Al-Risala · May 2010

سائنسی انقلاب کے دو پہلو

Al-Risala, May 2010, pp. 42–51

By Maulana Wahiduddin Khan

مہدی اور مسیح اور دجال کوئی پراسرار شخصیتیں نہیں ہیں۔ یہ دراصل ما بعد سائنس دور (post scientific age) کے حالات میں پیش آنے والے فطری واقعات ہیں۔ قرآن کی تصریح کے مطابق ، موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ شر کے ساتھ خیر اور خیر کے ساتھ شر کا پہلو شامل رہتا ہے (النور: 11)۔ اس عام فطری اصول کے مطابق ، سائنسی انقلاب کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آیا کہ اُس کے ہر شر میں خیر اور ہر خیر میں شر کا پہلو شامل تھا۔ اس کے بعد فطری طور پر دو کردار سامنے آئے ۔ ایک، وہ کردار جس کے حصے میں سائنسی انقلاب کے منفی پہلو کا استعمال آئے گا ۔ دوسرا، وہ کردار جو سائنسی انقلاب کے مثبت پہلو کے استعمال کا کریڈٹ (credit) پائے گا۔ ایک مثال سے اِس کی وضاحت ہوگی۔ قدیم زمانے میں ایٹم (atom) کو مادّے کا آخری نا قابل تقسیم ذرہ سمجھا جاتا تھا جو کہ مادّے کی آخری اکائی تھا۔ اس سے یہ نظریہ بنا کہ حقیقت وہ ہے جو قابل پیمائش ہو۔ لیکن جرمن سائنس داں آئن اسٹائن (وفات: 1955) کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایٹم مزید ٹوٹ سکتا ہے۔ ایٹم کے اس ٹوٹنے کے واقعے کو جوہری انشقاق (nuclear fission) کہا جاتا اس عمل میں ایٹم کا مرکزہ جوہری ذرات کے تصادم سے پھٹ کر غیر معمولی توانائی خارج کرتا ہے : Nuclear fission: the spontaneous or impact -induced splitting of a heavy atomic nucleus, accompanied by a release of energy. اس جوہری انشقاق (nuclear fission) کا ایک پہلو یہ تھا کہ اُس سے انتہائی شدید قسم کی توانائی خارج ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں نے اس توانائی کا منفی استعمال کیا۔ انھوں نے اس کے ذریعے سے ایٹم بم (atomic bomb) یا نیوکلیبر بم (nuclear bomb) بنایا۔ اس طرح ایک ایسا تخریبی ہتھیار بنا، جو تمام مہلک ہتھیاروں سے زیادہ بڑا مہلک ہتھیار تھا۔

لیکن اس جوہری انشقاق کے واقعے میں ایک عظیم مثبت پہلو بھی شامل تھا۔ سے پہلے ایٹم کو آخری مادّی اکائی سمجھا جاتا تھا۔ اس کے تحت یہ نظریہ بنا کہ حقیقت صرف وہ ہے جو تجربے میں آئے۔ جو چیز انسان کے براہِ راست تجربے میں نہ آئے، وہ حقیقت بھی نہیں۔

کے ٹوٹنے کے بعد یہ نظریہ ختم ہو گیا۔ اب معلوم ہوا کہ ایٹم کے ماورا بھی کچھ ایسی حقیقتیں ہیں جو مشاہدے میں نہیں آتیں، اگرچہ وہ اپنا وجود رکھتی ہیں ۔ ان حقیقتوں کو صرف ان کے اثر (effect) کے ذریعہ جانا جا سکتا ہے۔ اس طرح بالواسطہ استدلال (inferential argument) کا طریقہ رائج علمی حلقے میں یہ مان لیا گیا کہ بالواسطہ استدلال یا استنباط (inference) بھی اتنا ہی معقول استدلال (valid argument) ہے، جتنا کہ براہ راست استدلال (direct argument)۔

