Al-Risala · May 2010

دجّال اکبر کا فتنہ

Al-Risala, May 2010, pp. 17–19

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں مستقبل کے بارے میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آخری زمانے میں ایک دجّال پیدا ہوگا۔ اُس وقت اُمّتِ مسلمہ میں سے ایک شخص اٹھے گا، جو دجّال کا ‘حَجِیج’ بنے گا اور اُس کا خاتمہ کرے گا (إِن يخرج وأنا فيكم فأنا حجيجه دونكم، وإن

یخرج ولستُ فیکم فامرءُ حجیج نفسه، صحیح مسلم، کتاب الفتن ) یہ واقعہ تاریخ کا عظیم ترین واقعہ ہوگا۔ چناں چہ صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: ھذا أعظم الناس شہادتہ عند رب العالمین (کتاب الفتن) یعنی یہ خدا کے نزدیک سب سے بڑی گواہی ہوگی۔ دجّال کے لفظی معنی بہت دھوکا دینے والا ہے۔ دجّال اپنا یہ کام تلوار کے ذریعے نہیں کرے گا۔ دینا، دلیل کے ذریعے ہوتا ہے، نہ کہ تلوار کے ذریعے۔ چنانچہ دجّال علم اور دلائل کے زور پر لوگوں کو بہکائے وہ لوگوں کو ذہنی گم راہی میں مبتلا کرے گا۔ دجّال کے مقابلے میں جو شخص اس کی کاٹ کے لیے اٹھے گا، اُس کے لیے صحیح مسلم میں ’حجیج‘ کا لفظ آیا ہے۔ لسان العرب میں ’حجیج‘ کا مفہوم ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: مُحاجّه ومغالبه بإظھار الحُجّة عليه (2/228) یعنی دلائل کے ذریعے غالب آنے والا: One who can overcome in the argument. حدیث میں آتا ہے کہ دجّال کی پیشانی پر ک، ف، ر ( کفر ) لکھا ہوا ہوگا (صحیح مسلم، کتاب الفتن ) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دجّال جس دور میں پیدا ہوگا، وہ خدا سے کفر (انکار) کا دور ہوگا، یعنی الحاد کا دور۔ پچھلی تاریخ کا فتنه خدا کا انکار نہیں تھا، بلکہ خدا کو مان کر اُس کا شریک بنانا تھا۔ زمانے میں خدا کا وجود ایک اصول موضوعہ (axiom) کے طور پر تسلیم کر لیا گیا تھا۔ لیکن موجودہ زمانے میں یہ مسلّمہ ٹوٹ گیا۔ آج الحاد کا زمانہ ہے، یعنی انکارِ خدا کا زمانہ۔

قدیم زمانے میں داعی کو یہ ثابت کرنا پڑتا تھا کہ خدا کا کوئی شریک نہیں۔ موجودہ زمانے میں داعی کو خود خدا کے وجود کو ثابت کرنا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو دجّال کے فتنے سے لڑنا کہا گیا ہے۔ حدیثوں کے مطالعے سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ دجّال یا دجّالیت دراصل سائنسی دور کا فتنه ہے۔ سائنسی دور میں پہلی بار یہ ہوگا کہ کچھ لوگ دلائل کے نام پر حق کا ابطال کریں گے۔ وہ یہ تأثر دیں گے کہ حق، علمی ترقی کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتا۔ پھر خدا کی توفیق سے ایک شخص اٹھے گا جو خود سائنسی دلائل کے ذریعے اس دجّالی فتنے کا خاتمہ کر دے گا۔ وہ دجّالی دلائل کو زیادہ برتر دلائل کے ساتھ بے بنیاد ثابت کر دے گا۔ یہ واقعہ، اپنی نوعیت کے اعتبار سے، تاریخ بشری کا پہلا واقعہ ہوگا۔ وہ دعوتِ حق کی

عظیم ترین مثال کے ہم معنی ہوگا۔ اسی لیے اُس کی بابت صحیح مسلم میں یہ الفاظ آئے ہیں: ھذا أعظم الناس شهادةً عند ربّ العالمين ۔ یہ عظیم دعوتی واقعہ قیامت سے پہلے پیش آئے گا۔ دجالی فتنة اپنی نوعیت کے اعتبار سے کوئی نیا فتنہ نہیں، وہ شیطانی فتنے ہی کا نقطۂ انتہا شیطان ہمیشہ سے یہ کرتا رہا ہے کہ وہ تزئین‘ کے ذریعے لوگوں کو سچائی کے راستے سے ہٹاتا ہے۔ شیطان کا یہ کام ہمیشہ سے جاری ہے۔ سائنسی دور میں یہ شیطانی تزئین، علمی تزئین کے روپ میں ظاہر اسی لیے اس کو دجالیت کہا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق، شیطان کا کام تزئین (الحجر: 39) تزئین کے لیے ہمیشہ اُس کے موافق وسائل درکار ہوتے ہیں۔ پچھلے زمانوں میں یہ موافق وسائل زیادہ نہیں ہوتے تھے۔ موجودہ زمانے میں یہ موافق وسائل بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں، علمی اعتبار سے بھی اور عملی اعتبار سے بھی۔ دجّال دراصل وہ شیطانِ اکبر ہے جو جدید وسائل کے ذریعے، زیادہ پرزور انداز میں باطل کی تزئین کرے گا۔ پھر امتِ محمدی کا ایک شخص اٹھے گا جو خدا کی خصوصی مدد سے نظریاتی سطح پر اس کی دجالیت کا خاتمہ کردے گا۔

Printed page