہے، جب کہ انڈیا میں ڈیبیٹ کلچر (debate culture) ہے۔ میں اور میرے ساتھی یہ کوشش کر رہے ہیں کہ انڈیا میں بھی لوگوں کے درمیان ڈائلاگ کلچر آجائے۔ انٹرویو کے دوران ایک بات یہ کہی گئی کہ اصلاح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مسلم کمیونٹی کے افراد خود اپنی کمیونٹی کی غلطیوں کے خلاف بولیں، اور ہندو کمیونٹی کے افراد ہندو کمیونٹی کے غلطی پر تنقید کریں۔ مسلمان اگر ہندو کمیونٹی کے خلاف بولیں یا ہندو، مسلم کمیونٹی کے خلاف بولیں تو اصلاح کے نقطہ نظر سے اس کا کوئی فائدہ نہیں۔

میں نے ایک بات یہ کہی کہ سیاسی اعتبار سے ویٹکن میں مسلمانوں کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ موجود ہے۔ انیسویں صدی عیسوی میں پوپ اور اسٹیٹ کے درمیان وہی مسئلہ پیدا ہوا جو ترکی میں خلیفہ اور سیکولر گورنمنٹ کے درمیان پیدا ہوا۔ پوپ نے دانش مندی سے کام لیتے ہوئے ٹکراؤ کو ختم کر دیا اور اُس حکیمانہ فارمولے کو اختیار کیا جس کو کم پر راضی ہونا کہا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ویٹکن کے نام سے ان کی ایک چھوٹی سی ریاست قائم ہوگئی اور اس طرح پوپ کا تاریخی ٹائٹل باقی رہا۔ اس کے برعکس، ترکی کے معاملے میں یہ ہوا کہ ساری دنیا کے علماء اور غیر علماء خلافت کو اس کی مکمل صورت میں باقی رکھنے پر اصرار کرتے رہے۔ اس کا اندوہ ناک انجام یہ ہوا کہ’’ خلیفہ ‘‘کا تاریخی ٹائٹل

ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانے کے مسلم علما نے مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے نزاعی معاملات میں صرف منفی رول ادا کیا، اس طرح کے کسی بھی معاملے میں وہ مثبت رول ادا نہ کر سکے۔ موجودہ زمانے کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے علما، عرب اور غیر عرب دونوں، صرف روایتی مسائل سے واقف تھے، وہ جدید دور کے مسائل سے بے خبر تھے۔ اس بنا پر یہ ہوا کہ جب بھی کوئی نیا مسئلہ پیش آیا تو انھوں نے فوراً رد عمل کا اظہار کیا۔ حالاں کہ صحیح یہ تھا کہ نئے مسائل پیش آنے کے بعد وہ ری ایڈجسٹ مینٹ (re-adjustment) کا طریقہ اختیار کریں۔ مثلاً انھوں نے موجودہ زمانے میں سیکولر ازم کو لا دینیت کہہ کر رد کر دیا، اور جمہوریت کو غیر اسلامی بتا کر وہ اس کے خلاف ہو گئے۔ حالاں کہ ان دونوں کے معاملے میں علما کو ری ایڈجسٹ مینٹ کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے تھا، نہ یہ کہ وہ ان جدید نظریات کو غیر اسلامی بتا کر اُن کے مخالف بن جائیں۔

مغربی دنیا کا سفر کرتے ہوئے ایک احساس یہ ہوتا ہے کہ اہل مغرب ہی وہ لوگ ہیں جن کو قرآن میں یا جوج اور ماجوج (الأنبیاء: 96) کہا گیا ہے۔ مغربی قوموں نے جس طرح فطرت کے چھپے ہوئے رازوں کو کھولا اور جدید تہذیب بنائی، وہ تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل مغرب کو ایک اہم کام کا ذریعہ بنایا، وہ ہے— موجودہ دنیا میں جنت کا تعارف جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: ويدخلهم الجنة عرفها لهم (محمد: 6)۔ پر رونق مغربی تہذیب کے ظہور سے پہلے جنت زیادہ تر ایک اعتقادی چیز تھی۔ اب وہ ایک متعارف چیز بن چکی ہے۔ یہ کام بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اہل مغرب سے لیا ہے۔ مثال کے طور پر قدیم زمانے میں کہا جاتا تھا کہ: السفر كالسقر (سفر جہنم کے مانند ہے) جب کہ آج کا مسافر، حدیث کے الفاظ میں، كالملوك على الأسره (تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کے مانند) ہوتا ہے۔ جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ جنتیں دو ہیں (الرحمن: 46)۔ مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر جنت کی دو کیٹیگری (category) ہے۔ ایک، وہ جس کو قرآن میں خدا کا پڑوس (التحریم: 11) کہا گیا ہے۔ جنت کے اس درجے کو ’’ عند اللہ کیٹیگری‘‘ کہہ

