مذہب کا پولٹیکل انٹرپریٹیشن
Al-Risala, May 2010, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ دور میں جب پرنٹنگ پریس کا زمانہ آیا، تو کچھ لوگوں نے ایسی کتابیں لکھ کر دنیا میں پھیلانا شروع کردیں جن میں مذہب (اسلام) کا پولٹیکل انٹرپریٹیشن (political interpretation) دیا گیا مخصوص اسباب کی بنا پر یہ کتابیں لوگوں کے درمیان کثرت سے پھیلنے لگیں۔ اس لٹریچر سے متاثر ہونے والے لوگوں کا نشانہ، منحرفانہ طور پر، سیاسی انقلاب بن گیا۔ مذہب کی یہ سیاسی تعبیر ایک خطرناک مغالطہ پر وہ مغالطہ یہ کہ مذہب ایک مکمل نظام کا نام ہے۔ مذہب کا مقصد صرف پوجا اور پرستش نہیں ہے، بلکہ اسی کے ساتھ لازمی طور پر یہ بھی ضروری ہے کہ مذہب کے دیوانی اور فوج داری قوانین کو زمین پر عملاً نافذ کیا جائے۔ چوں کہ قوانین کا نفاذ، حکومت پر قبضہ کے بغیر نہیں ہوسکتا تھا، اس لیے ان تحریکوں کا نشانہ فوراً یہ بن گیا کہ حکم راں طبقے سے لڑکر وہ اُن سے اقتدار کو چھینیں، تا کہ سیاسی قوانین کا نفاذ ممکن ہوسکے۔ یہ مذہبی سیاست عملاً ایک عظیم نقصان کا سبب بن گئی۔ موجودہ زمانے میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ دعوت کا کام اعلیٰ سائنسی دلائل کی بنیاد پر جدید کمیونیکیشن کے ذریعے انجام دیا جائے اور ساری دنیا میں خدا کا پیغام زیادہ مؤثر انداز میں تمام لوگوں تک پہنچا دیا جائے، مگر یہ عظیم امکان واقعہ نہ بن سکا۔ جنھیں یہ دعوتی کام کرنا تھا، وہ سیاسی ہنگامہ آرائیوں میں مشغول ہوگئے ــ موجودہ زمانے کے مسلمانوں
کے اندر منفی سوچ، تشد د، انتہا پسندی، اور دوسروں کے بارے میں غیر ہم در دانه ذہن، سب کے سب اسی پولیٹیکل انٹر پر یٹیشن کا نتیجہ ہیں۔ یہی پولیٹیکل انٹر پر یٹیشن ہے جس نے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر نفرت کلچر کو جنم دیا ہے۔