Al-Risala · May 2010

معرفت، نہ کہ نزول

Al-Risala, May 2010, pp. 51–53

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح کے ظہور کے متعلق فرمایا: وإنه نازل، فإذا رأيتموه فاععرفوه (سنن أبى داؤد، كتاب الملاحم، باب ذكر الدّجّال) یعنی وہ آئیں گے۔ پس جب تم ان کو دیکھو تو تم اُن کو پہچان لینا۔ اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ پہچاننا‘‘نزول‘‘کی بنیاد پر نہ ہوگا، بلکہ خود ان کی شخصیت کو دیکھ کر ہوگا۔ اگر پہچان کا تعلق نزول سے ہو، تو آسمان سے اُن کا جسمانی طور پر دو فرشتوں کے ساتھ اترنا اتنا زیادہ عجیب واقعہ ہوگا کہ ہر آدمی بلا اعلان ہی ان کو اپنے آپ پہچان لے۔ گویا کہ اس معاملے میں، حدیث کے مطابق، اصل معاملہ سادہ طور پر معرفتِ مسیح کا ہے، نہ کہ معجزاتی طور پر اُن کے آسمانی نزول کا۔ روایت کے مطابق، مسیح کی ایک پہچان یہ ہوگی کہ اُن کے زمانے میں خدا اسلام کے سوا

تمام ملتوں کو ہلاک کردے گا (يُهلك الله فى زمانه الملل كلّها إلّا الإسلام - سنن أبى داؤد، كتاب الملاحم، باب: خروج الدّجال) اس سے مراد بقیہ ملتوں کی جسمانی ہلاکت نہیں ہے، بلکہ ان کی استدلالی ہلاکت ہے۔ ظہورِ مسیح کے زمانے میں فطرت کے جوموافق دلائل، سائنسی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئیں گے، اور مذاہب کے تقابلی مطالعے کے نتیجے میں جو حقیقتیں سامنے آئیں گی، وہ دوسری ملتوں (مذاہب) کی استدلالی بنیاد کو ڈھا دینے کے ہم معنی ہوں گی۔ یہ معاملہ ابتداءً بالقوہ (potentially) پیش آئے گا، یعنی نئے دریافت شدہ حقائق، دوسری ملتوں، یا دوسرے مذاہب کو اپنے آپ ہلاک نہیں کردیں گے، بلکہ اُس وقت ایک شخص درکار ہوگا جو ان دریافت شدہ حقائق کی وضاحت کر کے اس امکان کو واقعہ (actual) بنائے گا۔ حدیث کے مطابق، استثنائی طور پر یہ کام مسیح انجام دیں گے، جب کہ دوسرے لوگ ایسا کرنے میں اپنے آپ کو پوری طرح عاجز پا رہے ہوں گے۔ یہ واقعہ مسیح کی شخصیت کی ایک پہچان ہوگا۔

اِسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ حضرت مسیح جب آئیں گے، تو وہ ایک سفید مینار (المنارة البيضاء) کے پاس اتریں گے (صحیح مسلم، كتاب الفتن )۔ اس حدیثِ رسول میں تمثیل کی زبان میں غالباً اُس دور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کو عہدِ پرواز (age of aviation) کہا جاتا ہے۔ جب کسی ائیرپورٹ پر اترتا ہے تو وہاں پہلا نمایاں نشان اس کا کنٹرول ٹاور ہوتا ہے، جس کو ائیرپورٹ کا مینار کہہ سکتے ہیں۔ اِس مینار کے پاس اتر کر آدمی شہر کے اندر داخل ہوتا ہے۔ مذکورہ حدیث میں غالباً تمثیل کی زبان میں اِسی ظاہرِے کو بتایا گیا ہے۔ اس اعتبار سے حدیث کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ حضرت مسیح عہدِ پرواز (age of aviation) میں لوگوں کے درمیان ظاہر ہوں گے۔ امامت بذریعہ کتاب و سنت حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اُس وقت تمھارا حال کیا ہوگا جب کہ تمھارے درمیان ابن مریم ظاہر ہوں گے، پھر وہ تمھاری امامت کریں گے تمھیں ابن ابی ذئب نے کہا کہ ’’إمامكم منكم‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمھاری امامت

مْ علیکم مبارک و مدنی وسلم صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ) جامع مسلم ، کتاب باب بیان نزول عيسى بن مريم حاکماً ۔

دور آخر میں ظاہر ہونے والے مجدد کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے ۔ وہ کتاب وسنت کو اس کی اصل تعلیمات کے مطابق زندہ کرے گا۔ گویا کہ اُس کا رول آخری دور میں کامل معنوں میں تجدیدِ دین کا رول ہوگا ۔ یہ فتنۂ دہیماء کے بعد اظہارِ دین کی اعلیٰ صورت ہوگی ۔ مسیح کی پہچان یہی ہوگی کہ وہ دین اجنبی کو دوبارہ دینِ معروف بنائیں گے ۔ وہ کتاب وسنت کی تعلیمات کو اس کی حقیقی صورت میں زندہ کریں گے ۔ اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسیح کا ظہور کس وقت ہوگا ۔ یہ واقعہ اُس وقت ہوگا جب کہ حق کا اصلی معیار گم ہو چکا ہوگا۔ اُس وقت مسیح کے ذریعے اس کا حقیقی معیار سامنے آئے گا، یہ معیار ہے خالص کتاب وسنت کا معیار۔

Printed page