معرفتِ اعلیٰ کی مثال
Al-Risala, April 2010, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
عبد اللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ اُن سے بیان کیا ذکوان نے جو کہ حضرت عائشہؓ کے دربان وہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس آئے اور انھوں نے حضرت عائشہؓ سے ملنے کی اجازت چاہی۔ میں حضرت عائشہؓ کے پاس گیا۔ اُس وقت ان کے بھتیجے عبد اللہ بن عبد الرحمن ان کے پاس بیٹھے ہوئے میں نے حضرت عائشہؓ سے کہا کہ عبد اللہ بن عباس آئے ہیں اور وہ آپ سے ملنے کی اجازت ان کے بھتیجے ان کی طرف جھکے اور کہا کہ یہ عبد اللہ بن عباس ہیں۔ حضرت عائشہؓ اُس وقت موت کے قریب تھیں۔ انھوں نے کہا کہ چھوڑو ابن عباس کو۔ انھوں نے کہا کہ اے میری ماں، ابنِ عباس آپ کی اولاد کے صالحین میں سے ہیں۔ وہ آپ کو سلام کہہ رہے ہیں اور آپ سے ملنے کی اجازت انھوں نے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو تو ان کو اجازت دے دو۔ پھر میں نے عبد اللہ بن عباس کو اندر داخل کیا۔ وہ بیٹھے اور کہا: آپ کو بشارت ہو، کیوں کہ آپ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب سے ملاقات میں اب اتنی ہی دوری ہے کہ روح آپ کے جسم سے نکل جائے۔ آپ، رسول اللہ صلی اللہ کی ازواج میں سب سے زیادہ محبوب تھیں اور رسول اللہ صرف پاک روح سے محبت کر سکتے تھے۔ رات میں آپ کا ہار گر گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے رات کو روانہ ہوئے، یہاں تک کہ منزل پر صبح کی۔ اُس وقت لوگوں کے پاس پانی نہیں تھا، تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت (المائدہ: 6) یہ آپ کے سبب سے ہوا۔ اِس طرح امت کے لیے رخصت کا حکم اترا۔ اور آپ کے لیے ساتویں آسمان سے برأت لے کر جبریلِ امین اترے۔ چناں چہ ہر مسجد میں صبح و شام آپ کا ذکر ہونے لگا اور وہ آیتیں پڑھی جانے لگیں۔ اِس کو سن کر حضرت عائشہؓ نے کہا: دعنی منك يا ابن عباس، فوالذي نفسي بيده، لوددتُ أنّي كنت نسياً منسياً (اے ابن عباس، مجھ کو چھوڑو۔ ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں تو یہ چاہتی ہوں کہ میں بھولی بسری بن جاؤں (الطبقات الكبرى لابن سعد، جلد 8، صفحہ 51، بحوالہ: كتاب احكام النساء لعبد الرحمن بن علی الجوزی، صفحہ 431، الطبعة الثانية، 1993، وزارة الاوقاف والشئون الاسلامية، قطر)