Al-Risala · May 2010

مکمل دین کا نظریہ

Al-Risala, May 2010, pp. 31–35

By Maulana Wahiduddin Khan

دین کی سیاسی تعبیر کی دوسری بنیاد ”مکمل دین کا نظریہ یہ تھا۔ مکمل دین کا مطلب یہ تھا کہ دین میں عقیدہ اور عبادت کے احکام ہیں، اور اسی کے ساتھ اس میں دیوانی اور فوج داری قوانین بھی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ دین کا عبادتی حصہ اس کا حقیقی حصہ (real part) ہے۔ اور قوانین کے نفاذ کا معاملہ دین کا اضافی حصہ (relative part)، یعنی دین کے عبادتی حصے کو ہر حال میں اور ہر شخص کو اختیار کرنا ہے۔ اس کے برعکس، قوانین کے نفاذ کا معاملہ پورے معاشرے کا معاملہ ہے۔ معاشرہ اگر تیار ہو، تو قوانین کا نفاذ اس کی

شرعی ذمہ داری بن جائے گی۔ اور اگر معاشرہ تیار نہ ہو، تو قوانین کا نفاذ عملاً التوا کے خانے میں رہے گا۔ مکمل دین کے نظریے میں یہ مغالطہ شامل ہے کہ اس میں دین کے حقیقی حصہ اور دین کے اضافی حصہ، دونوں کو ہر حال میں یکساں مطلوب کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ اسی سے تمام خرابیاں پیدا حالاں کہ دین کے حقیقی حصے کی مطلوبیت اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہے، اور دین کے اجتماعی حصے کی مطلوبیت معاشرے کی حالت کے ساتھ مشروط ہے۔ افراد کے لیے وہی دین مکمل دین ہے، جس پر عمل کرنا، ان کی استطاعت کے مطابق، اُن سے مطلوب ہو۔

اسلام کا پوٹیکل انٹرپریٹیشن "مکمل اسلام" کے نفاذ کے نام پر کیا گیا، مگر عملی نتیجے کے اعتبار سے وہ اسلام سے مکمل انحراف کے ہم معنی بن گیا۔ یہ اسلام کی حقیقت کو درہم برہم (topsy-turvy) کرنے کا ایک معاملہ تھا۔ اس کے نتیجے میں جو خرابیاں پیش آئیں، اُن میں سے چند کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔ اسلام کے پوٹیکل انٹرپریٹیشن کا پہلا نقصان یہ ہوا کہ اسلامی عمل کا اصل نشانہ بدل گیا۔ نشانہ وہ ہے جس کو قرآن میں وابتغوا إليه الوسيلة (المائدة: 35) کہا گیا ہے، یعنی خدا کی قربت مگر اس انٹرپریٹیشن میں اس کے برعکس، اسلام کا اصل نشانہ یہ بن گیا کہ رائج الوقت سیاسی سسٹم کو توڑو، تاکہ تم دنیا میں مکمل اسلام کو نافذ کر سکو۔

اس انٹرپریٹیشن کا دوسرا نقصان یہ تھا کہ اس میں اجتماعی تعلقات کی نوعیت مکمل طور پر بدل گئی۔ اسلام کے مطابق، مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے درمیان جو تعلق ہے، وہ داعی اور مدعو کا تعلق ہے، مگر پوٹیکل انٹرپریٹیشن نے اس کو بدل کر مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے درمیان سیاسی حریف کا تعلق قائم اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے انسان مسلمانوں کے لیے دعوتی خیر خواہی کا موضوع نہ رہے، بلکہ وہ ان کے سیاسی مدّ مقابل بن گئے۔ اس طرح عملاً دعوہ کلچر کے بجائے، ایک پوٹیکل کلچر وجود میں آگیا۔ پھر اسی پوٹیکل انٹرپریٹیشن کا یہ نتیجہ تھا کہ ساری دنیا میں اسلامی عمل، متشددانہ عمل کے ہم معنی بن اُن لوگوں نے اپنے کام کا آغاز پر امن کوشش کی صورت میں کیا، مگر جلد ہی اُن کو محسوس ہوا کہ پر امن کوشش کے ذریعے اقتدار کو بدلنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ اس لیے انھوں نے اپنے مقصد کے حصول کے

