مہدی کی پہچان
Al-Risala, May 2010, pp. 36–41
By Maulana Wahiduddin Khan
مہدی جب ظاہر ہوگا تو اس کی پہچان کیا ہوگی۔ یہ پہچان حدیث کے مطابق، خود اس کے لقب میں مہدی صرف ایک لقب ہے، وہ اُس کا اسم ذات نہیں۔ مہدی کا لفظی مطلب ہے ـــ ہدایت پایا ہوا شخص (guided person)۔ مہدی کا لفظی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ مثبت معنی میں ہے۔ سے مہدی کا لفظی مطلب ہوگا ـــ صحیح ہدایت پایا ہوا شخص (rightly guided person)۔ حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی کا ظہور، فتنة دُہماء (تاریک فتنه) کے زمانے اُس وقت تمام لوگ معرفتِ حق کے بارے میں اندھیرے میں پڑے ہوئے ہوں گے۔ ایسے تاریک دور میں معرفتِ حق کی روشنی کسی کو صرف خدا کی خصوصی توفیق سے مل سکتی ہے، یعنی وہی طور پر، نہ کہ اکتسابی طور پر۔ سیاہ فتنے کے دور میں کوئی شخص نہ بطور خود سچائی کو پاسکے گا اور نہ وہاں دوسرا کوئی شخص موجود ہوگا جو اُس کو سچائی کی روشنی دکھائے۔ حقیقت یہ ہے کہ فتنة دُہماء کے دور میں کسی کو صرف خداوند ذوالجلال کی طرف سے ہدایت مل سکتی ہے۔
مہدی کا مہدی ہونا، اپنے آپ میں بتا رہا ہے کہ مہدی کی پہچان کیا ہے۔ وہ پہچان یہ ہے کہ مہدی اپنے ماحول کے برعکس، استثنائی طور پر ایک ہدایت یاب انسان ہوگا، جب کہ لوگ عمومی طور پر ہدایتِ حق سے محروم ہو چکے ہوں گے۔ مہدی ایک استثنائی انسان کا نام ہے، اور یہی استثناء وہ چیز ہے جس کے ذریعے پہچاننے والے اس کو پہچانیں گے۔ مہدی نہ خود اپنے مہدی ہونے کا دعویٰ کرے گا، اور نہ آسمان سے یہ آواز آئے گی کہ فلاں شخص مہدی ہے، اس کو مانو اور اس کا اتباع کرو۔ فتنة دُہماء کے لفظی معنی ہیں ــــ سخت سیاہ اور تاریک فتنه (الفتنة السّوداء المظلمة. لسان العرب 211/12)۔ یہاں سوال یہ ہے کہ وہ کیا چیز ہوگی جو اس عمومی سیاہی یا تاریکی کا سبب کیوں ایسا ہوگا کہ لوگ اپنے آپ کو فکری اعتبار سے تاریکی کے جنگل میں بھٹکتا ہوا محسوس
کریں گے ۔ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اُس وقت پیش آئے گا، جب کہ لکھے اور بولے ہوئے الفاظ کی بہت زیادہ کثرت ہو جائے گی ۔
تاریخ بتاتی ہے کہ اس قِسم کے حالات پہلی بار موجودہ زمانے میں پیش آئے ہیں۔ زمانے میں جب پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا اور الیکٹرانک میڈیا کا رواج عمل میں آیا ، تو تاریخ میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا کہ بے شمار کتابیں چھپ کر ہر جگہ پھیل گئیں ۔ اِسی کے ساتھ ریڈیو اور ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعے الفاظ کی ایک نئی دنیا میں وجود میں آگئی ۔ انٹرنیٹ پر مختلف قِسم کی جو معلومات ڈالی جارہی ہیں، وہ اتنی زیادہ ہیں کہ ہر دومنٹ میں اس کے اندر پانچ ہزار صفحات سے زیادہ معلومات کا اضافہ ہو جاتا ہے ۔ یہی معاملہ مطبوعہ کتابوں کا ہے ۔