اس واقعے کا ایک زبردست الہیاتی پہلو تھا۔ قدیم زمانے کے فلاسفہ اور متکلمین، خدا کے وجود پر جو استدلال قائم کرتے تھے، وہ تمام تر بالواسطہ استدلال ہوا کرتا تھا۔ مثلاً وہ استدلال جس کو ڈیزائن سے استدلال (argument from design) کہا جاتا ہے۔ اس طرزِ استدلال کو منکرینِ خدا نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ کوئی سائنٹفک استدلال نہیں۔ مگر اب جب کہ خود سائنس میں جوہری انشقاق کے بعد یہ مان لیا گیا کہ استنباطی استدلال (inferential argument) بھی علمی اعتبار سے ایک معقول استدلال ہے، تو علم الہیات (theology) ایک نئے دور میں داخل ہو گیا، یعنی ایک ایسے دور میں جب کہ الہیاتی استدلال بھی عقلی طور پر اتنا ہی قابلِ قبول ہے، جتنا کہ معروف سائنسی استدلال۔ دورِ آخر میں مہدی، یا مسیح جو کارنامہ انجام دیں گے، وہ کوئی پر اسرار قسم کا شخصی کارنامہ نہیں وہ اُسی طرح اسباب وعلل کے تحت پیش آئے گا، جیسا کہ پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں پیش آیا۔ مثلاً پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلّمہ طور پر ایک عظیم کارنامہ انجام دیا۔ یہ کارنامہ انجام دینے کے لیے خدا نے آپ کو مضبوط افراد کی ایک ٹیم دی، جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ مہدی، یا مسیح جو کارنامہ انجام دیں گے، اُنھیں بھی خدا کی خصوصی مدد کے ذریعے ایک طاقت ور ٹیم غالباً یہی وہ ٹیم ہے جس کو حدیث میں اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وددتُ أنّا قد قالوا : أو لسنا إخوانك يا رسول الله۔ قال : أنتم أصحابى، وإخواننا

اور التعجيل فی الوضوء) یعنی میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنے اخوان کو دیکھیں ۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو۔ ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے، وہ آئندہ آئیں گے۔

اصحاب رسول اور اخوان رسول کا معاملہ کوئی پُراسرار معاملہ نہیں۔ ان دونوں گروہوں کی نوعیت کو قرآن اور حدیث کے مطالعے سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اصحاب رسول کی نوعیت، قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتی ہے۔ اس آیت کے الفاظ یہ ہیں : محمد رسولُ الله والذين معه (الفتح: 29)۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب رسول کو جو اعلیٰ ایمانی درجہ ملا، اس کا راز کیا تھا۔ ایمانی درجے کے حصول کا راز، قرآن کے الفاظ میں، معیت رسول تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور معیت سے فیض یاب ہو کر وہ اصحاب رسول اور خیر امت (آل عمران: 110) بنے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اخوان رسول کا معاملہ بھی قرآن میں مذکور ہے۔ کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 41 میں بالواسطہ طور پر موجود ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: "آئندہ ہم اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر کامل طور پر یہ ظاہر ہو جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے" (حم السجدة: 53)۔

قرآن کی اس آیت میں یہ پیشین گوئی کی گئی تھی کہ ایک زمانہ آئے گا، جب کہ نیچر میں چھپی ہوئی صداقت اسلام کی نشانیاں ظاہر ہوں گی ، اور وہ طالبان حق کے لیے اعلیٰ معرفت کا ذریعہ بنیں گی۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اس دور سے مراد موجودہ سائنسی دور ہے۔ موجودہ سائنسی دور میں عالم فطرت کے ایسے حقائق انسان کے علم میں آئے ہیں جو بلا شبہ معرفتِ اعلیٰ کا ذریعہ ہیں۔ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے غالباً یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اخوان رسول وہ اہل ایمان ہیں جو سائنسی دور میں پیدا ہوں گے، اور سائنسی دریافتوں سے ذہنی غذا لے کر اعلیٰ معرفت کا درجہ حاصل کریں گے، نیز یہی وہ لوگ ہوں گے جو مہدی، یا مسیح کا ساتھ دے کر آخری زمانے میں اعلیٰ دعوتی کارنامہ انجام دیں گے۔