اہلِ جنت کی دوسری قِسم وہ ہے جو خدا کے پڑوس میں تو جگہ نہیں پائیں گے، لیکن وہ جہنم کے عذاب سے محفوظ رہیں گے (الأنبياء: 101)۔ جنت کے اس درجے کو قرآن کے الفاظ میں’’مبعد عن النار کیٹیگری‘‘ کہا جا سکتا ہے۔

پولینڈ کی یہ کانفرنس ایک انٹرنیشنل کانفرنس تھی۔ اس کانفرنس میں کئی عرب علماء آئے ہوئے ایک عرب عالم نے اس کانفرنس کے بارے میں کچھ شکایتی بات کہی۔ میں نے کہا کہ آپ اس طرح سوچیئے کہ کیا آپ کسی عرب ملک میں اس طرح کی منظم کانفرنس اتنے بڑے پیمانے پر کر سکتے انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر آپ اس پہلو پر غور کیجئے اور اس سے سبق لیجئے۔ انٹرنیشنل کانفرنس تھی، لیکن ہر پہلو سے وہ نہایت منظم تھی۔ ایسا منظم اجتماع کسی بھی مسلم ملک میں نہ میں نے دیکھا اور نہ میں نے سنا۔

یہاں میں نے دیکھا کہ کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو کے کئی عورت اور مرد روانی کے ساتھ عربی زبان بول رہے تھے۔ ہمارے ایک ساتھی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے عربی زبان کیسے سیکھی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا سابقہ بار بار عربوں کے ساتھ پیش آتا ہے، اس لیے ہم نے باقاعدہ کوشش کر کے عربی زبان سیکھی، تاکہ ہم براہ راست عربوں سے تعلق قائم کر سکیں۔

قرآن اور حدیث دونوں میں بتایا گیا ہے کہ مسیحی لوگوں میں خصوصی طور پر رافت اور رحمت کی صفت پائی جاتی ہے۔ خود میں نے بار بار اس کا تجربہ کیا ہے۔ قرآن میں اُن کے متعلق، رافت اور رحمت (الحديد: 27) کا لفظ آیا ہے۔ اور حدیث میں اس معاملے کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: إنّهم لأحلم الناس عند فتنة، وأجبر الناس عند مصيبة، وخير الناس لمساكينهم وضعفائهم (صحيح مسلم، كتاب الفتن وأشراط الساعة)

میں سمجھتا ہوں کہ اس کا سبب غالباً حضرت مسیح کی ایک استثنائی تعلیم ہے۔ حضرت مسیح نے اپنے ایک بیان میں حواریین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ؀اپنے دشمن سے محبت کرو: Love your enemies (Luke 6: 35)

میرے علم کے مطابق، مذکورہ الفاظ میں’’دشمن سے محبت‘‘ کی تعلیم استثنائی طور پر صرف مسیحیت

میں پائی جاتی ہے۔ غالباً اسی تعلیم کا یہ نتیجہ ہے کہ مسیحیوں میں رافت اور رحمت کلچر بہت زیادہ عام ہوا، حتی کہ وہی ان کی پہچان بن گیا۔ مسیحی حضرات کی اس استثنائی صفت کا تجربہ مجھے اس کا نفرنس کے دوران بھی بار بار ہوا۔

مسلمانوں کی نفسیات اور مسیحی لوگوں کی نفسیات کے تقابلی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کی جو سیاسی تاریخ بنی اور ان کے یہاں جو لٹر پچر تیار ہوا، اُس کے نتیجے میں مسلمانوں کا ذہن یہ بنا کہ دشمن سے لڑو: Fight your enemy اِس کے برعکس، مسیحی لوگوں کا ذہن ان کی روایات کے مطابق، یہ بنا کہ دشمن سے محبت کرو: Love your enemy یہی نفسیات دونوں قوموں کے اندر عمومی طور پر پائی جاتی ہے۔ جہاں تک صلیبی جنگوں، یا پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ کا معاملہ ہے، وہ مسیحی عوام کی نفسیات کا مظہر نہ تھا، بلکہ وہ کچھ مسیحی لیڈروں کی سیاسی معرکہ آرائی اور کشور کشائی کا نتیجہ تھا۔