ایک روایت ، حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے ۔ اس میں بعد کے زمانوں کا ذکر کرتے ہوئے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتنة اللّسان فيها أشدّ من السّيف (أبوداؤد، كتاب الملاحم ) یعنی ایک زمانہ آئے گا ، جب کہ زبان یا الفاظ کا فتنہ تلوار کے فتنے سے بھی زیادہ خطرناک ہو جائے گا۔ موجودہ زمانے میں الفاظ کا یہ فتنہ اپنی آخری صورت میں سامنے آچکا ہے۔ موجودہ زمانے میں جو چیز سب سے زیادہ گم راہی کا سبب بن رہی ہے، وہ بلاشبہ خوش نما قسم کے پر فریب الفاظ ہیں، جو فضا میں اِس طرح بھر گئے ہیں کہ کوئی بھی عورت یا مرد اُس سے محفوظ نہیں۔ الفاظ کے اِس تاریک فتنے سے بچنا کس طرح ممکن ہوگا۔ اُس کا راز ایک حدیث سے معلوم ہوتا ایک روایت کے مطابق ، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المعرفة جُنّة من الفتن (الدارمی، مقدمة) ۔ یعنی معرفت، فتنے کے مقابلے میں ڈھال ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خوش نما الفاظ کے سحر سے باہر آنے کا ذریعہ صرف ایک ہے ، اور وہ یہ کہ آدمی کے اندر معرفت موجود ہو ۔ کے سوا کوئی بھی دوسری چیز نہیں جو آدمی کو اس قِسم کے فتنے سے بچا سکے۔
مہدی دراصل اسی قِسم کا ایک صاحب معرفت انسان ہوگا۔ اس کے اندر خدا کی خصوصی توفیق سے یہ صلاحیت ہوگی کہ وہ لفظی مغالطے کو سمجھ سکے۔ وہ خوش نما الفاظ اور حقیقی استدلال کے فرق کو
وہ ایک گم راہ گن بیان کا تجزیہ کر کے اس کی گم راہی کو کھول سکے۔ اس کے اندر تجزیہ کی طاقت (power of analysis) کمال درجے میں موجود ہو، وہ محدّ تبین (precise description) کی صلاحیت کا حامل ہو ۔ اپنی اسی معرفت کی بنا پر وہ خود الفاظ کے فتنے سے بچے گا اور دوسروں کے لیے الفاظ کے فتنے سے بچنے کا ذریعہ بنے گا ۔ مہدی، یار جل مومن کے اسی اہم رول کی بنا پر اُس کی بابت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وجب علیٰ كُلِّ مؤمن نصرُه أو قال إجابته (سنن أبي داؤد، كتاب المهدي ) یعنی مہدی، یار جل مومن کے ظہور کے وقت ہر مومن پر واجب ہوگا کہ وہ اس کے ساتھ تعاون کا معاملہ کرے، یا آپ نے یہ فرمایا کہ وہ اس کی پکار پر لبیک کہے۔ اس حدیث سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ مہدی، یار جل مومن کے ظہور کا معاملہ کوئی پر اسرار اُس کے ظہور کا معاملہ اگر کسی معجزاتی شخصیت کے ظہور کا معاملہ ہو، تو پھر ایسے شخص کی نصرت کی تاکید ایک غیر ضروری بات ہوگی ۔ کیوں کہ ایک ایسا انسان جو معجزاتی شخصیت کی حیثیت رکھتا ہو، اس کو اپنا مطلوب رول ادا کرنے کے لیے خود معجزہ کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ خداوندی مداخلت کا معاملہ مہدی کے بارے میں سنن ابن ماجہ (کتاب الفتن، باب : خروج المهدی ) میں ایک روایت آئی ہے۔ اُس کا ایک حصہ یہ ہے : يُصلحه الله في ليلة (خدا ایک رات میں اُس کی اصلاح اس کا مطلب یہ ہے کہ مہدی کا ظہور اُس زمانے میں ہوگا، جب کہ دنیا میں فتنة دُہماء کا دور آ چکا ہوگا۔ یہ ایک ایسی شدید صورت حال ہوگی جب کہ کوئی شخص نہ اپنی ذاتی کوشش سے ہدایت کی روشنی پا سکے گا، اور نہ کوئی ادارہ ایسا ہوگا جو اس عمومی بگاڑ کے دور میں مہدی جیسی شخصیت کی تشکیل ایسا واقعہ براہِ راست خدا کی مداخلت کے ذریعے ہوگا۔ خدا کی خصوصی مداخلت کے بغیر ایسا ہونا ممکن نہیں۔ ایسا اس لیے ہوگا تا کہ خدا کے بندوں کو خدا کا سچا راستہ دکھایا جا سکے۔ مہدی کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ: يواطئ اسمه اسمی یعنی اُس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا۔ یہاں نام سے مراد صفت ہے، جیسا کہ دوسری روایت سے واضح ہوتا ہے۔
