یاجوج اور ماجوج کے دو دور
Al-Risala, May 2010, pp. 4–7
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں یاجوج اور ماجوج کا ذکر دو مقامات پر آیا ہے۔ ایک جگہ ذوالقرنین کے حوالے سے (الكهف: 94)، اور دوسری جگہ ذوالقرنین کے حوالے کے بغیر (الأنبياء: 96)۔ ان دونوں آیتوں کے مطالعے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان دونوں آیتوں میں یاجوج اور ماجوج کے دو دوروں کا ذکر ہے، جو ایک کے بعد ایک پیش آئیں گے۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین نے جو دیوار بنائی تھی، وہ یاجوج اور ماجوج کے ابتدائی
دوسرے تعلق رکھتی ہے۔ یہ دیوار اُن کی مفسدانہ کارروائی کے لیے ایک روک بن گئی۔ ایک عرصے تک یہ صورتِ حال قائم رہی۔ اس کے بعد یا جوج اور ماجوج کی ابتدائی سرکش نسل ختم ہوگئی اور بعد کی نسل پیدا ہوئی جو نسبتاً معتدل نسل کی حیثیت رکھتی تھی۔
اس دوران ذوالقرنین کی بنائی ہوئی ابتدائی دیوار دھیرے دھیرے ٹوٹ پھوٹ گئی۔ بعد یا جوج اور ماجوج کی اگلی نسلوں کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ دیوار سے باہر آئیں، اور دیوار کے باہر کی دنیا میں پھیل جائیں۔ یہی دوسرا زمانہ ہے جب کہ اُن کے درمیان تہذیب کا دور شروع ہوا۔ مختلف احوال کے درمیان بتدریج ترقی کی طرف بڑھتا رہا۔
یہ بعد کا دور دو زمانوں میں تقسیم ہے—نشأۃ ثانیہ (Renaissance) سے قبل کا زمانہ، اور نشاۃ ثانیہ کے بعد کا زمانہ۔ اسی زمانے میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق، وہ واقعہ پیش آیا جس کو آپ نے یا جوج اور ماجوج کے بند میں شگاف (فتح اليوم من ردم يأجوج ومأجوج) سے تعبیر کیا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین نے جو دیوار بنائی تھی، وہ ایک مادی دیوار تھی جو ایک عرصے کے بعد فطری طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔
حدیث میں جس دیوار (رَدْم) میں شگاف ہونے کا ذکر ہے، وہ غالباً مادی دیوار نہیں ہے، بلکہ وہ اُس سے مختلف ہے۔ اس سے مراد فکری دیوار (intellectual barrier) ہے۔ سابق حجری دیوار کے ٹوٹنے سے یا جوج اور ماجوج کو اپنے قریبی علاقے میں پھیلنے کا موقع ملا تھا، لیکن دوسری ’’دیوار‘‘ کا ٹوٹنا زیادہ بڑا واقعہ ہے۔ اُس نے یا جوج اور ماجوج کی نسل کو یہ موقع دیا کہ وہ عالمی سطح پر پھیل جائیں اور حدیث کے الفاظ میں، یہ واقعہ ہو کہ: لا يأتون على شيء إلا أكلوه، ولا يمرّون على ماءٍ إلا شربوه (ابن ماجه، کتاب الفتن) یعنی وہ جس چیز تک پہنچیں گے، اس کو کھا جائیں گے، اور جس ذخیرۂ آب سے گزریں گے، اُس کو پی جائیں گے۔
ذوالقرنین کے بنائے ہوئے مادی بند کے ٹوٹنے کے بعد جو واقعہ پیش آئے گا، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وتركنا بعضهم يومئذ يموج في بعض (الكهف: 99)
یعنی قدیم محدود جغرافیہ سے نکل کر یاجوج اور ماجوج ، لوگوں سے عمومی اختلاط کرنے لگیں گے۔ اُن کا دورِ اختلاط ہوگا۔ اس کے بعد حدیث میں جس واقعے کا ذکر ہے ، یعنی ان کا ہر چیز کو کھا جانا ، اور ساری دنیا کے پانی کو پی جانا ، اس سے مراد بعد کا وہ واقعہ ہے ، جب کہ انھوں نے نیچر پر فتح حاصل کی اور جدید صنعتی دور پیدا کیا۔ اسی جدید صنعتی دور کے نتیجے میں اُن کو عالمی استحصال کا موقع ملا۔ سورہ نمبر 18 میں یاجوج اور ماجوج کے پہلے دور کا ذکر ہے ، اور قرآن کی سورہ نمبر 21 میں یاجوج اور ماجوج کے دوسرے دور کا ذکر۔ اِس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ بظاہر یاجوج اور ماجوج کے تین بڑے دور ہیں_ محصوریت کا دور ، اختلاط کا دور ، سائنس اور صنعتی ترقی کا دور۔ یاجوج اور ماجوج کوئی پُرجوبہ قوم نہ تھے۔ وہ عام انسانوں جیسے انسان تھے۔ قدیم زمانے میں ذرائع معاش کی قلت کی بنا پر ہر جگہ کچھ ایسے لوگ ہوتے تھے جو لوٹ مار کے ذریعے اپنی معاش حاصل کرتے تھے۔ اس قسم کے لوگ عرب میں بھی تھے جن کو صعالیکُ العرب کہا جاتا تھا ، یعنی یاجوج اور ماجوج کا گروہ بھی ابتداءً اِسی قسم کا ایک گروہ تھا۔ یاجوج اور ماجوج کی دیوار روایات میں بتایا گیا ہے کہ یاجوج اور ماجوج ، اور بقیہ انسانی دنیا کے درمیان ایک مضبوط دیوار حائل تھی۔ یہ دیوار اِس میں مانع تھی کہ یاجوج اور ماجوج اپنی حد سے نکل کر بقیہ انسانی آبادی میں داخل ہوکر وہاں فساد برپا کریں ۔ یہ دیوار کیا تھی اور وہ کب ٹوٹی ، اس کے بارے میں ایک حدیثِ رسول سے رہ نمائی ملتی ہے۔
روایات میں آیا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے ، غالباً مکہ فتح ہو چکا تھا اور عرب سے بت پرستی کا خاتمہ ہوگیا تھا ، اُس وقت آپ نے ایک خواب دیکھا۔ روایت کے مطابق ، اُس وقت آپ مدینہ میں اپنی اہلیہ زینب بنتِ جحش (وفات 641ء) کے حجرے میں سورہے تھے۔ سوکر اٹھے تو آپ کا چہرہ سرخ تھا۔ اُس وقت آپ نے فرمایا : لا الہ الا اللہ ، ویلٌ للعرب من شرّ قد اقترب ، فتح اليوم من ردم يأجوج ومأجوج (صحيح البخاري، كتاب الفتن)؛
صحیح مسلم، کتاب الفتن ) یعنی لا الہ الا اللہ، خرابی ہے عرب کی، اُس شر سے جو قریب آج یاجوج اور ماجوج کے بند میں شگاف پڑ گیا۔