سوال و جواب
Al-Risala, April 2010, pp. 39–41
By Maulana Wahiduddin Khan
الحمد للہ میں’’ الرسالہ‘‘ کا مطالعہ گزشتہ دو سالوں سے کر رہا ہوں ۔ الرسالہ کے ہر مضمون سے نفع حاصل ہوتا ہے۔ اب میرے ساتھ یہ معاملہ ہوگیا ہے کہ نہ صرف میں خود الرسالہ پڑھتا ہوں، بلکہ اپنے دوستوں کو بھی پڑھنے کے لیے دیتا ہوں، کیوں کہ الرسالہ میں اسلامی تعلیمات کو اس انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ پڑھنے اور سننے والے کے مائنڈ کو ایڈریس کرے ۔ میرے ذہن میں کچھ سوالات تھے جو مسلسل الرسالہ کا مطالعہ کرنے سے دور ہوگئے، لیکن دورانِ مطالعہ کئی بار ایسا محسوس ہوا کہ چند موضوع پر آپ کے افکار متضاد ہوتے ہیں مگر کبھی اس کے ذکر کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ مگر گزشتہ دو ماہ
(جنوری اور فروری 2009) کے الرسالہ میں ایک ہی موضوع پر دو مختلف آراء نے مجھے مجبور کیا کہ اس طرف آپ کی توجہ مبذول کروں۔ جنوری اور فروری 2009 کے الرسالہ کو راقم نے پورا پڑھا۔ شمارہ میں’’ ظاہری تبدیلی، حقیقی تبدیلی‘‘ کے زیر عنوان آپ نے امریکی میگزین ٹائم (17 نومبر 2009) پر شائع براک اوباما کی تقریر کا پہلا جملہ ’’ تبدیلی امریکہ تک پہنچ گئی‘‘ Change has come to America پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ امریکا میں جو چیز بدلی ہے، وہ صرف وہاں کی صدارت ہے۔ نہ کہ وہاں کے حالات۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ اس طرح کہا جائے کہ Change has come to American Presidency (صفحہ 13)
اسی موضوع پر فروری 2009 کے ’’الرسالہ‘‘ میں آپ رقم طراز ہیں کہ ’’واقعہ بتاتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں وائٹ پریذیڈنٹ کی جگہ ایک بلیک پریذیڈنٹ آ گیا ہے۔ یہ ایک بڑا واقعہ ہے۔ براک اوباما نے جیت کے بعد اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ امریکا میں تبدیلی آگئی۔ میں کہوں گا کہ دنیا میں تبدیلی آگئی‘‘ (قبرص کا سفر، صفحہ 34)۔ مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ ایک جگہ آپ کہتے ہیں کہ امریکا میں جو چیز بدلی ہے، وہ صرف وہاں کی صدارت ہے، نہ کہ وہاں کے حالات۔ اور دوسری جگہ آپ صرف امریکا کی تبدیلی کو قبول نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ دنیا کی تبدیلی خیال کر رہے ہیں۔ جنوری 2009 کے ہی شمارہ میں آپ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’لوگ ظاہری تبدیلی کو حقیقی تبدیلی سمجھ پانچ سال تک براک اوباما اس طرح پرشور الفاظ بولتے رہیں گے، یہاں تک کہ جب پانچ سال پر ان کا دور صدارت ختم ہوگا تو معلوم ہوگا کہ حقیقی معنوں میں کوئی بھی ایسا کام نہیں ہوا، جس کو تبدیلی (change) کہا جاسکے، امریکا کے اصل مسائل بدستور موجود ہیں، بلکہ اُن میں مزید اضافہ ہوگیا‘‘ (صفحہ 13)۔ شماروں میں آپ کے اقتباسات خود ایک دوسرے کو رد کر رہے ہیں۔ آپ سے التماس ہے کہ اس تضاد بیانی سے متعلق وضاحت فرما کر میری الجھن کو دور کریں۔ (شاہد جمیل، بیل گچھیا اردو ہائی اسکول، کولکاتا) آپ کا خط مورخہ 30 مارچ 2009 ملا۔ آپ الرسالہ کو مسلسل اپنے مطالعے میں رکھیں اور ہر
شمارے کو کئی بار پڑھیں ۔ ان شاء اللہ آپ کے تمام شبہات دور ہو جائیں گے۔
مذکورہ دونوں مضامین میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ دونوں بیان دو پہلوؤں کے اعتبار یہ ایک واقعہ ہے کہ سماجی اور اقتصادی اعتبار سے امریکا میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انتخاب بتاتا ہے کہ امریکا میں ایک نیا رجحان ضرور پیدا ہوا ہے، ورنہ وہاں ایک بلیک شخص کو صدر کے لیے منتخب نہ کیا جاتا۔ ہر معاملے کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ کبھی ایک پہلو کے اعتبار سے بات کہی جاتی ہے اور کبھی دوسرے پہلو کے اعتبار سے۔ اس قسم کی مثالیں قرآن اور حدیث میں بھی موجود ہیں۔ میں اہل ضلالت کے لیے ایک جگہ اعمیٰ (الإسراء : 72) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اور اُنھیں کے لیے دوسری جگہ بصرِ حديد (ق: 22) کا لفظ آیا ہے۔ یہ دونوں باتیں دو پہلوؤں کے اعتبار سے ہیں۔