کے الفاظ یہ ہیں: يشبهه فى الخلق، ولا يشبهه فى الخلق (أبوداؤد، كتاب المهدی) یعنی مہدی باعتبارِ داخلی صفت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ ہوگا، نہ کہ باعتبارِ ظاہری ہیئت۔ مہدی، نہ کہ ہادی بعض لوگوں نے مہدی کو ہادی کے معنی میں لے لیا۔ اِس خود ساختہ تصور کے مطابق، انھوں نے کہا کہ مہدی جدید دور کا ایک انقلابی لیڈر ہوگا، جو عالمی سیاسی نظام قائم کرے گا۔ مہدی کی یہ تعریف سرتا سر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مہدی جدید دور کا ایک عارف ہوگا۔ وہ خدا کی توفیق سے خود اعلیٰ معرفت حاصل کرے گا، اور دوسروں کو اعلیٰ معرفت کا راستہ دکھائے گا، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ معرفتِ الہی کا حصول خدا کے نزدیک سب سے زیادہ اعلیٰ اور سب سے زیادہ مطلوب چیز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ کام بلاشبہ عالمی سطح پر انجام پائے گا، لیکن مہدی کا کام سیاسی انقلاب کے ہم معنی نہیں ہوگا، بلکہ وہ افراد کے اندر ذہنی سطح پر ربانی انقلاب پیدا کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ مہدی کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ جب وہ ظاہر ہوگا تو اس کے اندر ایسے امتیازی اوصاف ہوں گے کہ لوگ فوراً اُس کو پہچان لیں گے اور جوق در جوق اس کے ساتھی بن جائیں گے۔ حدیث میں مہدی یا رجل مومن کی تصویر اس سے بالکل مختلف ہے۔ حدیث کے مطابق، جب مہدی ظاہر ہوگا تو وقت کے بااثر افراد اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔ اِس بنا پر دجال اور اس کے ساتھی، مہدی کی مخالفت پر انتہائی حد تک جری ہو جائیں گے۔ وہ اس کی کردارکشی (character assassination) کریں گے ، یہاں تک کہ وہ اس کو قتل کر دینا چاہیں گے۔ مگر مہدی کو خدا کی خصوصی مدد حاصل ہوگی، اس بنا پر دجال اور اس کے ساتھی ہرگز اپنے تخریبی منصوبے میں کامیاب نہ ہوسکیں گے۔ حدیث کے مطابق، دجال کے ساتھ اس کے حامیوں کی بھیڑ ہوگی، لیکن مہدی، یارجل مومن کے ساتھ اس کے حامیوں کی بھیڑ نہ ہوگی۔
مہدی کی مذکورہ تعریف ایک خود ساختہ تعریف ہے۔ اِس میں مہدی کو بدل کر ہادی کے ہم معنی قرار دے دیا گیا ہے، یعنی ایک ایسا لفظ جو مفعول کی حیثیت رکھتا تھا، اُس کو فاعل کے ہم معنی بنا دیا گیا۔
ہے جو لوگوں کے لیے مہدی کو پہچاننے کے معاملے میں رکاوٹ بنے گی۔ وہ عالم گیر سیاسی انقلاب کو مہدی کی پہچان بنائے ہوئے ہیں، حالاں کہ حدیث میں دیے ہوئے لفظ کے مطابق، مہدی کی پہچان یہ ہے کہ وہ گم راہی کی تاریکی میں ہدایت کی روشنی پائے گا۔ وہ معرفتِ اعلیٰ کو دوبارہ دریافت کرے گا، جب کہ وہ مستور ہو چکی ہوگی۔ مہدی کا ظہور اصلاً دریافتِ ہدایت کا واقعہ ہے، نہ کہ نفاذِ ہدایت کا واقعہ۔ اعلانِ حق، نہ کہ دعوائے حق مہدی کا ظاہر ہ اعلانِ حق کا ظاہر ہ ہے، نہ کہ دعوائے حق کا ظاہر ہ۔ مہدی، یا رجل مومن اپنے کام کا آغاز دعوے سے نہیں کرے گا، یہ صرف اُس کے کام کی استثنائی نوعیت ہوگی جس سے لوگوں کے لیے اس کو پہچاننا ممکن ہو سکے گا۔ اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہوگا کہ مہدی کے معاملے کو خدا کی نسبت سے دیکھا جائے ۔ خدا کے نزدیک، اصل بات یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ مہدی ہے۔ خدا کے نزدیک، اس معاملے میں دعویٰ مکمل طور پر ایک غیر متعلق (irrelevant) بیان کی حیثیت رکھتا ہے۔ خدا کے نزدیک، اصل قابلِ لحاظ بات دوسروں کی نسبت سے ہے، نہ کہ خود مہدی کی نسبت سے۔ یہ دوسروں کا امتحان ہے کہ وہ اپنے وقت کے اُس رجلِ مومن کو پہچانیں، جس کو حدیث میں مہدی کہا گیا ہے، اور پھر وہ بھر پور طور پر اس کا ساتھ دے کر اس کو یہ موقع دیں کہ وہ اپنے مطلوب رول کو ادا کر سکے۔
