Al-Risala · May 2010

یاجوج اور ماجوج

Al-Risala, May 2010, pp. 2–4

By Maulana Wahiduddin Khan

یاجوج اور ماجوج کا ذکر قرآن میں دو مقام پر آیا ہے (الکہف: 94؛ الأنبياء: 96)۔ حدیث کی کتابوں (صحيح البخاري، صحيح مسلم، الترمذی، ابن ماجه، مسند احمد) میں بھی متعدد روایات کے تحت، یاجوج اور ماجوج کا تذکرہ موجود ہے۔ اسی طرح بائبل کے

بعض ابواب مثلاً حزقی ایل(Ezkiel) میں یا جوج اور ماجوج (Gog and Magog) کا تذکرہ پایا جاتا دوسرے مذاہب میں بھی یا جوج اور ماجوج کا ذکر موجود ہے۔ مثلاً ہندوازم کی مقدس کتاب پران میں یا جوج اور ماجوج کو کوکا اور وکوکا (Koka and Vikoka) کا نام دیا گیا ہے۔ قرآن کی تفسیروں اور احادیث کی شرحوں میں یا جوج اور ماجوج کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ تاہم یا جوج اور ماجوج کے معاملے میں ابھی تک اہل علم کی کوئی متفقہ رائے سامنے نہیں آئی ایسی حالت میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ تمام حوالوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسی رائے پر پہنچنے کی کوشش کی جائے جو اس سلسلے میں متعلق حوالوں (relevant data) سے علمی طور پر مطابقت رکھتی ہو۔ راقم الحروف نے اِسی اصول کے تحت ، یا جوج اور ماجوج سے متعلق حوالوں کا مطالعہ کیا ہے۔ مطالعے کے بعد اس معاملے میں میری جو رائے بنی ہے، اس کو یہاں درج کیا جاتا ہے۔ یا جوج اور ماجوج (Gog and Magog) کا معاملہ کوئی پُر اسرار معاملہ نہیں۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کو معلوم طریق استنباط کے تحت سمجھا جا سکتا ہے۔ یہاں میں اس معاملے میں فنی بحثوں سے قطع نظر کرتے ہوئے، صورتِ معاملہ کی ایک علمی تصویر پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ یا جوج اور ماجوج کا مصداق یا جوج اور ماجوج سے کون لوگ مراد ہیں، اس کے بارے میں اہل علم نے مختلف رائیں دی ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر اس معاملے میں مولانا انور شاہ کشمیری (وفات : 1934) کی رائے زیادہ درست معلوم انھوں نے روس اور برطانیہ اور جرمنی کی قوموں کو اس کا مصداق ٹھیرا یا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے: أما الكلام في يأجوج ومأجوج، فاعلم أنهم من ذرية يافث باتفاق المؤرخين. ويقال لهم في أوربّأ: ’كاك ميكاك‘، وفي مقدمة ابن خلدون ’غوغ ماغوغ‘، وللبريطانية إقرار بأنهم من ذرية مأجوج، وكذلك ألمانيا أيضا منهم، وأما الروس فهم من ذرية يأجوج (فيض الباري علی صحيح البخاري، جلد 4، صفحہ (23) ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یا جوج اور ماجوج سے مراد وہ مغربی قو میں (western nations) ہیں جو یورپ میں آباد ہوئیں۔

یاجوج اور ماجوج کے بارے میں جو دستیاب معلومات (available data) ہیں، وہ سب سے زیادہ یورپی قوموں پر صادق آتی ہیں۔ یہ معلومات زیادہ تر تمثیل کی زبان میں ہیں، اس لیے لوگوں کو ان کا مفہوم سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے۔ اگر اس حقیقت کو ملحوظ رکھا جائے تو تقریباً بلا اشتباہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ یاجوج اور ماجوج سے مراد وہی قومیں ہیں جن کو یورپی قومیں کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ حضرت نوح کے بیٹے یافتث (Japheth) کی اولاد سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ لوگ غالباً پہلے مغربی یورپ میں آباد ہوئے، پھر انھیں کی نسلیں امریکا اور آسٹریلیا میں پھیل گئیں۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح کی کشتی جودی پہاڑ پر جاکر ٹھہری تھی (ھود: 44)۔ جودی پہاڑ قدیم ترکی کے سرحدی علاقے میں واقع ہے۔ ترکی، یورپ کا ایک حصہ مانا جاتا ہے۔ حضرت نوح کی کشتی جب یہاں ٹھہری، تو اُس وقت یہاں آپ کی اولاد میں سے تین افراد تھے ــ حام، سام اور یافتث۔ پہلے دونوں افراد، ایشیا اور افریقہ کے علاقے میں آباد ہوئے۔ کی اولاد ابتداً روس کے علاقے میں آباد ہوئی اور پھر بعد کو وہ یورپ کے مختلف ملکوں میں پھیل گئی۔ مغربی ملکوں میں آباد ہونے والے یہی وہ لوگ ہیں جن کو قدیم کتابوں میں یاجوج اور ماجوج کہا گیا یاجوج اور ماجوج کوئی پر اسرار لوگ نہ تھے، اور نہ وہ ایسے لوگ تھے جن کے لیے خدا نے ابدی طور پر گم رہی مقدر کر دی ہو۔ وہ دوسرے انسانوں کی مانند انسان تھے۔ اُن کے ساتھ جو واقعات پیش آئے، وہ سب عام فطری قانون کے تحت پیش آئے۔

Printed page