اس معاملے کی ایک مثال سورج گرہن (solar eclipse) اور چاند گرہن (lunar eclipse) کا خلائی ظاہر ہ ہے۔ گرہن دو سماوی اجرام کے درمیان کسی تیسرے گرہ کے گزرنے سے پیدا ہونے والے اندھیرے کا نام ہے۔

Eclipse: The obscuring of the reflected light from one celestial body by the passage of another between it. اصحابِ رسول کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے نصفِ اوّل کا زمانہ ہے۔ اُس زمانے میں سورج گرہن اور چاند گرہن کے بارے میں عجیب و غریب قِسم کی کہانیاں مشہور تھیں۔ یہ معاملہ اُس وقت تو ہمات (superstitions) کے پردے میں ڈھکا ہوا تھا۔ اصحابِ رسول نے توہماتی کہانیوں سے اوپر اٹھ کر سورج گرہن اور چاند گرہن کے معاملے کو جانا۔ انھوں نے یہ دریافت کیا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن، خداوندِ عالم کی دوشانیاں ہیں۔ وہ خدا کی قدرت کا آسمانی مظاہرہ ہیں۔ اپنے اس ذہن کی بنا پر انھوں نے سورج گرہن اور چاند گرہن کو دیکھ کر خدا کی معرفت حاصل کی، اور نماز کی صورت میں خدا کے آگے جھک کر خدا کی عظمت کا اعتراف کیا۔

موجودہ سائنسی دور میں دوربین مشاہدہ کے ذریعے شمسی نظام (solar system) کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ یہ معلومات بلاشبہ ازدیادِ ایمان اور اضافۂ معرفت کا ذریعہ ہیں۔ ان نئی معلومات کی روشنی میں جب آج کا ایک مومن، سورج گرہن اور چاند گرہن کے ظاہر ہ کو دیکھتا ہے، تو اُس کو اُس اعلیٰ معرفت کا تجربہ ہوتا ہے جو دل کو ہلا دے، اور جِس کو سوچ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ جدید معلومات کے مطابق، زمین اور سورج اور چاند، تین بالکل مختلف سائز کے متحرک اَجرام ہیں، مگر وسیع خلا میں ان اَجرام کو ایک نا قابلِ قیاس حساب کے ذریعے ایک سیدھ میں لایا جاتا ہے۔ اِسی کے نتیجے میں، انسانی مشاہدہ کی نسبت سے، سورج گرہن یا چاند گرہن واقع ہوتا ہے۔ مسیح کی آمدِ ثانی کا مسئلہ اس بحث سے تعلق رکھنے والا ایک مسئلہ وہ ہے جِس کو مسیح کی آمدِ ثانی کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ حضرت مسیح آسمان میں زندہ ہیں اور آخری زمانے میں وہ جسمانی طور پر آسمان سے اتر کر زمین پر آئیں گے اور دجّال کو قتل کریں گے۔ یہ تصور اگرچہ لوگوں میں کافی پھیلا ہوا ہے، مگر وہ اپنی موجودہ صورت میں نہ قرآن سے ثابت ہوتا ہے، اور نہ احادیث سے۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں تقریباً یا دو درجن معتبر روایتیں ہیں جن میں مسیح کے ظہور کا بیان پایا جاتا ہے۔ لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ اُن میں سے کسی روایت میں صراحتاً یہ الفاظ موجود نہیں کہ۔ مسیح جسمانی طور پر آسمان سے اتر کر زمین پر آئیں گے۔

