Al-Risala · May 2010

نظریہ ارتقاء

Al-Risala, May 2010, pp. 27–29

By Maulana Wahiduddin Khan

عضویاتی ارتقاء (organic evolution) کا نظریہ اسی قسم کا ایک دجالی نظریہ ہے۔ ڈارون (وفات: 1882) اور دوسرے علمائے حیاتیات نے یہ دریافت کیا کہ مختلف انواعِ حیات کے جسمانی ڈھانچے میں بہت زیادہ مشابہتیں (similarities) پائی جاتی ہیں۔ مثلاً بلی اور شیر کے جسمانی ڈھانچے میں مشابہت، وغیرہ۔ ان مشابہتوں سے انھوں نے یہ نظریہ وضع کیا کہ حیاتیات کی دنیا میں ایک ارتقائی عمل واقع ہوا ہے۔ اس عمل کے دوران ایک قسم کی انواعِ حیات، عضویاتی ارتقاء کے نتیجے میں خود بخود دوسری قسم کی انواعِ حیات میں تبدیل ہوتی چلی گئیں۔

یہ بلاشبہ مغالطے کا ایک معاملہ تھا۔ انواعِ حیات کے درمیان مشابہتوں سے جو چیز ثابت ہوتی ہے، وہ صرف انواع میں تنوع (variety) ہے، یعنی ہر نوع الگ الگ خصوصی تخلیق کے ذریعے وجود میں آئی۔ البتہ خالق نے انواع کی تخلیق کے لیے ایک دوسرے سے مشابہ جسمانی ڈھانچہ اختیار کیا۔ گویا کہ مشاہدہ صرف تنوع کو ثابت کر رہا تھا، لیکن اس کی مغالطہ آمیز توجیہہ کرکے عضویاتی ارتقاء کا دعویٰ کر دیا گیا۔ اس نظریے میں بظاہر خدا کا انکار نہیں ہے، لیکن عملاً وہ خدا کو زندگی سے بے دخل کر دینے کے ہم نظریہ ارتقاء کے مطابق، زندگی کا پورا عمل، طبیعی انتخاب (natural selection) کے ذریعے اپنے آپ ہورہا ہے۔ یہ نظریہ، خدا کو زندگی کے معاملے میں اتنا زیادہ بے اثر بنا دیتا ہے کہ خدا کو ماننا اور نہ ماننا دونوں یکساں ہوکر رہ جاتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کا عقیدہ عملی زندگی میں بالکل غیر موثر ہوکر رہ گیا ہے۔ اس صورت حال کا سب سے بڑا سبب یہی نظریہ ارتقاء ہے۔ تاریخ کی مادی تعبیر علومِ قطعیہ (exact sciences) کا معاملہ سادہ طور پر صرف حقائق فطرت کی دریافت کا یہ کام طبیعیاتی سائنس دانوں نے انتہائی غیر جانب داری کے ساتھ انجام دیا۔ سائنس دانوں نے فطرت کے جو حقائق دریافت کیے، وہ اصلاً آفاق اور انفس میں خدائی نشانیوں (divine signs) کے ظہور کے ہم معنی تھے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ جدید الہیات

(modern theology) کے لیے معلوماتی مواد (data) کی حیثیت رکھتے تھے۔ عین اُسی زمانے میں سیکولر فلاسفہ اور مفکرین کا ظہور ہوا۔ انھوں نے سائنس کے معلوماتی مواد کا استعمال منفی انداز میں انھوں نے انسانی تاریخ کی مادی تعبیر پیش کرنے کی کوشش کی۔ اِس فکری کی نمائندگی جولین ہکسلے (وفات: 1975) کی کتاب میں کی گئی ہے، جس کا نام با معنیٰ طور پر یہ ہے مذہب بغیر الہام: Religion Without Revelation. (1927)