احادیثِ مہدی یا مسیح اور اس طرح کے دوسرے نصوص، دراصل ایک عظیم دعوتی امکان کو بتا رہے ہیں، نہ کہ شخصی طور پر کسی فرد یا افراد کی پر اسرار فضیلت کو۔ یہ صرف خدا ہی کو معلوم ہے کہ اس کی توفیق خاص سے، اس رول کی ادائیگی کس کے حصے میں آئے گی۔ میرے نزدیک، اس معاملے میں ” آنے والے“ کا انتظار، یا خود اپنے بارے میں مہدی یا مسیح ہونے کا دعویٰ کرنا، دونوں ہی یکساں طور پر غلط ہیں: Waiting for a “coming person”, or claiming “I am that person”, both are equally wrong. یہاں اس معاملے کی وضاحت ضروری ہے کہ مہدی اور مسیح کے مسئلے کو اصولی طور پر بیان کرنا ایک الگ چیز ہے اور خود اپنے بارے میں مہدی اور مسیح ہونے کا دعویٰ کرنا بالکل دوسری چیز۔
معاملے کی اصولی وضاحت ایک خالص علمی مسئلہ ہے اور اس کو کوئی بھی ذی علم شخص اپنے علم کے مطابق، بیان کر سکتا ہے۔ اس کے بعد اہلِ علم کو یہ حق ہوگا کہ وہ علمی دلائل کی روشنی میں اس کے ردّ و قبول کا فیصلہ لیکن خود اپنے بارے میں مہدی یا مسیح ہونے کا دعویٰ کرنا، بالکل دوسری نوعیت کی چیز ہے اور اس دوسری چیز کا حق کسی کو حاصل نہیں۔
پیغمبر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ پیغمبر کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے مشن کا آغاز دعوے سے کرے، لیکن مہدی یا مسیح کے معاملے کی نوعیت یہ نہیں ہے۔ کون شخص مہدی تھا یا کس نے مسیح کا رول ادا کیا، اس کا تحقّق (ascertainment) صرف آخرت میں خدا کے اعلان کے ذریعے ہوگا۔ اس لیے دنیا میں اس قسم کا دعویٰ کرنا اپنے آپ میں ایک بے بنیاد دعویٰ (baseless claim) کی حیثیت رکھتا ہے۔ میں اصل چیز دعوے کا تحقّق ہے، اور موجودہ دنیا میں اس دعوے کے تحقّق کے لیے سرے سے کوئی ذریعہ حقیقت یہ ہے کہ مہدی اور مسیح کا معاملہ خود ساختہ تقرری (self-appointment) کا معاملہ جو شخص اس کو ذاتی تقرری کا معاملہ سمجھے، وہ یا تو جاہل ہوگا یا مجنون۔ مہدی اور مسیح ایک حدیث (سنن ابن ماجه، کتاب الفتن، باب : الصبر علی البلاء) کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی اور مسیح، دونوں ایک ہی شخصیت کے علامتی طور پر دو الگ الگ نام ہیں۔ آخری دور میں ظاہر ہونے والی ایک ہی شخصیت ہے، جس کو کسی روایت میں رجل مومن کہا گیا ہے، اور کسی روایت میں مہدی، اور کسی روایت میں مسیح ۔ ایک اعتبار سے، ظاہر ہونے والا شخص، امّت محمدی کا ایک فرد ہوگا، اس اعتبار سے اس کو رجل مومن کہا گیا۔ دوسرے اعتبار سے گم راہی کے عمومی اندھیرے میں ہدایت کی روشنی کو مکمل طور پر دریافت کرے گا، اس اعتبار سے اس کو مہدی کہا گیا ہے، یعنی ہدایت پایا ہوا ایک اور اعتبار سے وہ شخص امّت محمد کے آخری زمانے میں وہی رول ادا کرے گا، جو امّت یہود کے آخری زمانے میں حضرت مسیح نے انجام دیا تھا۔ گویا کہ یہ تینوں الفاظ ایک ہی شخصیت کے تین پہلوؤں کو بتاتے ہیں، نہ کہ الگ الگ تین شخصیتوں کو۔