اس سلسلے میں جو بات ہے، وہ صرف یہ ہے کہ روایتوں میں نزول اور بعث کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مگر صرف اس لفظ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت مسیح آسمان سے اتر کر نیچے زمین پر آئیں گے۔ زبان میں نزول کا لفظ سادہ طور پر آنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، نہ کہ آسمان سے اترنے کے معنی اسی اعتبار سے مہمان کو نزیل کہا جاتا ہے، یعنی آنے والا۔ اسی طرح بعث کے لفظ میں بھی آسمان سے اترنے کا مفہوم شامل نہیں ہے۔ بعث کا مطلب اٹھنا، یا ظاہر ہونا ہے، نہ کہ جسمانی طور پر آسمان سے اترنا۔ مسیحی رول کی آمد حقیقت یہ ہے کہ مسیح کی آمد سے مراد مسیح کے رول کی آمد ہے، یعنی دورِ آخر میں جب کہ دجّال ظاہر ہوگا، اُس وقت امت محمدی کا کوئی شخص اٹھے گا اور مسیح جیسا رول ادا کرتے ہوئے دجّال کے فتنوں کا مقابلہ کرے گا اور اُس کو شکست دے گا۔ حدیث میں قتلِ دجّال کا ذکر ہے۔ اس سے مراد دجّال کا جسمانی قتل نہیں ہے، بلکہ دجّال کے فتنے کو بذریعہ دلائل قتل کرنا ہے۔

یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ علماء اسلام کی قابلِ لحاظ تعداد اس نقطہ نظر کو ہمیشہ سے مانتی رہی ہے کہ مسیح جسمانی طور پر آسمان سے نازل نہیں ہوں گے۔ اس نقطۂ نظر کی تائید میں مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔ علماء اسلام اس نقطۂ نظر کے حامی ہیں، اُن میں سے بعض کے نام یہ ہیں— امام فخر الدین الرازی (وفات : 1210)، سید جمال الدین افغانی (وفات: 1897)، مفتی محمد عبدہ (وفات: 1905)، سید رشید رضا مصری (وفات: 1935)، شیخ محمود شلتوت (وفات: 1963)، ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938)،

مولانا عبید اللہ سندھی (وفات: 1944)، مولانا ابوالکلام آزاد (وفات: 1958)، شیخ محمد بن احمد ابوزہرہ (وفات: 1974)، شیخ محمد الغزالی (وفات: 1996) وغیرہ۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ، جولائی 2008، مضمون ”قربِ قیامت کا مسئلہ“) علماءِ متقدمین میں علی بن احمد بن حزم اندلسی (وفات: 1063ء) اور شیخ تقی الدین احمد ابن تیمیه (وفات: 1328ء) نے نزولِ مسیح کے مسئلے کو اختلافی مسئلہ قرار دیا ہے۔

اِس طرح یہ ظاہر ہے کہ روایات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسیح کوئی ایسی شخصیت ہیں جو آسمان سے نازل ہوں گے۔ اور جب مسیح آسمان سے اترنے والی کوئی شخصیت نہ ہوں، تو ہمارے لیے صرف یہ انتخاب (option) باقی رہتا ہے کہ مسیح کو سادہ طور پر رول (role) کے معنی میں لیں ، یعنی آخری زمانے میں امتِ محمدی سے کوئی ایک فرد اٹھے گا جو زمانی حالات کے اعتبار سے مسیح کا رول ادا کرے گا۔ مسیحی رول معروف معنوں میں کوئی فضیلت کی بات نہیں اور نہ وہ کوئی پر اسرار چیز ہے۔ رول دراصل ایک تاریخی رول ہے جو کسی امت کے دورِ آخر میں مطلوب ہوتا ہے۔ امتِ موسیٰ کے دورِ آخر میں یہ رول مسیح ابن مریم نے انجام دیا تھا۔ امتِ محمد کے دورِ آخر میں یہ رول خود امت کا کوئی مجدد انجام دے گا۔ امتِ محمد کے دورِ آخر کا رول آسمان سے اترنے والی کسی شخصیت کے ذریعہ انجام نہیں وہ خود امت کے اندر پیدا ہونے والے ایک شخص کے ذریعہ فطری طور پر انجام دیا جائے گا۔ اصل یہ ہے کہ ہر امت اپنے ابتدائی دور میں اخلاص پر قائم ہوتی ہے۔ مگر بعد کے دور میں امت کے افراد کے اندر زوال آجاتا ہے۔ اب امت کے افراد میں منافقت عام ہو جاتی ہے۔ رول حقیقت میں یہی ہے کہ دورِ زوال میں منافقت کو ایکسپوز (expose) کیا جائے اور اخلاص والے دین سے دوبارہ لوگوں کو متعارف کیا جائے۔

