نفرت اور شکایت
Al-Risala, May 2010, pp. 24–26
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ چند بالکل سادہ قسم کی مثالیں ہیں۔ اس طرح کی بے شمار باتیں جدید سائنسی دریافتوں کے ذریعے ہمارے علم میں آئی ہیں۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار اہل ایمان کے لیے یہ عظیم موقع کھلا کہ وہ فطرت کے انعامات کو زیادہ اعلیٰ درجے پر جانیں اور منعم کا اعتراف زیادہ گہرائی کے ساتھ کر سکیں۔ گویا اہل ایمان کے لیے عظیم شکر کا ایک موقع تھا، مگر عین اُسی وقت شیطانی اغوانے اُن کے ذہن کو منفی سوچ کی طرف موڑ دیا۔ ساری مسلم دنیا شکایت اور نفرت اور تشدد کے جذبات کا شکار ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ اعلیٰ شکر اور اعلیٰ معرفت کے تجربے سے عملاً محروم ہو کر رہ گئے۔ یہ بلاشبہ شیطانی اغوا کا بہت بڑا واقعہ تھا، اس لیے اس کو حدیث میں دجالی کہا گیا ہے۔ دجالی کس طرح ممکن ہوئی ۔ وہ اس طرح ممکن ہوئی کہ عین اُس زمانے میں جب کہ سائنس نے آیات الہی (divine signs) کو کھولا تھا، اُسی زمانے میں غیر مسلم قوموں نے جدید طاقتوں سے مسلح ہو کر مسلمانوں کو ہر شعبے میں مغلوب کر لیا۔ تعلیمی، اقتصادی اور سیاسی، ہر میدان میں مسلمان غیر مسلموں سے کچھڑ گئے۔ مسلمانوں کا یہ پچھڑاپن ان کی اپنی کوتاہی کے نتیجے میں تھا، لیکن دجّال نے جدید میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو بتایا کہ یہ دوسری قوموں کی سازش اور ظلم کے نتیجے میں ہوا ہے۔ اس دجّالی وسوسے کے نتیجے میں مسلمان ساری دنیا میں غیر مسلم قوموں کے خلاف نفرت اور تشدد میں مبتلا ہو گئے ۔ وہ جدید مواقع کا مثبت استعمال نہ کر سکے، نہ دعوت کے اعتبار سے اور نہ معرفت کے اعتبار سے۔ نفرت اور شکایت کا یہ ذہن بلاشبہہ دجالیت کے ذریعے پیدا کیوں کہ یہ قومیں ہمارے لیے مدعو کا درجہ رکھتی تھیں، اور مدعو سے نفرت کرنا اسلام میں حرام ہے۔ دجال نے اس فعل حرام کو مزین کر کے اُمُ کو مسلمانوں کے لیے بظاہر عین اسلام بنا دیا۔ دجّال نے یہی کام ایک اور پہلو سے عام انسانوں کے ساتھ بھی کیا۔ سائنس نے جونئ دنیا دریافت کی تھی، اُمُ میں عام انسانوں کے لیے ہدایت کا عظیم امکان موجود تھا۔ اس کے ذریعے تاریخ
میں پہلی بار یہ ممکن ہوا تھا کہ آدمی خالص علم انسانی کی سطح پر خدائی سچائی کو دریافت کرے۔ وہ اُس سے خدا کی معرفت کا اعلیٰ رزق لے سکے۔ وہ یہ سمجھے کہ اس دنیا میں وہ جن انعامات سے فائدہ اٹھارہا ہے، اُن کا ایک دینے والا ہے، اور پھر اُن انعامات کا اعتراف کر کے وہ مزید انعامات کا مستحق بنے۔ مگر عین اُسی وقت دجال متحرک ہوا، اور اْس نے انسان کو نئے نئے فلسفوں میں الجھا کر انٹرٹین مینٹ (entertainment) کے شیطانی کلچر میں مبتلا کر دیا۔ تمام انسان خواہشات کی فوری تکمیل کے فتنے میں مبتلا ہو گئے ۔ وہ بھول گئے کہ ہر انعام اپنے ساتھ لازمی زمے داریاں لاتا ہے۔ زمے داریوں کی ادائیگی کے بغیر انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ ان انعامات سے فائدہ اٹھا سکے۔ ظہور دجّال کا زمانہ دجّال کے بارے میں حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ میں دجال کی انوکھی صفات بتائی گئی ہیں۔ لوگ ان صفات کو لفظی معنی (literal sense) میں لے لیتے اس لیے ابھی تک وہ دجّال کی شخصی آمد کے منتظر ہیں، حالاں کہ اس معاملے میں اب انتظار کا وقت نہیں، بلکہ دجال کے مقابلے میں اپنا کردار ادا کرنے کا وقت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ روایتوں میں دجال کی جو صفات بتائی گئی ہیں، وہ سب تمثیل کی زبان (symbolic language) میں ہیں۔ مثال کے طور پر ایک طویل روایت میں دجال کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: ینادی بصوت له يُسمع به ما بين الخافقين: إليّ أوليائي، إليّ أوليائي، إليّ أحبائي، إليّ أحبائي (کنز العُمّال، كتاب القيامة، باب الدّجال) یعنی دجّال اپنی ایک ایسی آواز سے پکارے گا جو مشرق اور مغرب کے دونوں سروں کے درمیان سنائی دے گی ۔ کہے گا کہ — اے میرے ساتھیو، میری طرف آؤ، اے میرے ساتھیو، میری طرف آؤ۔ دوستو، میری طرف آؤ۔ اے میرے دوستو، میری طرف آؤ۔
یہ بلاشبہہ تمثیل کی زبان ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود دجال کی فطری آواز اتنی زیادہ بلند ہوگی کہ وہ براہِ راست طور پر پوری دنیا میں سنائی دے۔ یہ دراصل ایک پیشین گوئی تھی۔
مطلب یہ تھا کہ دجال کا ظہور بعید خبر رسانی (telecommunication) کے زمانے میں ہوگا۔ عام انسانوں کے مانند ہوگا، لیکن مشینی مواصلات کے ذریعے اس کے لیے ممکن ہوگا کہ وہ اپنی آواز کو ساری دنیا کے لوگوں تک پہنچا سکے۔ روایت کے مذکورہ الفاظ دراصل، دجال کے زمانی مواقع کو بتا رہے ہیں، نہ کہ مادی معنوں میں خود دجال کی اپنی شخصیت کو۔
آثارِ قیامت کی روایات کو تمثیل پر محمول کرنے کا سبب اس بحث کا ایک فیصلہ کن پہلو یہ ہے کہ قرب قیامت کے بارے میں قرآن میں واضح بیانات مثلاً فرمایا کہ قیامت بالکل اچانک واقع ہوگی (الأعراف : 187)۔ اِسی طرح قرآن کی ایک اور آیت میں ہے کہ : ”بے شک قیامت آنے والی ہے۔ میں اُس کو مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تا کہ ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ “ (طٰهٰ: 15) اس آیت کی تفسیر میں ابن کثیر نے عبد اللہ بن مسعود کا یہ قول نقل کیا ہے : کتمتھا من الخلائق، حتى لو استطعت أن أكتمها من نفسي لفعلتُ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے قیامت کو تمام مخلوق سے مخفی رکھا ہے، حتی کہ اگر اپنے آپ سے اس کو مخفی رکھنا ممکن ہوتا تو میں خود اپنے آپ سے اس کو مخفی رکھتا۔
علماء اصول کا موقف یہ ہے کہ اگر کوئی حدیث قرآن سے متعارض نظر آئے تو قرآن کو اصل قرار دیا جائے گا اور حدیث کی تاویل کی جائے گی۔ ایسی حالت میں خالص علمی اعتبار سے، تاویل کی صرف ایک بنیاد ہے، اور وہ یہ کہ اس معاملے میں قرآن کے بیان کو اصل قرار دیا جائے اور حدیث کے بیان کو تمثیل پر محمول کیا جائے ۔ اس تعارض کو ختم کرنے کی دوسری کوئی اور صورت نہیں۔ مواقع کا منفی استعمال دجال کا اصل کام یہی ہوگا کہ وہ اپنے زمانے کے مواقع (opportunities) کا منفی استعمال کر کے لوگوں کو مغالطے میں ڈالے اور اس طرح لوگو ں کی سوچ کو خدا کی طرف سے ہٹا کر غیر خدا کی طرف پھیر دے۔ دجالی کا یہ کام سیکولر میدان میں بھی ہوگا اور مذہبی میدان میں بھی۔ یہاں چند مثالوں کے ذریعے اس کی وضاحت کی جارہی ہے۔