Al-Risala · April 2010

نفسیاتی خودکشی سے بچئے

Al-Risala, April 2010, pp. 35–39

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ میں مستقل طور پر منفی احساس میں مبتلا رہتا اس کا علاج کیا ہے۔ میں نے اس کا متعین سبب پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ مثال کے طور پر میرے گھر میں ٹی وی چلتا ہے۔ میں ایک عالم آدمی ہوں اور ٹی وی کو برا سمجھتا ہوں۔ میں اُن کو منع کرتا ہوں، لیکن گھر والے میری بات نہیں سنتے۔ ایسی حالت میں میں کیا کروں۔ میں نے کہا کہ اس طرح کی صورتِ حال میں اسلام کا فارمولا یہ ہے۔ اگر تم دوسروں کو نہ بچا سکو، تو تم اپنے آپ کو بچاؤ۔ اسی کا نام صبر ہے۔ صبر کوئی بزدلی کی بات نہیں ، صبر زندگی کی ایک عظیم حکمت اجتماعی زندگی میں آدمی کو ہمیشہ اپنے مزاج کے خلاف ماحول میں رہنا پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر تم پر امن طور پر دوسروں کی اصلاح کر سکو تو تم دوسروں کی اصلاح کرو۔ اگر ایسا کرنا تمھارے لیے ممکن نہ ہو تو تم خود اپنے آپ کو اُس برائی سے بچاؤ۔ اسی کا نام صبر ہے۔ منفی احساس میں مبتلا ہونا کوئی سادہ بات نہیں، یہ نفسیاتی خودکشی کے ہم معنی ہے۔ ایسے موقع پر دوسروں کے خلاف تشد د کرنا جتنا برا ہے، اتنا ہی برا یہ بھی ہے کہ آدمی منفی احساس میں مبتلا رہے۔ طریقہ اگر دوسروں کے خلاف ظلم ہے، تو دوسرا طریقہ خود اپنے خلاف ظلم۔ اور دونوں ہی طریقے بلاشبہ یکساں طور پر غیر مطلوب طریقے ہیں۔

موجودہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو آزادی دی ہے۔ قیامت تک کسی کی آزادی ختم ہونے والی نہیں، اس لیے قیامت تک برائی کا کلی خاتمہ بھی ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے صرف ایک ہی ممکن صورت ہے، وہ یہ کہ وہ امن اور خیر خواہی کے ساتھ دوسروں کی اصلاح کی کوشش کرے۔ اور جب وہ دیکھے کہ لوگ اصلاح قبول کرنے والے نہیں ہیں، اُس وقت وہ وہی کرے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: عليك بنفسك، ودع عنك العوام (أبوداؤد، كتاب الملاحم، باب الأمر والنهي) یعنی اپنے آپ کو بچاؤ اور لوگوں کے معاملے کو اللہ کے حوالے کردو۔

سوال و جواب ماہ اکتوبر (2009) کا شمارہ نظر نواز ہوا۔ ویسے تو آپ کی ہر تحریر مبنی بر حقیقت اور گہرے درد میں ڈوبی ہوتی ہے، لیکن مذکورہ شمارہ میں جو کچھ آپ نے مسئلہ فلسطین پر سپرد قرطاس کیا ہے، میں اس سے کلی طور پر اتفاق کرتا یہ حقیقت دراصل بہت لوگوں کے گوشہائے قلب و دماغ میں ہے، مگر اندیشۂ مخالفت، خوفِ بدنامی، اتہام و الزام کا ڈر اظہار سے مانع ہے۔ مجھے دل کی گہرائیوں سے سلام کرنے کو جی چاہتا ہے آپ کے عزیمت بھرے اور شجاعتِ اظہار سے پر قلم کو۔ ہو سکتا ہے بہت سے تنگ دماغوں اور مزاجِ شریعت سے نا آشنا لوگوں کے لئے یہ بات نا قابلِ قبول بلکہ ایمان و اسلام کے منافی ہو، لیکن حقیقت یہی ہے کہ جو بات آپ نے رقم فرمائی ہے، وہ نصوصِ ثابتہ اور تاریخ سے واضح طور پر سمجھ میں آ رہی ہے۔ قُدس اور فلسطین کا مسئلہ جو ساری امت اسلامیہ کے لیے سوہانِ روح بن چکا ہے، اس کی افزائش میں انا کا بہت دخل ہے۔ حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اگر سوچا جائے تو یہ بات صاف طور پر سمجھ میں آ جاتی ہے۔ میری تو تمنا اور خواہش ہے کہ اس مسئلہ کو صرف الرسالہ تک ہی محدود نہ کر دیا جائے بلکہ عالمی مسلم اور یہودی رہنماؤں کے سامنے اس بات کو پر امن حل کے طور پر پیش کیا جائے ۔ انٹر نیشنل لیول پر اس بات کو رکھا جائے، اور مسئلہ کے اس غیر متشددانہ حل کو پیش کیا جائے تا کہ اہل عقل اس قندیل کی روشنی میں مستقبل کی راہوں کا تعین کر سکیں۔ امید کہ آپ اس بات کی طرف توجہ دیں گے۔ محترم، اس پورے مضمون میں ایک سوال میرے دل میں کھٹکتا رہا کہ آپ نے صفحہ نمبر 21 پر یہ بات رقم فرمائی ہے کہ ــــ نزول قرآن کے وقت یہاں کوئی عمارت نہیں تھی، بلکہ صرف ہیکل کی خالی جگہ (site) تھی۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں 638ء میں مسلمان یروشلم میں داخل حضرت عمر نے ہیکل کی جگہ پر کوئی عمارت تعمیر نہیں کی۔ بعد کو اموی دور میں خلیفہ عبد الملک بن مروان وفات 706 ء نے ہیکل کی جگہ 688ء میں موجودہ مسجد اقصیٰ تعمیر کی۔ مگر قرآن میں جہاں واقعہ اسراء کا تذکرہ ہے ــــ من المسجد الحرام إلى المسجد الاقصىٰ (بنى إسرائيل : 1)۔ وہاں مسجد اقصیٰ کا صاف طور پر نام لیا گیا ہے۔ اور صحیح ترین روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد اقصیٰ

