تاریخ کا عظیم واقعہ
Al-Risala, May 2010, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
یا جوج اور ماجوج کے ذریعے جو واقعہ پیش آئے گا، وہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے تاریخ کا بہت بڑا واقعہ ہوگا۔ اس انقلاب کے ذریعے تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوگا کہ فطرت (nature) بڑے پیمانے پر پرستش کے بجائے تسخیر کا موضوع بنے گی ۔ اس کے نتیجے میں زمین اپنے خزانے اُگل دے گی ۔ نتیجے میں وہ واقعہ پیش آئے گا جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لاتدخر الأرض من نباتها شيئاً إلّا أخرجته (ابن ماجه، کتاب الفتن) یعنی زمین اپنے اندر کی تمام پیداوار باہر نکال دے گی، وہ اُس میں سے کچھ بھی نہ چھوڑے گی۔
فطرت کے اندر چھپے ہوئے مادی رازوں کو دریافت کرنے کا یہ عمل مغربی سائنس دانوں کے ذریعے پیش آئے گا۔ یہ سائنس دال مکمل طور پر سیکولر سائنس داں ہوں گے۔ مذہب کے معاملے میں وہ پوری طرح غیر جانب دار (indifferent) ہوں گے۔ مذہب کے معاملے میں ان کا رویہ نہ مثبت رویہ ہوگا اور نہ منفی رویہ۔ تاہم فلاسفہ اور مفکرین ان کی تحقیقات کو اپنے اپنے مقصد کے لیے استعمال کریں گے۔ طرح اُن کے دو گروہ بن جائیں گے۔ سیکولر مفکرین اور مذہبی مفکرین۔ دورِ سائنس کے ظہور کے بعد دنیا میں
جومفاسد پیدا ہوئے، وہ خود سائنس کا نتیجہ نہ تھے، بلکہ وہ تمام تر الحاد (atheism) کا نتیجہ تھے۔ دجّال کا ظہور دجّال کا لفظ دَجْل سے بنا ہے۔ دَجْل کے لفظی معنی ہیں— دھوکا دینا (to deceive)۔ دَاجِل کے معنی ہیں دھوکا دینے والا۔ دَجَّال اس کا مبالغہ ہے، یعنی بہت زیادہ دھوکا دینے والا۔ اسی وجہ سے کسی چیز پر سونے کا ملمّع کر کے اُسے سونا ظاہر کرنے کو دَجْل کہا جانے لگا۔ مثلاً کہا جاتا ہے: دَجْلُ الإناء یعنی غیر ذہنی برتن پر سونے کا ملمّع کر کے اس کو سونے کے برتن کی مانند ظاہر کرنا۔ بعد کے زمانے میں ظاہر ہونے والے شخص کو دجّال اس لیے کہا گیا کہ وہ حقائق کے ساتھ دَجْل یا فریب کاری کا معاملہ کرے گا۔ وہ حقیقتوں کو غلط صورت میں پیش کر کے لوگوں کو دھوکا کے میں ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ فکری معاملات میں دَجْل کا دوسرا نام— غلط تعبیر (misinterpretation) ہے۔ غلط تعبیر کیا ہے۔ غلط تعبیر کا مطلب ہے— کسی چیز کی غیر واقعی یا باطل توجیہہ کرنا: Misinterpretation: An incorrect, or false explanation. دَجْل کا یہ فعل ہمیشہ سے دنیا میں موجود رہا ہے، لیکن پرنٹنگ پریس اور میڈیا کی ایجاد نے موجودہ زمانے میں دَجْل کے مواقع بہت زیادہ بڑھا دیے ہیں۔ پہلے زمانے میں اگر سادہ طور پر دَجْل کرنے والے لوگ پیدا ہوتے تھے، تو اب جدید مواقع کے استعمال سے یہ ممکن ہو گیا کہ زیادہ بڑے پیمانے پر دجّالی کا فعل انجام دیا جا سکے۔ دجّال کسی پُر اسرار شخصیت کا نام نہیں۔ دجّال، دراصل قدیم دور کے چھوٹے دجّال کے مقابلے میں، جدید دور کا زیادہ بڑا دجّال ہے۔ یہ دراصل، یاجوج اور ماجوج کے ذریعے پیدا شدہ عظیم مواقع کا منفی استعمال کرنے والے کا دوسرا نام ہے۔