Al-Risala · May 2010

مغالطہ انگیزی

Al-Risala, May 2010, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

مذہب میں یہ بگاڑ ایک مغالطہ کے ذریعے پیدا ہوا۔ مذہب کا تعلق اصلاً انسان کی اپنی زندگی اس لیے مذہب میں زندگی کے تمام پہلوؤں کے بارے میں اصولی تعلیمات موجود ہیں۔ تعلیمات اصلاً ایک آدمی کی اپنی ذات کو مخاطب کرتی ہیں، نہ کہ خارج میں پائے جانے والے پولیٹیکل سسٹم کو۔ مذہب کے پولیٹیکل انٹر پر یٹیشن کے لیے ایک طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ جو مذہبی تعلیمات لازم کے صیغے میں تھیں، ان کو متعدی کے صیغے میں ڈھال دیا گیا۔

مثلاً مذہب میں بتایا گیا تھا کہ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں پوری طرح انصاف کے اصولوں کی پیروی کرے (الحديد: 25)۔ اس ذاتی تعلیم کو بدل کر اس کو سیاسی ٹکڑاؤ کا موضوع بنا دیا گیا کہ تم لوگ انصاف کا جھنڈا اٹھاؤ، پوری زمین پر بزور انصاف کا نظام قائم کرو۔ مذہب میں یہ تعلیم دی گئی تھی کہ ہر شخص اپنی زندگی میں خدا کے حکموں کی پیروی کرے۔ اس تعلیم کو بدل کر اُس کی یہ تشریح کی گئی کہ تم زمین پر خدا کے خلیفہ ہو۔ اس لیے تمھاری ذمے داری ہے کہ تم خدا کے نائب بن کر خدا کی زمین پر خدا کا حکم نافذ کرو۔

Printed page