دجالیت، مذہبی استحصال کا فتنہ
Al-Risala, May 2010, pp. 29–30
By Maulana Wahiduddin Khan
صحیح مسلم میں ایک روایت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غــیــر الـــدَّجَّــــال أخوفني عليكم (كتاب الفتن) یعنی مجھ کو تمھارے اوپر دجال سے بھی زیادہ غیر دجال کا اندیشہ اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ خارجی دجال سے زیادہ خطرناک تمھارے لیے داخلی دجال ہوگا۔ خارجی دجال کو پہچاننا تمھارے لیے آسان ہوگا، لیکن داخلی دجال کو تم اپناہی آدمی سمجھ لو گے اور اس بنا پر اس کو موقع ملے گا کہ وہ تم کو زیادہ سے زیادہ گم راہ کر سکے۔
امام نووی (وفات : 1277ء) نے اس حدیث کی شرح میں ایک اور روایت نقل کی ہے۔ سے مذکورہ نقطۂ نظر کی تائید ہوتی ہے۔ اس دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں : إِنّ أخوف ما أخاف على أمتى، الأئمّة المُضِلّون (صحيح مسلم بشرح النّووی، جلد 18، صفحہ 64) یعنی اپنی امت پر مجھے جس چیز کا سب سے زیادہ ڈر ہے، وہ امت کے گمراہ کرنے والے ائمہ (قائد) ہیں۔ امت کے ائمہ سے مراد یہاں استحصال پسند قائدین ہیں۔ یہ لوگ اپنی قیادت کو فروغ دینے کے لیے خوش نما الفاظ بولتے ہیں۔ وہ اپنے غیر دینی مقاصد کو دین کی اصطلاحوں میں بیان کرتے ہیں۔ اس سے دھوکا کھا کر بڑی تعداد میں لوگ ان کے گرد اکٹھا ہوجاتے ہیں۔ اس طریقے کو دوسرے لفظوں میں، مذہبی استحصال (religious exploitation) کہا جاسکتا ہے۔