لیے تشدد کا طریقہ اختیار کر لیا، حتیٰ کہ انھوں نے اس معاملے میں خود کش بم باری کو بھی اپنے لیے جائز قرار اس طرح سیاسی انقلاب کا نظریہ عملاً سیاسی فساد کے ہم معنی بن گیا۔ اسلام کے پولیٹیکل انٹر پرٹیشن نے اُس سے متاثر لوگوں کو ایک ایسے کام میں مصروف کر دیا جو اسلام میں سرتا سر نا جائز تھا، یعنی قائم شدہ مسلم حکومت کے خلاف بغاوت۔ موجودہ زمانے میں ہر ملک میں ایسے مسلم لیڈر حکومت کر رہے تھے جنھوں نے ماڈرن ایجوکیشن حاصل کی تھی اور اس بنا پر اپنی نجی زندگی میں مذہبی ہونے کے باوجود، وہ سیاسی معاملات میں جدید طرزِ فکر کے حامل تھے۔ چناں چہ اس انٹر پرٹیشن کے حاملین نے یہ اعلان کر دیا کہ یہ لوگ ہمارے ملک میں مکمل اسلام نافذ نہیں کر رہے ہیں، اس لیے ہمارا فرض ہے کہ اُن سے لڑ کر اُن کو اقتدار سے ہٹائیں، اور ایسے لوگوں کو اقتدار پر قبضہ دلائیں جو ’’مکمل اسلام‘‘ کو نافذ کرنے والے ہوں۔

اس نظریے کے تحت یہ ہوا کہ خود مسلم ملک کے لوگ دو طبقوں میں بٹ گئے ـــ حاکم اور غیر اور پھر مسلم عوام اپنے ملک کے حکم رانوں سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ مسلمانوں کا یہ فعل، فقہ کی اصطلاح میں خروج (revolt) کا فعل تھا، جو مبینہ طور پر اسلام میں حرام ہے۔ بیسویں صدی عیسوی، تقریباً پوری کی پوری، پولیٹیکل انٹر پرٹیشن سے پیدا ہونے والے ہنگاموں کی صدی تھی۔ یہ عین وہی زمانہ تھا، جب کہ سائنس کی دریافتوں نے، قرآن کے الفاظ میں، کائنات میں چھپی ہوئی آیات (signs) کو آخری حد تک کھول دیا تھا۔ اس وقت ضرورت تھی کہ سائنس کے دریافت کردہ حقائق کو لے کر دعوتِ حق کا کام اعلیٰ ترین سطح پر انجام دیا جائے ۔ مگر عین اسی وقت یہ ٹریجڈی پیش آئی کہ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلم قائدین، پولیٹیکل ہنگاموں میں مشغول ہو گئے، اور تبیین حق کا اعلیٰ ترین کام جو ہو سکتا تھا، وہ نہ کیا جا سکا۔ اس معاملے میں، مسلم قائدین کی سیاسی انتہا پسندی کا اندازہ ایک واقعے سے ہوتا ہے۔ سید جمال الدین افغانی (وفات: 1897) پیرس میں بیٹھ کر سیاسی ہنگاموں کی قیادت کر رہے تھے۔ 1884 کا واقعہ ہے، اُن کے شاگرد مفتی محمد عبدہ (وفات: 1905) نے اُن سے کہا کہ ہم سیاست کے

