Al-Risala · May 2010

قربِ قیامت

Al-Risala, May 2010, pp. 15–16

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن اور حدیث کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ یا جوج اور ماجوج جب ظاہر ہوں گے تو یہ وہ وقت ہوگا، جب کہ قیامت بہت قریب آچکی ہوگی۔ ایک لمبی روایت جو ابن ماجہ اور مسند احمد میں آئی ہے، اُس میں یا جوج اور ماجوج کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے: **فإنّ الساعة كالحامل المتمّ التي**

لا يدري أهلها متى تفجؤهم بولدها، ليلاً أو نهاراً (مسند احمد، جلد 1، صفحه 375)۔ ظہور یا جوج اور ماجوج کے وقت قیامت اتنی زیادہ قریب ہوگی، جیسے کوئی حاملہ جس کے حمل کی مدت پوری ہو چکی ہو، اُس کے اہل خانہ کو نہیں معلوم کہ کب اچانک اس کا وضع حمل ہو جائے، رات کو یادن کو۔ یا جوج اور ماجوج کا ظہور اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ دراصل تاریخ کے خاتمہ (end of history) سے پہلے عمل میں آنے والا آخری اتمامِ حجت کا معاملہ اُس زمانے میں ایسے اسباب اور حالات پیدا ہوں گے کہ حق کا اعلان اپنی آخری اور اعلیٰ ترین صورت میں انجام دیا جاسکے۔ گویا کہ یہ صورِ قیامت سے پہلے صورِ دعوت ہوگا۔ ایسی حالت میں دجالی فتنے کا ظہور اس بات کی علامت ہوگا کہ انسان نے آخری طور پر اس بات کا جواز (justification) کھو دیا ہے کہ موجودہ زمین پر اس کو مزید آباد رہنے کا موقع دیا جائے۔

Printed page