موجودہ زمانے میں جس طرح طبیعی علوم (physics) میں اہلِ مغرب نے دنیا کی قیادت کی، اُسی طرح زندگی کی نظریاتی تشریح کے معاملے میں بھی اہلِ مغرب دنیا کے قائد بن گئے۔ گویا کہ زندگی اور کائنات دونوں کی تشریح کا کام اہلِ مغرب نے انجام دیا۔ اہلِ مشرق کے لیے اِس معاملے میں اِس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اہلِ مغرب کے مقلّد بن جائیں۔

اِس معاملے میں اہلِ مغرب نے جو فکری کام انجام دیا، اْس کو ایک لفظ میں تاریخ کی مادی تعبیر (material interpretation of history) کہا جا سکتا ہے۔ اِس دور میں مغربی دنیا میں کثرت سے فلاسفہ اور مفکرین پیدا ہوئے۔ انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا کے ذہن کو متاثر کرنے کا کام کیا۔ یہ واقعہ غلط تعبیر (misinterpretation) کے نتیجے میں اِس کا سبب یہ تھا کہ علما ء مذہب اِس سلسلے میں اپنا تعمیری رول ادا کرنے میں ناکام رہے۔ موجودہ زمانے میں ہر طرف تفریحی کلچر (entertainment culture) کا رواج ہے۔ اور مرد صرف ایک بات کو جانتے ہیں، اور وہ ہے زندگی کو بھر پور انجوائے (enjoy) کرنا۔ آج کل لوگوں کا سب سے زیادہ مقبول فارمولا یہ ہے کہ— ابھی اور اسی وقت (right here, right now)۔ موجودہ زمانے میں اِس نظریے پر بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان مصنفین میں سے ایک علامتی نام سگمنڈ فرائڈ (وفات: 1939) کا ہے۔ اْس نے اِس نظریے کی زبردست وکالت کی۔ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انسان کے اندر جو خواہشات (desires) ہیں، انھیں پر انسانی

شخصیت کے بننے یا نہ بننے کا انحصار ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنی خواہشات کو دبائیں، تو آپ کی شخصیت گھٹی ہوئی خواہشات (repressed desires) کا کیس بن جائے گی۔ آپ کی شخصیت میں ارتقاء (growth) کا عمل رک جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی ہر خواہش کو آزادانہ طور پر پورا اسی گم راہ کن نظریہ کے رواج کا نتیجہ ہے کہ آج ساری دنیا میں اباحیت (permissiveness) کا طریقہ رائج ہو گیا ہے، اور انسانی سماج خوش پوش حیوانوں کا ایک جنگل بن کر رہ گیا ہے۔ سگمنڈ فرائڈ اور اس قسم کے دوسرے مغربی مفکرین کے اس نظریے میں ایک بہت بڑا مغالطہ چھپا وہ یہ کہ انھوں نے انسانی شخصیت کے ارتقاء (personality development) کو خواہشات کی تکمیل سے جوڑ دیا، حالاں کہ اس کا تعلق انسان کے مائنڈ سے تھا۔ یہ دراصل انسان کا مائنڈ ہے جو شخصیت کے ارتقاء میں مددگار بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں خواہشات کی پیروی، ایک ڈسٹریكشن (distraction) کی حیثیت رکھتی ہے، وہ ذہنی ارتقاء کے عمل کو روکنے کا سبب بن جاتی ہے۔ دجالی فتنہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے کوئی نیا فتنہ نہیں۔ وہ شیطانی فتنے کی صورت میں ہمیشہ جاری رہا ہے۔ البتہ بعد کے دور میں صرف یہ ہوگا کہ یہ فتنہ ایک باقاعدہ تہذیب کی صورت اختیار وہ ایک خوش نما کلچر کی صورت اختیار کر کے لوگوں کے درمیان ایک پسندیدہ چیز کے طور پر رائج ہو جائے گا۔ یہ جدید دریافتوں کے غلط استعمال کی ایک ایسی صورت ہوگی جس کے بعد برائی کا کوئی اور درجہ نہیں۔ موجودہ زمانہ اسی دجالی کلچر کا زمانہ ہے۔

Printed page