منافقت کیا ہے۔ منافقت یہ ہے کہ لوگوں کے اندر دین کی حقیقی روح باقی نہ رہے۔ چیزوں کو دین داری کا معیار سمجھ لیا جائے۔ اسی کو حضرت مسیح نے تمثیل کی زبان میں اِس طرح بیان کیا تھا کہ لوگ اندر سے بھیڑیا ہوں اور انھوں نے اوپر سے بھیڑ کی کھال پہن لی ہو (متی: 7:15)۔

حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، امت محمدی میں منافقت کا یہ دور پوری طرح آچکا ہے۔ عام طور پر یہ حال ہے کہ ظاہری وضع قطع کو دین داری سمجھ لیا گیا ہے۔ لوگوں کو قومی فخر کی غذا دین اسلامی کا نام سمجھا جانے لگا ہے۔ لوگوں کی کنڈیشنگ کو توڑبے بغیر ایمان اور اسلام کے شان دار مظاہرے کئے جارہے ہیں اور ایسے لوگ مسلمانوں کے اندر قومی ہیرو بن گئے ہیں۔ کمیونٹی ورک کو دعوتِ ورک کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ سیاسی اکھیڑ پچھاڑ کرنے والے لوگ مجاہدینِ اسلام کا درجہ پارہے ہیں۔ بھیس میں منافقت کا یہ دور آج امت کے اندر پوری طرح آچکا ہے۔ آج مسیحی رول یہی ہے کہ اس منافقت کو ایکسپو زکر کے اصلی اسلام کو لوگوں کے سامنے مبرہن حالت میں پیش کر دیا جائے۔ حضرت مسیح کا رول حضرت مسیح، بنی اسرائیل کے آخری پیغمبر کے طور پر آئے۔ اُس وقت بنی اسرائیل کے درمیان خدا کا دین موجود تھا، لیکن وہ دین منزّل نہ تھا، بلکہ عملاً اس کی حیثیت دینِ مُرَّف کی بن چکی تھی۔ مسیح نے امت یہود کو دوبارہ دینِ منزّل کا پیغام دیا۔ یہی کام امت محمدی کی نسبت سے بھی مطلوب ہے۔ حدیث کے مطابق، امت محمدی کے دورِ آخر میں، امت کے درمیان تقریباً وہی صورت حال پیدا ہو جائے گی ، جو حضرت مسیح کے زمانے میں امتِ یہود کی تھی۔ اس لیے ضرورت ہوگی کہ امت محمدی کے آخری دور میں دوبارہ مسیحی کردار کو دہرایا جائے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تجدیدِ دین کا ایک معاملہ ہے، نہ کہ کسی پراسرار فضیلت کا معاملہ۔

حدیث کے الفاظ میں، آج اسلام ایک غریب دین (اجنبی دین) بن چکا ہے۔ بعد کو پیدا ہونے والے تصورات نے اصل دین کے اوپر پردہ ڈال دیا ہے۔ آج کے لیے کرنے کا کام یہ ہے کہ دین کو بعد کی ملاوٹوں سے پاک کرکے اس کو اس کی اصل صورت میں پیش کیا جائے، دینِ اجنبی کو دینِ معروف یہ کام مسلمانوں کی نسبت سے بھی مطلوب ہے، اور غیر مسلموں کی نسبت سے بھی۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدی کے آخری دور میں مسیحی رول کا اعادہ اُس وقت ہوگا، جب کہ قیامت بالکل قریب آچکی ہوگی۔ حالات بتاتے ہیں کہ اکیسویں صدی کے آغاز میں قربِ قیامت کی تمام نشانیاں

