انسانی غذا
Al-Risala, May 2010, pp. 21–22
By Maulana Wahiduddin Khan
انسانی غذا کے معاملے میں موجودہ زمانے میں بے شمار تحقیقات ہوئی ہیں۔ کے نتیجے میں اُن گنت معلومات سامنے آئی ہیں، جو خالق کی معرفت کے امکان کو لا محدود حد تک بڑھا دیتی ہیں۔ اس معرفت کا ایک پہلو یہ ہے کہ کس طرح ایسا ہوا کہ انسان کی جو غذائی ضرورت ہے، وہ خارجی دنیا میں اپنی اعلیٰ تکمیلی صورت میں پیشگی طور پر بھر پور حالت میں موجود انسانی ضرورت اور خارجی غذا کے درمیان کامل مطابقت (compatibility) اپنے آپ میں، سوچنے والے کے لیے معرفت کا ایک سمندر ہے۔
قدیم زمانے میں غذا کا صرف ایک مفہوم تھا۔ بھوک کے وقت غذائی چیزوں کو کھا کر اپنا پیٹ بھر لینا ۔ یہ بھی بلاشبہ، شکر کا ایک ذریعہ تھا، لیکن موجودہ زمانے میں اس میں جو دریا فتیں ہوئیں ہیں، انھوں نے شکر کے معاملے میں پوائنٹ آف ریفرنس کو بہت زیادہ وسیع بنا دیا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق، غذا سادہ طور پر صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں ہے، وہ ہمارے جسم کی متنوع ضرورتوں کو پورا کرنے کا چناں چہ موجودہ زمانے میں غذا کو متوازن غذا (balanced diet) کہا جاتا ہے۔ متوازن غذا کا مطلب ہے وہ خوراک جو صحت کی متنوع ضرورت کے لیے متناسب اجزا پر مشتمل ہو: Balanced diet: A diet with the right amount, proportion, and variety of the foods needed for health. جدید تحقیق کے مطابق، متوازن غذا وہ ہے جس میں حسب ذیل اجزا شامل ہوں: A balanced diet is one which contains carbohydrate, protein, fat, vitamins, mineral salts, and fibre in the correct proportions. متوازن غذا کے بارے میں اس دریافت نے ہمارے احساسِ شکر کے لیے اتھاہ حد تک زیادہ بڑا پوائنٹ آف ریفرنس دے دیا۔ پچھلی معلومات کے تحت، انسان اگر حیوانی سطح پر غذا کی اہمیت کو جانتا تھا، تو اب جدید معلومات کے تحت وہ اس قابل ہو گیا کہ وہ اعلیٰ ترین انسانی سطح پر غذا کی اہمیت کو محسوس کر سکے۔ وہ آفاقی درجے میں شکر کا تحفہ اپنے خالق کی خدمت میں پیش کرے ۔ پوائنٹ آف ریفرنس میں یہ اضافہ صرف پہلی بار ممکن ہوا ہے۔ پچھلی صدیوں میں سائنس نے
ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔ اُس نے تاریخ میں پہلی بار فطرت (nature) میں چھپی ہوئی اُن حقیقتوں کو کھولا ہے، جن کو قرآن میں آیات اللہ(divine signs) کہا گیا ہے۔ ان سائنسی دریافتوں نے یہ کیا ہے کہ انعاماتِ الہی کے بارے میں انسان کے پوائنٹ آف ریفرنس کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ اس طرح، تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ انسان ہر چیز میں خدا کی نعمتوں کو انتہائی اعلیٰ درجے میں محسوس کرے اور شکرِ خداوندی کے بلند تر احساسات سے اس کا سینہ معمور ہو جائے۔ کے انسان کو اگر معرفت کا تجربہ ہوتا تھا، تو اب جدید دریافتوں کے بعد یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان زیادہ برتر سطح پر معرفتِ اعلیٰ کا تجربہ کر سکے۔