عالمی دعوت کا دور
Al-Risala, May 2010, pp. 11–14
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دور میں انجام دیے جانے والے مثبت کام کا دوسرا پہلو عالمی دعوت ہے۔ اس عالمی دعوت کی پیشگی خبر ایک حدیثِ رسول میں اس طرح دی گئی تھی : لا يبقیٰ علی ظهر الأرض بيت مَدَرٍ، ولا وَبَرٍ إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، جلد 6، صفحہ 4)۔ یعنی زمین کی سطح پر کوئی بھی خیمہ اور مکان ایسا نہیں باقی رہے گا جس میں خدا ، اسلام کا کلمہ داخل نہ کر دے۔ دنیا کے تمام گھروں میں کلمہ اسلام کا داخلہ کسی پر اسرار ذریعے سے نہیں ہوگا ۔ مکمل طور پر معلوم وسائل کے ذریعے انجام پائے گا، یعنی پیغام رسانی کے عالمی وسائل کے ذریعے ۔ موجودہ زمانے کو کمیونیکیشن کا دور (age of communication) کہا جاتا ہے ۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ
موجودہ زمانے میں پہلی بار ابلاغ کے عالمی وسائل انسان کے تصرف میں آئے ہیں۔ سے پہلے اس قسم کی عالمی دعوت ممکن ہی نہ تھی۔
موجودہ زمانے میں دجال نے جدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کر کے ساری دنیا کو منفی پروپیگنڈوں سے بھر دیا ہے۔ ساری دنیا منفی سوچ کے اندھیرے میں جی رہی ہے۔ یہی وہ صورتِ حال ہے جس کو حدیث میں بطور پیشین گوئی فتنة الدَّهَيْماء (أبو داؤد، كتاب الفتن) کہا گیا تھا، یعنی سخت قسم کا تاریک اس تاریک فتنے سے مراد ایک عظیم فکری اندھیرا (intellectual darkness) ہے۔ فتنہ جدید ذرائع ابلاغ کے منفی استعمال کے نتیجے میں ظاہر ہوگا۔
جدید ذرائع ابلاغ کا مثبت استعمال دعوتِ حق کی عالمی اشاعت ہے۔ یہ اشاعت ملٹی میڈیا (multi-media) کے ذریعے انجام پائے گی۔ ملٹی میڈیا کے ذریعے دعوت کی مؤثر اشاعت کرنے والے ہی کو غالباً حدیث میں مہدی، یا رجلِ مومن کہا گیا ہے۔ جدید وسائل کا منفی استعمال کرنے والے کا علامتی نام دجال ہے، اور جدید وسائل کا مثبت استعمال کرنے والے کا علامتی نام مہدی۔ مغرب کا دورِ عروج مغربی قوموں نے جدید کمیونیکیشن کو لمبی جدوجہد کے بعد دریافت کیا تھا۔ اس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے فائدے کا بڑا حصہ (lion's share) مغربی قوموں کو ملا۔ اس کے ذریعے انھوں نے پہلے نو آبادیات (colonialism) کا دور پیدا کیا، پھر اسی کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہ عالمی مواصلاتی سیطرہ وجود میں آیا جس کو گلوبلائزیشن (globalization) کہا جاتا ہے۔ انھوں نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ویلج (global village) کی حیثیت دے دی، جس کی مرکزی طاقت فطری طور پر اہل مغرب خود تھے۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو وہ ہے جو ایک حدیثِ رسول سے بطور پیشین گوئی معلوم یہ ایک لمبی حدیث ہے جو یا جوج اور ماجوج کے تذکرے کے ذیل میں آئی ہے۔ کے ایک حصے کا ترجمہ یہاں درج کیا جاتا ہے:
"ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا—یاجوج اور ماجوج کو
کھولا جائے گا، پھر وہ لوگوں کی طرف نکلیں گے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے (وہم من كلّ حدب ينسلون)۔ پھر وہ لوگوں کے اوپر چھا جائیں گے۔ اہل ایمان اُن سے بچنے کے لیے اپنے شہروں اور اپنی پناہ گاہوں میں چلے جائیں گے اور اپنے مویشیوں کو وہ اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ یاجوج اور ماجوج زمین کا سارا پانی پی جائیں گے (ويشربون مياه الأرض)۔ اُن میں سے کچھ لوگ ایک دریا کے پاس آئیں گے اور اس کا پانی پی کر اس کو خشک کر دیں گے، پھر کچھ لوگ اُس دریا سے گزریں گے، تو وہ اس کو دیکھ کر کہیں گے کہ کبھی یہاں پانی موجود تھا۔ زمین کے صرف وہ لوگ یاجوج اور ماجوج سے بچیں گے جو اپنے شہر یا اپنی پناہ گاہ میں تھے۔ پھر یاجوج اور ماجوج میں سے کوئی شخص کہے گا: ہم زمین والوں سے فارغ ہو گئے، اب آسمان والے باقی ہیں (هؤلاء أهل الأرض قد فرغنا منهم، بقي أهل السماء)۔ اُن میں سے کوئی شخص اپنے حربہ کو حرکت دے گا اور وہ اس کو آسمان کی طرف پھینکے گا، اس کے بعد وہ حربہ ان کی آزمائش کے لیے خون آلود ہو کر ان کی طرف لوٹ آئے گا۔ (مسند احمد، جلد 3، صفحہ 77) اس حدیث میں واضح طور پر اُس حقیقت کی طرف اشارہ ہے جو یورپ کی نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد بتدریج عالمی سطح پر ظاہر ہوئی۔ اس کے بعد اقتصادیات کی دنیا میں ایک نیا واقعہ پیش آیا جس کو اقتصادی انفجار (economic explosion) کہا جا سکتا ہے۔ اس جدید اقتصادی انفجار کا سرِمکمل طور پر مغربی قوموں کے ہاتھ میں تھا۔ اس کے ذریعے انھوں نے زمین کے تمام مادیّ ذخائر پر اجارہ داری (monopoly) حاصل کر لی۔ ’’دریا کا پانی پی جانے‘‘ سے مراد غالباً پٹرول کے ان ذخائر کا بڑا حصہ مشرقی دنیا میں تھا، لیکن جس انڈسٹری میں ان کی کھپت تھی، وہ زیادہ تر مغربی دنیا میں واقع تھیں۔ اس لیے اہل مغرب کو یہ موقع ملا کہ وہ تیل کے قدرتی ذخیروں کو اپنے یہاں لے جا کر ان کو بھر پور طور پر استعمال کر سکیں۔
حدیث میں مزید بتایا گیا ہے کہ یاجوج اور ماجوج جب زمین کا سارا پانی پی چکے ہوں گے تو وہ آسمان کی طرف رخ کریں گے۔ اس سے مراد غالباً مختلف قسم کے خلائی راکٹ ہیں۔ مغربی قوموں نے
کائنات میں زمین جیسے کسی گرہ (planet) کی کھوج میں کثرت سے اپنے تفتیشی راکیٹ خلا میں بھیجے، جو کیمروں اور مختلف قسم کے آلات سے لیس تھے، مگر وہ کھوج کے باوجود خلا میں زمین جیسا کوئی دوسرا کرہ دریافت نہ کر سکے۔ —مذكوره حديث تمثيل کی زبان میں واضح طور پر ان حالات کو بتا رہی ہے جو موجودہ زمانے میں مغربی قوموں کے ذریعے پیش آئے۔