ظاہر ہو چکی ہیں۔ دینی اعتبار سے اس کی نشانی یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان بگاڑ اس آخری حد تک پہنچ جائے گا، جب کہ انسان یہ جواز (justification) کھودے گا کہ اس کو خدا کی زمین پر مزید باقی رہنے دیا جائے۔ حضرت نوح کے آخری زمانے میں وہ حالات پیدا ہو گئے جس کو انھوں نے اپنی ایک دعا میں اس طرح بیان کیا تھا: إنك إن تذرهم يضلوا عبادك، ولا يلدوا إلا فاجراً كفّارًا (نوح: 27)- جب اس قسم کے انتہائی حالات پیدا ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم طوفان کے ذریعے قوم نوح کو تباہ کر دیا۔ عمومی تباہی سے صرف تھوڑے لوگ بچ سکے، جو ایمان لا کر حضرت نوح کے ساتھی بن چکے تھے۔ اب پھر دنیا میں اتنا زیادہ بگاڑ آ چکا ہے کہ آج کے انسان کے اوپر دوبارہ ’ولا يلدوا إلا فاجراً كفّاراً‘ کے الفاظ صادق آ رہے ہیں۔ تقریباً یقینی معلوم ہوتا ہے کہ جلد ہی طوفان نوح سے بھی زیادہ بڑا طوفان آنے والا ہے، جو روئے زمین سے انسان اور انسانی تہذیب کا خاتمہ کر دے۔ انسانوں کو آخری حساب کے لیے میدان حشر میں خداوند ذوالجلال کے سامنے حاضر کر دے۔ ”مسیح کی آمد ثانی‘‘ کے بارہ میں عام طور پر لوگ سخت غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ انھوں نے بطور خود مسیح کا ایک پر عجوبہ تصور قائم کر رکھا ہے۔ اپنے اس تصور کے مطابق، وہ ایک پر عجوبہ شخصیت کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں۔ حالاں کہ اس معاملے میں نصوص کا مطالعہ بتاتا ہے کہ حضرت مسیح کسی پر اسرار شخصیت کے طور پر ظاہر نہیں ہوں گے۔ اس حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس بات کا سخت اندیشہ ہوتا ہے کہ امت مسلمہ میں دوبارہ وہی صورت حال پیش آئے جو اس سے پہلے امت یہود کے ساتھ پیش آئی تھی۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہود، آخری رسول کی آمد کا انتظار کر رہے تھے، لیکن جب آخری رسول آیا، تو یہود نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا (البقرۃ: 89) کیوں کہ وہ یہود کو ان کے اپنے مفروضہ تصور کے مطابق نظر نہ آیا۔ امت مسلمہ کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے دوبارہ یہ اندیشہ ہے کہ لوگ اپنے مفروضات کے مطابق، ایک خود ساختہ مسیح کی آمد کا انتظار کرتے رہیں گے، جو کہ کبھی آنے وہ اسی انتظار میں رہیں گے، یہاں تک کہ اچانک قیامت آ جائے گی، اور لوگوں کے حصے میں