کمیونٹی کے ایک ذمے دار ڈاکٹر فیڈ رکو (Federico Di Leo) نے مجھ سے کہا کہ آپ چند ایسے مسلم اسکالر کے نام ہمیں دیجیئے جو آپ کے نزدیک امن کی واقعی اہمیت کو جاننے والے میں نے اپنے ساتھی کو چند نام بتائے۔ میرے ساتھی نے مسٹر فیڈ رکو سے کہا کہ مولانا نے کچھ نام بتائے ہیں، لیکن اس وقت ہمارے پاس ان لوگوں کا مکمل ایڈریس موجود نہیں ہے۔ ہم انڈیا پہنچ کر آپ کو ان کا پورا ایڈریس روانہ کر دیں گے۔

مسٹر فیڈ رکو نے کہا کہ نہیں، ہم لوگ لیت و لعل (procrastination) کو پسند نہیں کرتے۔ آپ کو ان لوگوں کے نام معلوم ہیں تو آپ اس وقت ہم کو صرف ان کے نام لکھوا دیجیئے۔ بعد کو ہم آپ سے ان کا مکمل ایڈریس حاصل کر لیں گے۔ کیا معلوم ہم لوگ یہاں سے واپس جا کر بھول جائیں اور یہ اہم کام پورا ہونے سے رہ جائے۔

6 ستمبر 2009 کی شام کو کانفرنس کے شرکاء کو ایک خصوصی ریسپشن (reception) دیا گیا۔ ریسپشن کریکو کے میئر (Mayor of Krakow) کی طرف سے تھا۔ یہ دعوت نامہ انگریزی اور پولش (Polish) زبان میں تھا۔ اس کے انگریزی الفاظ یہ تھے:

Mayor of Krakow Has the honor of inviting you to a reception on the international meeting for Peace-People and Religions The Spirit of Assisi in اس کی دعوت پر ہمارے ساتھیوں نے میئر آف کریکو کے پیلیس (Wielopolski Palace) میں رکھے گئے اس ریسپشن میں شرکت کی۔ یہاں شرکاء کانفرنس کے علاوہ، اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اور مختلف ملکوں کے اعلیٰ عہدے داران موجود تھے۔ ہمارے ساتھیوں نے ان لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ شرکاء نے اس کو نہایت خوشی کے ساتھ قبول کیا اور شکریہ ادا کیا۔ اس تجربے کے بعد میرے ایک ساتھی نے کہا کہ قدیم مذہبی جبر کے زمانے میں حاکم وقت خود اپنی طرف سے داعی کو اپنے محل میں نہیں بلاتا تھا۔ داعی کو خوف (طٰہ: 45) کی نفسیات کے تحت وہاں جانا پڑتا تھا۔ اب زمانہ اتنا زیادہ بدل چکا ہے کہ خود حاکم وقت داعی کو اپنے محل میں بلاتا ہے اور وہاں اس کے ساتھ عزت و اکرام کا معاملہ کرتا ہے۔ اس طرح داعی کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ خدا کے کلام کو حاکم وقت اور اس کے دوسرے ساتھیوں کے سامنے پیش کرے جس کو وہ خوشی کے ساتھ قبول کریں۔ پولینڈ کی یہ کانفرنس تین دن تک جاری رہی۔ اس کے ہر پینل میں ہمارے ساتھیوں نے کھلے طور پر قرآن کا انگریزی ترجمہ لوگوں کو مطالعے کے لیے دیا اور لوگوں نے اس کو شوق سے لیا اور اپنی پسندگی کا اظہار کیا۔ خود کمیونٹی کے افراد نے ہمارے ساتھیوں کے ساتھ اس سلسلے میں تعاون اور حوصلہ افزائی کا معاملہ کیا۔

کانفرنس کے ایک ذمے دار ڈاکٹر فلپو (Philippo Sbrana) نے ہمارے یہاں سے چھپے ہوئے انگریزی ترجمہ قرآن کو اپنے ہاتھ میں لیا اور سب کے سامنے اپنی پسندیدگی کا اظہار

کرتے ہوئے کہا کہ— یہ قرآن کا پیس فل ترجمہ ہے:

Printed page