میں تمام انبیاء کی امامت فرمائی ہے اور بعض تاریخی روایات سے یہ بات بالکل صاف طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت وہاں مسجد الاقصیٰ موجود تھی۔ حافظ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں فتح بیت المقدس کے تحت حضرت عمر کے بارے میں ذکر کیا ہے "ودخل المسجد من الباب الذى دخل منه رسول الله صلى الله عليه وسلم (البداية والنهاية 8/55) حافظ ابن عسا کر دمشقی نے اپنی مشہور کتاب المستقصى فى فضائل المسجد الاقصی میں عہد فاروقی میں فتح بیت المقدس اور تعمیر و توسیع مسجد اقصیٰ کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ نیز ابن کثیر نے المسجد اقصیٰ کے تحت حضرت عمر کے بارے میں ذکر کیا ہے: ثم نقل التراب عن الصخرة فى طرف ردائه (البداية والنهاية 8/58)- حافظ ضیاء الدین مقدسی نے امام احمد کے واسطہ سے ایک لمبی تاریخی روایت ذکر کی ہے جس میں نزول قرآن کے وقت مسجد اقصیٰ کے وجود اور عہد فاروقی میں اس کی تعمیر و توسیع صاف طور پر معلوم ہوتی ہے۔ براہِ کرم، اس شبہہ کا ازالہ اور اس کنفیوژن کو دور فرمائیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ (محمد ثناء اللہ قاسمی، محبوب نگر، آندھرا پردیش) 1- مسجد اقصیٰ کے بارے میں مسلم تاریخوں میں جو بات کہی گئی ہے، وہ میرے علم میں ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی لکھی ہوئی تاریخی کتابوں کے علاوہ، جو دیگر تاریخی ریکارڈ ہے، وہ اس سے مختلف ہے۔ ایسی حالت میں ہمارے لیے ایک ہی راستہ ہے، وہ یہ کہ دونوں میں سے ایک کے بیان کو اصل مانیں اور دوسرے بیان کی تاویل کریں۔ میں نے اس معاملے میں، مسلم مورخین کے بیان کو تاویل کے خانے میں ڈالا ہے اور دوسرے تاریخی ریکارڈ کو اصل قرار دیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ابن خلدون (وفات: 1406ء) سے پہلے، مسلم تاریخ نگاروں کے یہاں عام طور پر علمی ذوق کا رواج وہ خالص تاریخی واقعات کے ساتھ مروجہ قصہ کہانیوں کو بھی اس میں شامل کر دیتے تھے۔ لیے اُس زمانے میں لکھی ہوئی تاریخوں پر کلی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

2- مسجد اقصیٰ کے بارے میں جو بات میں نے لکھی ہے، وہ بظاہر عمومی تصور کے خلاف ہے، لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ اس رائے کی اصل دوسرے مسلم محققین کے یہاں بھی موجود ہے۔