بے فائدہ کام کو چھوڑ کر پُر امن دعوت اور تعلیم کا کام کریں، جس میں بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔ جمال الدین افغانی نے اس کے جواب میں کہا: إنما أنت مثبّط (جمال الدین افغانی، محمود أبو ريّة، قاهرة 1966، صفحہ (50) یعنی تم تو پسپائی کی بات کرتے ہو۔

یہ بلاشبہ ایک بھیانک ٹریجڈی تھی۔ یہ ٹریجڈی پولٹیکل انٹرپریٹیشن کے نتیجے میں پیدا پولٹیکل انٹرپریٹیشن کے دو سنگین نتائج نکلے ۔ جدید دعوتی مواقع کا استعمال نہ ہونا، اور پولٹیکل انقلاب کے نام پر نفرت اور تشدد کلچر کا رواج۔ دین کی اس سیاسی تعبیر کا یہ منفی نتیجہ نکلا کہ دعوت الی اللہ کا کام عملاً معطل ہو گیا۔ تمام لوگ بزعم خود مفروضہ مکمل اسلامی نظام برپا کرنے میں مصروف ہو گئے، جو قانون فطرت کے تحت سرے سے ممکن ہی نہ تھا۔ اس طرح ایک ناممکن کے حصول کی کوشش کا منفی نتیجہ نکلا کہ جو کام پوری طرح ممکن تھا، وہ بھی نہ ہوسکا، یعنی پر امن دعوہ ورک۔ نئے پیغمبر کی ضرورت اسی طرح، مذہب میں اس معاملے کی ایک مثال اُن لوگوں کا دعویٰ ہے، جنھوں نے یہ کہا کہ بیسویں صدی عیسوی میں حالات بدل گئے ہیں، اس لیے اب ہمیں ایک نئے پیغمبر کی ضرورت ہے۔ یہ نظریہ پیش کر کے انھوں نے نئی پیغمبری کا دعویٰ کر دیا۔ یہ پورا معاملہ مغالطہ آمیزی کا معاملہ ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ حالات کے بدلنے سے کبھی کوئی نیا پیغمبر نہیں آتا۔ حالات میں تبدیلی صرف اجتہاد کی ضرورت کو ثابت کرتی ہے، نہ کہ نئے پیغمبر کی ضرورت کو۔ کوئی پیغمبر جب آتا ہے تو وہ ہمیشہ دو میں سے ایک سبب کی بنا پر آتا ہے— یا تو یہ کہ وہاں کوئی پیغمبر سرے سے نہ آیا ہو، اس لیے نبوت کے فقدان کی بنا پر وہاں کوئی نبی بھیجا جائے۔ یا یہ کہ پچھلے نبی کی تعلیمات میں تحریف ہوگئی ہو، اس بنا پر خدائی مذہب کا مستند ماخذ موجود نہ رہے۔ موجودہ زمانے میں دونوں میں سے کوئی ضرورت پائی نہیں جاتی۔ اب نبی آخر الزماں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کی صورت میں ایک ایسا پیغمبر آ چکا ہے، جو یکساں حیثیت سے تمام دنیا کے لیے ابدی طور پر خدا کا پیغمبر ہے۔ دوسرے یہ کہ اس پیغمبر کی تعلیمات مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ اب نبوت کی مذکورہ دونوں ضرورتوں میں سے کوئی بھی ضرورت یہاں موجود نہیں۔

حالات کی تبدیلی بطور واقعہ درست ہے، مگر اس کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو مجتہدانہ کوشش کے ذریعے ازسرنو لوگوں کے سامنے اس طرح لایا جائے کہ وہ جدید ذہن کے لیے پوری طرح قابل فہم بن سکیں۔ لوگوں کو نظر آئے کہ آپ کی تعلیمات آج کی دنیا کے لیے بھی اتنا ہی متعلق (relevant) ہیں، جتنا کہ وہ اس سے پہلے تھیں۔ حالات کی تبدیلی نئے اجتہاد کی ضرورت کو ثابت کرتی ہے، نہ کہ نئے پیغمبر کی۔

Printed page