Al-Risala · May 2010

نطق اور سماعت

Al-Risala, May 2010, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح انسان ہمیشہ بولتا تھا اور اس کے بول کو دوسرا انسان سنتا تھا۔ قدیم انسان کے لیے یہ بظاہر ایک سادہ واقعہ تھا، مگر موجودہ زمانے میں، اس معاملے میں، بے شمارئی چیزیں دریافت ہوئی ہیں، جنھوں نے بولنے اور سننے کے معاملے کو ایک عظیم نعمت بنا دیا ہے، ایک ایسی نعمت جس کو سوچ کر آدمی کے سینے میں اس انوکھے عطیہ پر منعم حقیقی کے لیے شکر کا ایک سیلاب امنڈ پڑے۔ مثال کے طور پر الیکٹرسٹی (electricity) کو لیجیے۔ الیکٹری سٹی کی ایجاد نے بہت سے معاملات میں نئے نئے تجربات کو ممکن بنا دیا ہے۔ چناں چہ ایک سائنس داں نے تجربے کے دوران شیشے کے ایک فانوس کو لیا۔ اس نے اس کے منہ کو بند کیا اور اس کے اندر ایک برقی گھنٹی رکھی۔ پھر اس نے شیشے کے اندر کی ہوا کو پوری طرح نکال دیا۔ اس گھنٹی کا سوئچ باہر تھا۔ اب سوئچ کو دبایا گیا تو فانوس کے اندر گھنٹی کے بجنے کی صورت دکھائی دے رہی تھی، لیکن فانوس کے باہر گھنٹی کے بجنے کی آواز بالکل سنائی نہیں دے رہی تھی۔ اس طرح کے تجربات کے ذریعے معلوم ہوا کہ ایک آدمی کے منہ سے نکلی ہوئی آواز کو جب دوسرا آدمی سنتا ہے، تو یہ ایک فطری ترسیل (transmission) کے ذریعے ہوتا ہے۔ منہ سے نکلی ہوئی آواز ہوا میں لہریں پیدا کرتی ہے۔ یہ لہریں سفر کر کے انسان کے کان تک پہنچتی ہیں، اور پھر انسان ان صوتی لہروں (sound waves) کو ناقابل فہم حد تک انتہائی پیچیدہ نظامِ سماعت کے ذریعے

معنی الفاظ (meaningful words) میں کنورٹ (convert) کرکے اُن کو سنتا اور سمجھتا فطرت میں اِس طرح کے بے شمار انتظامات ہیں، جِن کے ذریعے بولنے اور سننے کا واقعہ وجود میں جو آدمی اِس معاملے میں سائنس کی جدید دریافتوں کو جانے ، اِس کے اندر اپنے منعم کے بارے میں جو عظیم احساس پیدا ہوگا، اٌس کا تجربہ قدیم زمانے کے انسان کو نہیں ہو سکتا تھا۔ اِسی طرح قدیم زمانے سے انسان دریاؤں اور سمندروں میں سفر کرتا تھا۔ اِس کے لیے بھی یہ موقع تھا کہ وہ اِس آبی سفر پر خالق کا شکر ادا کرے۔ لیکن موجودہ زمانے میں اِس موضوع پر تحقیقات ہوئی ہیں، انھوں نے اِس معاملے میں آدمی کے پوائنٹ آف ریفرنس کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ کہ کس قانونِ فطرت کے تحت کشتی پانی کے اوپر چلتی ہے، اِس کا علم پہلے انسان کو نہ تھا۔ موجودہ زمانے میں وسیع تحقیقات کے ذریعے اِس معاملے میں انسان کے علم میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ چناں چہ سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ ایک آبی قانون ہے جس کے تحت ایسا انوکھا واقعہ ہوتا ہے کہ کشتیاں اور جہاز سمندر میں تیرتے ہوئے دور کی منزل تک پہنچ جائیں۔ اِس آبی قانون کو آج کل کی زبان میں ہائڈروا سٹیٹکس (hydrostatics) کہا جاتا ہے، جِس کا ایک شعبہ بائنسی (buoyancy) ہے۔ سے مراد پانی کا یہ انوکھا قانون ہے کہ جب کوئی چیز پانی میں ڈالی جاتی ہے، تو وہ پانی کے اندر جتنی جگہ گھیرتی ہے، اُسی کے بقدر وہاں آپ ورڈ پریشر پیدا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں کشتی پانی کی سطح پر تیرنے لگتی ہے: Buoyancy: The upward pressure by any fluid on a body partly or wholly immersed therein: it is equal to the weight of the fluid displaced. پانی کی سطح پر کشتی کا چلنا پہلے بھی انسان کے اندر شکر کا جذبہ پیدا کرتا تھا، لیکن موجودہ زمانے میں سائنس کی مذکورہ دریافت نے اِس معاملے میں انسان کے پوائنٹ آف ریفرنس کو بہت زیادہ بڑھا اب اِن نئی معلومات کے ساتھ جب ایک انسان کشتی یا جہاز کو تیز رفتاری کے ساتھ پانی کی سطح پر تیرتے ہوئے دیکھتا ہے، تو اٌس کا سینہ بہت زیادہ اضافے کے ساتھ شکرِ خداوندی کے جذبات سے بھر جاتا ہے۔ اعلیٰ شکر کا یہ موقع انسان کو جدید سائنسی دریافتوں کے ذریعے حاصل ہوا ہے۔

Printed page