دابہ کا ظہور
Al-Risala, May 2010, pp. 55–57
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر 27 میں قیامت کے قریب پیش آنے والی ایک نشانی کا ذکر ہے جس کو دابۃ
کہا گیا ہے: ولما وقع القول علیہم أخرجنا لہم دابّةً من الأرض تکلّمہم أن الناس کانوا بایاتنا لایوقنون (النمل: 82) یعنی جب اُن پر قول پورا ہو جائے گا تو ہم اُن کے لیے زمین سے ایک دابہ نکالیں گے۔ وہ اُن سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری نشانیوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ دابہ کے لفظی معنی ہیں— رینگنے والا (creeper)۔ یہ لفظ قرآن میں حیوان اور انسان دونوں کے لیے آیا ہے (فاطر: 45) آیتِ دابہ میں یہ لفظ زندہ مخلوق (creature) کے معنی میں استعمال ہوا اس زندہ مخلوق سے مراد غالباً ایک انسان ہے، نہ کہ کوئی جانور۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت سے پہلے اللہ تعالیٰ ایک انسان کو اٹھائے گا، جو خدا کی اُن نشانیوں سے لوگوں کو باخبر کرے گا جو اگرچہ موجود تھیں، لیکن لوگ اُن کو خدا کے حوالے سے سمجھنے سے قاصر ہورہے تھے۔
دابہ کے سلسلے میں مختلف روایتیں آئی ہیں۔ ان روایتوں سے بظاہر یہ تصور ہوتا ہے کہ دابہ ایک انوکھی مخلوق ہوگا۔ ان روایتوں کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُن کو تمثیلی اسلوب قرار دے کر سمجھا چناں چہ مفسرین کی ایک جماعت نے ان روایتوں کو تمثیل پر محمول کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ دابہ سے مراد انسان ہے، نہ کہ کوئی عجیب الخلقت جانور۔ اس کے مطابق، دابہ عام انسانوں جیسا ایک انسان ہوگا اور وہ خدا کی خصوصی توفیق کے ذریعے خدا کی نشانیوں کے اظہار کا ذریعہ بنے گا۔ مفسر القرطبی (وفات: 671ھ) نے اس رائے کو ان الفاظ میں نقل کیا ہے: إنّ الأقــــرب أن تكون هذه الدابة إنساناً متكلماً، يناظر أهل البدع والكفر ويجادلهم لينقطعوا، فيهلك من هلك عن بينة، ويحيا من حيّ عن بينة (تفسير القرطبي، جلد 13، صفحه 236) یعنی بعض متاخر مفسرین نے کہا ہے کہ قریب تر بات یہ ہے کہ یہ دابہ ایک بولنے والا انسان ہو۔ وہ اہل بدعت اور اہل کفر سے مباحثہ کرے گا، تاکہ وہ باز آ جائیں۔ چناں چہ جس کو ہلاک ہونا ہے، وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو۔ اور جس کو زندہ رہنا ہے، وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔
قرآن کی اس آیت میں جب دابہ سے مراد دوڑ یا آخر میں ظاہر ہونے والا انسان ہے، پھر کیوں ایسا ہوا کہ یہاں انسان کے بجائے دابہ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ اس کا سبب قانونِ التباس ہے، جس کا
بیان قرآن کی سورہ الانعام کی آیت نمبر 9 میں کیا گیا ہے۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر چا اپنی وحی کو فرشتہ کے ذریعہ بھیجتا ہے، لیکن دوسروں کے سامنے اس وحی کا اعلان ایک آدمی کے ذریعہ کرایا جاتا ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے، تاکہ سنت الہی کے مطابق، شبہہ کا عنصر (element of doubt) باقی رہے۔ وحی لانے والا فرشتہ اگر خود ہی ظاہر ہو کر لوگوں کو آیتیں سناتا تو شبہہ کا عنصر ختم ہو جاتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک بشر کو اپنی وحی کے اعلان کا ذریعہ بنایا۔ غالباً یہی وہ حکمت ہے جس کی بنا پر قرآن میں دابہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، تاکہ شبہہ کا عنصر باقی رہے۔ یہاں انسان کا لفظ استعمال کیا جاتا تو قانون التباس کی حکمت باقی نہ رہتی۔ ”دابہ“ کا رول جو قرآن میں بتایا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ دابہ ظاہر ہو کر خدا کی مخفی نشانیوں کو آشکارا کرے گا اور دلیل کی زبان میں لوگوں سے کہے گا کہ جب یہ کھلی ہوئی نشانیاں موجود ہیں تو کس چیز نے تم کو روکا ہے کہ تم ان نشانیوں پر یقین نہ کرو۔
قرآن کی مذکورہ آیت میں جن نشانیوں (آیات) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اُن سے مراد غالباً وہ نشانیاں ہیں جو آخری زمانے میں ظاہر ہو کر دینِ خداوندی کی حقانیت کو آخری حد تک مبرہن کر دیں گی۔ اس طرح گویا دابہ یا دورِ آخر میں ظاہر ہونے والا داعی، اللہ کی طرف سے لوگوں کے اوپر آخری اتمام حجت ہوگا۔ اس اتمامِ حجت کے بعد دوسرا واقعہ صرف یہ ہوگا کہ فرشتہ اسرافیل اپنا صور پھونک دے اور قیامت برپا ہو جائے۔