سیکولر گروہ کے ذریعے دین کی تائید
Al-Risala, May 2010, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
صحیح البخاری میں ایک لمبی روایت نقل ہوئی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غزوہ خیبر (7 ہجری) پیش آیا۔ اس غزوہ میں ایک آدمی نے نہایت بہادری کے ساتھ جنگ کی، یہاں تک کہ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ مسلمان اس شخص کے کارنامے سے متاثر ہوئے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے بارے میں فرمایا کہ وہ آگ میں جانے والوں میں سے ہے۔ لوگوں کو اس پر شک ہوا تو آپ نے فرمایا کہ جاکر معاملے کی تحقیق کرو۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ اگرچہ اُس نے نہایت بہادری کے ساتھ جہاد کیا تھا، لیکن آخر میں اُس نے خودکشی کر کے اپنی جان دے دی۔ چوں کہ خودکشی کی موت حرام موت ہے، اس لیے آپ نے فرمایا کہ وہ اہل نار میں سے ہے (هذا من أهل النار)۔ اس کے بعد آپ نے اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: إِنّ الله ليؤيد هذا الدّين بالرّجل الفاجر (صحيح البخاري، كتاب الجهاد والسّير، باب : إن الله يؤيد الدين بالرّجل الفاجر) یعنی خدا ضرور تائید کرے گا اس دین کی فاجر انسان کے ذریعے ۔ اس حدیث سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ اس دنیا میں کوئی چیز شر مطلق نہیں ہوتی، یہاں ہر شر میں خیر کا پہلو شامل رہتا ہے۔ کچھ‘‘ فاجر‘‘ لوگ اگر اپنے مقصد کے تحت کوئی کام کریں تو اس کا فائدہ صرف اُنھیں کو نہیں ملے گا، بلکہ اُن کے کام میں ایسے مزید پہلو شامل ہوں گے جن کا فائدہ دین حق کے حصے میں بھی آجاۓ گا۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے اور اس میں کوئی استثنا نہیں۔ یہی صورت یاجوج اور ماجوج کے معاملے میں پیش آۓ گی۔ یاجوج اور ماجوج کا گروہ، مذہبی معنوں میں، کوئی صالح گروہ نہیں ہوگا، لیکن وہ اپنے عمل سے جو تبدیلی زمین میں لائے گا، اُس میں اگر
ایک طرف شر کا پہلو ہوگا تو اسی کے ساتھ اُس میں خیر کا پہلو بھی لازماً شامل رہے گا۔ روایات کے مطابق، یا جوج اور ماجوج کے زمانے میں دواور بڑے واقعات پیش آئیں گے۔ ایک یہ کہ اُس زمانے میں دجال یا دجاجلہ (صحیح مسلم، کتاب الفتن) کا ظہور ہوگا۔ طرف اُسی زمانے میں ایک اور شخص کا ظہور ہوگا، جس کو صحیح مسلم کی ایک روایت میں رجلِ مؤمن کہا گیا ہے، اور حدیث کی دوسری کتابوں میں اس کو مہدی کہا گیا ہے۔
یا جوج اور ماجوج کے بارے میں قرآن میں: **حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ** **(الأنبياء : 96)** کا لفظ آیا ہے، یعنی جب یا جوج اور ماجوج کو کھول دیا جائے گا۔ قرآن کے اس اسلوب میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ یا جوج اور ماجوج کا نکلنا خدا کے ایک عظیم منصوبہ کے تحت ہوگا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یا جوج اور ماجوج کی نسل کے درمیان فطرت کی حقیقتوں کو دریافت کرنے کی جو غیر معمولی اسپرٹ پیدا ہوئی، وہ پوری تاریخ میں کسی بھی انسانی گروہ کے اندر موجود اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ یا جوج اور ماجوج کی نسل اپنی بے پناہ کوشش کے ذریعے سائنسی اور صنعتی تہذیب کو وجود میں لائی۔ اس تہذیب کے نتیجے میں ایسے عظیم مواقع کھلے، جو اس سے پہلے تاریخ میں کبھی دیکھے نہیں گئے تھے۔ بعد کو دجال اور مہدی اور مسیح کی صورت میں جو کردار وجود میں آئیں گے، وہ انھیں مواقع کے استعمال کا نتیجہ ہوں گے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ دجال، ان جدید مواقع کا استعمال منفی انداز میں کرے گا، اور مہدی یا مسیح ان جدید مواقع کا استعمال مثبت انداز میں کریں گے۔ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یا جوج اور ماجوج کے عمل ہی کا نتیجہ تھا کہ تاریخ میں پہلی بار تین چیزوں کا عظیم امکان پیدا ہوا ــــ ضلالتِ کبریٰ، معرفتِ کبریٰ اور دعوتِ کبریٰ۔