طور پر عبد اللہ بن احمد النسفی (وفات : 1310ء) نے اپنی تفسیر ”مدارك التنزيل“ میں سورہ الاسراء کی آیت نمبر 1 کے تحت مسجد اقصی کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: هو بيت المقدس، لأنه لم يكن حينئذ وراء ہ مسجد (جلد 2، صفحہ 306) یعنی مسجد اقصی سے مراد بیت المقدس ہے، کیوں کہ اُس وقت وہاں کوئی مسجد موجود نہ تھی۔ واضح ہو کہ قرآن کی آیت میں مسجد حرام سے مراد مسجد ہے، لیکن مسجد اقصی سے مراد معروف مسجد نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد عبادت گاہ ہے، یعنی یہودی عبادت گاہ جس کو ہیکل سلیمان (Solomon's Temple) کہا جاتا ہے۔

محمد بن احمد الانصاری القرطبی (وفات : 1273ء) نے اپنی تفسیر ”الجامع لأحكام القرآن“ میں سورہ آل عمران کی آیت نمبر 96 کے تحت مسجد اقصی کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے: وأما المسجد الأقصى، فبناه سليمان عليه السلام، كما خرجه النسائي بإسناد صحيح من حديث عبد الله بن عمرو (جلد 4، صفحہ 173) یعنی جہاں تک مسجد اقصی کا تعلق ہے، تو اس کو سلیمان علیہ السلام نے بنایا تھا، جیسا کہ النسائی نے صحیح اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے۔ قاضی محمد ثناء اللہ العثمانی (وفات: 1810ء) نے اپنی تفسیر ”التفسير المظهري“ میں سورہ الاسراء کی اِس آیت کے تحت مسجد اقصی کی تشریح میں یہ الفاظ لکھے ہیں: المسجد الأقصى، یعنی البيت المقدس سُمِّي أقصى لبُعده من المسجد الحرام، ولم يكن حينئذ ورائه مسجد (جلد 5، صفحہ 399) یعنی مسجد اقصی سے مراد بیت المقدس ہے۔ بیت المقدس کو مسجد اقصی کا نام اس لیے دیا گیا کہ وہ مکہ کی مسجد حرام سے دور یروشلم (فلسطین) میں واقع تھی۔ مولانا عبد الماجد دریابادی (وفات: 1977ء) نے اپنی انگریزی تفسیر ”تفسیر القرآن“ میں سورہ الاسراء کی اِس آیت کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ـــ یہاں لفظ مسجد سے مراد جگہ (site) ہے، نہ کہ مسجد کی کوئی عمارت :

Masjid: properly denotes the site, not the building of a mosque (Vol. 3, p. 2)

اس معاملے کی مزید تفصیل الرسالہ کے شمارہ، دسمبر 2009 میں صفحہ 41-39 کے تحت دیکھی جاسکتی ہے۔

آپ نے لکھا ہے کہ اس مسئلے کو صرف الرسالہ تک محدود نہ کردیا جائے، بلکہ عالمی سطح کے مسلم اور یہودی رہنماؤں کے سامنے اس بات کو ایک پرامن حل کے طور پر پیش کیا جائے، تاکہ اہلِ عقل اس کی روشنی میں مستقبل کی راہوں کا تعین کرسکیں۔

آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ کام بالفعل ہورہا ہے۔ 29-27 اکتوبر 2008 کو اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب (Tel Aviv) میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس خاص اسی موضوع پر ہوئی۔ اس میں دنیا کے 50 ملکوں کے رہنما شریک ہوئے۔ ان میں ریاست اسرائیل کے صدر مسٹر شمعون پیریز کے علاوہ اعلیٰ سطح کے یہودی، مسیحی اور مسلم رہنما موجود تھے۔ فلسطین کے عرب نمائندے بھی بڑی تعداد میں اس کانفرنس میں شریک تھے۔ اس کانفرنس کی دعوت پر راقم الحروف نے اپنے 6 ساتھیوں کے ہم راہ اس میں شرکت کی، اور وہاں تقریر اور ڈسکشن کے ذریعے اپنا نقطہ نظر لوگوں کے سامنے رکھا۔ موقع پر شرکاء کانفرنس کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر دیا گیا۔ اس کے علاوہ، خاص اسی موقع کے لیے انگریزی زبان میں 15 صفحات کا ایک پمفلٹ تیار کیا گیا تھا۔ اس کا ٹائٹل یہ تھا: How to Establish Peace in the Holy Land— Ten Point Program یہ پمفلٹ بڑے پیمانے پر کانفرنس کے شرکاء اور مقامی لوگوں کو دیا گیا۔ اس پمفلٹ کو سی پی ایس کی ویب سائٹ (www.cpsglobal.org) پر دیکھا جاسکتا ہے۔

Printed page