Al-Risala · May 2010

معرفتِ اعلیٰ کا امکان

Al-Risala, May 2010, pp. 10–11

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت ابراہیم خدا کے پیغمبر تھے جو قبل سائنس دور (pre-scientific age) میں قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے ان کو آسمان اور زمین کے ملکوت دکھائے یہ ایک الہامی مشاہدہ تھا، وہ اس لیے کیا گیا تاکہ انھیں یقین حاصل ہو۔ آسمان اور زمین کے ملکوت کا مشاہدہ تخلیق کا مشاہدہ ہے۔ اس مشاہدہ سے خالق کے بارے میں یقین حاصل ہوتا ہے۔ قبل سائنس دور میں اس قسم کا مشاہدہ صرف الہامی طریقے سے حاصل ہو سکتا تھا۔ موجودہ سائنسی زمانے میں جب دوربین (1608) اور خورد بین (1676) جیسے آلات کے ذریعہ براہِ راست مشاہدہ انسان کے لیے ممکن ہو گیا، تو یقین کا معاملہ ایک نئے دور میں داخل اب یہ ممکن ہو گیا کہ خود علم انسانی کے ذریعے ہر شخص براہِ راست طور پر کائنات میں پھیلی ہوئی خدائی نشانیوں کو دیکھے اور اُس کے ذریعے نیا یقین حاصل کر سکے۔

جدید سائنسی انقلاب نے خدا کی معرفت کا ایک نیا علمی دروازہ ہر انسان کے لیے کھول دیا۔ یہ ممکن ہو گیا کہ ہر انسان اپنے براہِ راست مطالعہ اور مشاہدہ کے ذریعے تخلیق کے اندر موجود، خالق کی شہادتوں (evidences) کو جان سکے ۔ اس سائنسی انقلاب کے ذریعے جو خدائی نشانیاں (divine signs) انسان کے اوپر کھلیں، انھوں نے اعلیٰ خدائی معرفت کے حصول کو آخری انسان کے لیے ممکن بنا دیا۔ اللہ کے بہت سے بندوں کو اس سے معرفت حاصل ہوئی۔ مگر اس دنیا میں خیر کی قوتوں کے ساتھ شر کی قوتیں ہمیشہ سرگرم رہتی ہیں۔ اسی کو زرتشت (وفات: 551 ق م) نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا : The world is a perpetual battle ground of good and evil forces. چناں چہ عین اُس وقت کچھ بڑے بڑے ذہن پیدا ہوئے جن کے پیدا کردہ افکار عملاً انسان کو دوبارہ معرفتِ خداوندی سے دور کرنے کا ذریعہ ثابت ہوئے ۔ اس واقعہ کی پیشگی خبر حدیث میں اس طرح دی گئی تھی کہ بعد کے زمانے میں ایک دجال (great deceiver) پیدا ہوگا جو لوگوں کو اپنی پُر فریب باتوں سے گمراہی میں ڈال دے گا (بعض احادیث میں تیس دجالوں کا ذکر ہے)۔ یا دجالیت کیا ہے ۔ اس سے مراد دراصل غلط تعبیر (misinterpretation) کی فکری گمراہی ہے جو دورِ دجال میں زیادہ بڑے پیمانے پر ظاہر ہوگی۔

Printed page