Al-Risala · May 2010

قتل دجال

Al-Risala, May 2010, pp. 53–55

By Maulana Wahiduddin Khan

قتل دجال کے بارے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ کے الفاظ یہ ہیں : فإذا نظر إليه الدّجّال ذاب كما يذوب الملح في الماء، وينطلق هارباً، ويقول عيسى إن لي فيك ضربة لن تسبقني بها (كتاب الفتن، باب : ذكر الدّجّال ) یعنی دجّال جب مسیح کو دیکھے گا، تو وہ اس طرح گھلنے لگے گا جیسے کہ نمک پانی میں گھلتا ہے، اور وہ وہاں سے بھاگنا شروع کر دے گا۔ مسیح کہیں گے کہ میرے پاس تیرے لیے ایک ایسی ضرب ہے جس سے بچنا ہرگز تیرے لیے ممکن نہیں۔

اس روایت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ تمثیل کی زبان میں ہے۔ اس پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دجال کے مقابلے میں جو واقعہ پیش آئے گا، وہ یہ ہے کہ مسیح اُس کے دجل کا علمی تجزیہ کر کے اُس کو ایکسپوز (expose) کر دیں گے۔ اس طرح وہ دلائل کے ذریعے دجّال کو بے نقاب کر دیں گے ، یہاں تک کہ جو لوگ دجال کی پر فریب باتوں سے متاثر ہورہے تھے، وہ جان

لیں گے کہ دجال کی باتیں خوش نما الفاظ کے جھوٹے فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ گلوبل وارمنگ، یا موسمیاتی تبدیلی بطورِ آغازِ قیامت عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام اور سائنس دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ اسلام کا موضوع الگ ہے اور سائنس کا موضوع الگ۔ یہ بات کسی حد تک درست ہو سکتی ہے، لیکن ایک شعبہ ایسا ہے جہاں اسلام اور سائنس دونوں ایک دوسرے سے بالکل ہم آہنگ ہوجاتے ہیں، یعنی جو بات سائنس اپنی تحقیق کے ذریعے بتا رہی ہے، وہی بات اسلام میں وحی کے ذریعے بتائی گئی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اسلام میں یہ بات ہزار سال سے بھی زیادہ پہلے ساتویں صدی عیسوی میں بتادی گئی تھی، جب کہ سائنس نے اس بات کو بھی حال کے برسوں میں دریافت کیا ہے، خاص طور پر اکیسویں صدی عیسوی کے آغاز کے بعد۔ یہ شعبہ، قیامت یا تاریخِ انسانی کے خاتمہ کے بارے میں ہے۔ عجیب بات ہے کہ اس سلسلے میں جو باتیں قرآن اور حدیث میں بطور پیشگی خبر کے طور پر بتائی گئی تھیں، وہ اب سائنسی مشاہدات کے ذریعے بطورِ واقعہ انسان کے علم میں آ رہی ہیں۔ یہاں اس سلسلے میں چند مثالیں درج کی جاتی ہیں: کرۂ ارض میں تبدیلی قرآن اور حدیث میں کثرت سے بتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے کچھ علامتی واقعات ظاہر ہوں گے، جو یہ بتائیں گے کہ قیامت اب قریب آگئی ہے۔ مثال کے طور پر اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: يوم تُبَدَّل الأرض غير الأرض والسموات، وبرزوا لله الواحد القهار (ابراهيم: 48) یعنی جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔ الله، واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے۔

اس آیت میں کرۂ ارض کے اندر جس تبدیلی کا ذکر ہے، وہ غالباً اچانک تبدیلی نہیں ہے، بلکہ وہ بتدریج ہونے والی تبدیلی ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ واقعہ عملاً پیش آرہا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے میں سائنس کی مختلف شاخوں میں غیر معمولی ترقی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان ان ہونے والی تبدیلیوں کو بروقت جان سکے، جب کہ سائنسی ترقی سے پہلے انسان کے

لیے ان تبدیلیوں کو جاننا ممکن نہ تھا۔ یعنی خدا نے ایک طرف قیامت کی پیشگی خبر کے طور پر زمین میں چشم کشا تبدیلیاں پیدا کیں، اور عین اُسی وقت خدا نے کو وہ جدید سائنسی طریقے عطا کردیے جن کے ذریعہ وہ ان تبدیلیوں کو براہِ راست طور پر جان سکے۔

اکیسویں صدی کے آتے ہی دنیا بھر کے سائنس دانوں نے اپنے مطالعے کے مطابق، متفقہ طور پر یہ اعلان کرنا شروع کیا کہ زمین میں گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی (climatic change) کے نتیجے میں نہایت تیزی سے تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ جدید سائنسی مشاہدات کے مطابق، ان تبدیلیوں کے نتیجے میں یہ ہونے والا ہے کہ تقریباً 2050 سے پہلے ہی ہماری زمین نا قابل رہائش (inhabitable) ہوجائے۔ پچھلے دس برسوں کے اندر اس سلسلے میں سائنس دانوں کی طرف سے بہت سی رپورٹس شائع حال میں امریکہ کے سائنس میگزین میں اس سلسلے میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ (NASA) کے ایک ٹاپ سائنٹسٹ (James Hansen) کی طرف سے ہے۔ اس رپورٹ کا خلاصہ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (9 اپریل 2008) میں اس عنوان کے تحت چھپا ہے—زمین خطرے میں (Earth in Crisis)۔ اس رپورٹ کے مطابق، زمین پر بحران کی حالت اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ بروقت ہی وہ خطرے کی سطح تک پہنچ چکی ہے:

“We have already reached dangerous level of carbon dioxide in the atmosphere,” James Hansen, 67, director of Nasa’s Goddard Institute for Space Studies in New York, said. (p. 35)

زمین پر لائف سپورٹ سسٹم کے بگڑنے کے معاملے میں سائنس داں جو خبریں دے رہے ہیں، وہ نظریاتی تخمینہ پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ وہ خالص مشاہدات کے ذریعے حاصل کی ہوئی معلومات ہیں۔ موجودہ زمانے میں جو جدید ترین سائنسی طریقے دریافت ہوئے ہیں، اُن کے ذریعے مسلسل مشاہداتی مطالعہ کیا گیا ہے اور پھر یہ رپورٹس میڈیا میں بھیجی گئیں۔ یہ معلومات تمام کی تمام ایسی ہیں جن کو کوئی بھی شخص سائنسی ذرائع کو استعمال کر کے جان سکتا ہے۔

Printed page