ابدی حسرت اور محرومی کے سوا کچھ اور نہ آئے گا۔ مسیح، امتِ مسلمہ کے ایک فرد کے مصلحانہ رول کا نام ہے، نہ کہ جسمانی طور پر آسمان سے نازل ہونے والی کسی پر اسرار شخصیت کا نام۔ امتِ مسلمہ کے ایک فرد کا یہ رول عیسیٰ بن مریم کے رول کے مشابہ ہوگا۔ اس لیے اس کو امتِ مسلمہ کا مسیح کہا گیا ہے۔ دورِ آخر کے مجدد کی پہچان اب یہ سوال ہے کہ دورِ آخر کے مجدد کی پہچان کیا ہوگی۔ اُس کی پہچان بلاشبہ یہ نہیں ہوگی کہ وہ کچھ پر عجوبہ صفات کا مالک ہوگا۔ اس کی پہچان بنیادی طور پر دو ہوگی۔ اور یہ دونوں چیزیں واضح طور پر قرآن اور حدیث سے معلوم ہوتی ہیں۔ حدیث میں دورِ آخر کے بارے میں ایک طویل روایت آئی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: لايبقى من الإسلام إلا اسمه، ولا يبقى من القرآن إلا رسمه، مساجدهم عامرة، وهي خراب من الهدىٰ (رواه البيهقى في شعب الإيمان)۔ یعنی اُس وقت اسلام میں سے کچھ نہیں بچے گا، سوائے اس کے نام کے۔ اور قرآن میں سے کچھ نہیں بچے گا، سوائے اس کے نشان اُس وقت ان کی مسجدیں خوب آباد ہوں گی، لیکن وہ ہدایت کے اعتبار سے بالکل ویران ہوں گی۔ اس حدیث کا مطلب کیا ہے، وہ ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ اس دوسری روایت میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد کے زمانے کے بارے میں فرمایا: بدأ الإسلام غريباً، وسيعود كما بدأ (صحیح مسلم، کتاب الإيمان) یعنی اسلام جب شروع ہوا، تو وہ اجنبی تھا، اور دوبارہ وہ اجنبی ہو جائے گا۔

اس قسم کی روایتوں پر غور کرنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ دورِ آخر کے مجدد کی سب سے پہلی علامت یہ ہوگی کہ وہ خدا کی خصوصی توفیق سے، دینِ حق کو دوبارہ اس کی حقیقی صورت میں دریافت وہ ظاہری فارم سے گزر کر، اسلام کی اصل اسپرٹ کا فہم حاصل کرے گا۔ وہ قرآن کی مغالطہ آمیز تشریح سے گزر کر قرآن کے اصل پیغام کو سمجھے گا۔ وہ دینِ اجنبی کو دوبارہ اپنے لیے دینِ معروف دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ خدا کے دین کو دوبارہ اُس طرح دریافت کرے گا، جس طرح اصحابِ رسول نے اس کو دریافت کیا تھا۔ زمانے کے اعتبار سے، وہ بعد کا انسان ہوگا، لیکن معرفت کے

اعتبار سے وہ اصحابِ رسول جیسی معرفت کا حامل ہوگا۔

اُس کی دوسری علامت وہ ہوگی جو قرآن میں پیغمبروں کی نسبت سے ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: وما أرسلنا من رسول إلا بلسان قومه (ابراهيم: 4) یعنی خدا نے جو رسول بھیجے، وہ ان کی اپنی قوم کی زبان میں بھیجے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں، بلکہ وہ ایک نہایت اہم بات ہے جو رسول کو پہچانے کے معاملے میں ایک یقینی معیار کو بتاتی ہے۔

اس آیت میں’’لسان‘‘سے مراد صرف زبان (language) نہیں ہے، اس میں وہ تمام پہلو شامل ہیں جو ایک کامیاب زبان کا ضروری حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ مثلاً وضاحت(clarity)، مؤثر اسلوب، ایسا کلام جو معاصر ذہن کو پوری طرح ایڈریس کرنے والا ہو، وغیرہ۔

اس قسم کا طاقت ور اسلوب کبھی اکتسابی نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ وہی طور پر کسی ایسے شخص کو عطا ہوتا ہے جس سے خدا اپنے دین کی تبیین کا کام لینا چاہے۔ اس استثنائی صفت کے باوجود جو لوگ اس کو نہ پہچانیں، وہ اُسی قسم کے اندھے پن میں مبتلا ہیں، جس اندھے پن کی بنا پر لوگوں نے پچھلے پیغمبروں کو نہیں پہچانا اور وہ ان کے منکر بنے رہے۔

Printed page