حدیث میں آئی ہوئی پیشین گوئیاں
Al-Risala, May 2010, pp. 57–62
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ آخری زمانے میں ایک سنگین فتنه ظاہر ہوگا، یعنی فتنہ دہیماء (سنن أبی داؤد، کتاب الملاحم)۔ اس سے مراد غالباً ذہنی کہر (intellectual fog) جیسی صورتِ حال ہے۔ یہ صورت حال پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے بعد شروع ہوئی، اور انٹرنیٹ کے دور میں آکر وہ اپنی آخری حد تک پہنچ گئی۔ اس زمانے میں پرنٹنگ میٹریل اور الیکٹرانک میٹریل کے ذریعے اتنی زیادہ باتیں لوگوں کے درمیان پھیلائی گئی ہیں کہ اب ہر انسان معلومات کے جنگل میں جی رہا ہے۔
اس صورتِ حال نے ایک ذہنی کُہر کی حالت پیدا کر دی ہے۔ ہر آدمی کا دماغ معلومات کا جنگل بنا ہوا ایسی حالت میں حق اور باطل کے درمیان فرق کرنا اور غلط کو الگ کر کے صحیح کو دیکھنا، اتنا زیادہ مشکل ہو چکا ہے کہ وہ خدا کی خصوصی مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک قائم نہیں ہوگی، یہاں تک کہ ہرج بہت زیادہ نہ بڑھ جائے (لا تقوم الساعۃ حتّی یکثر لوگوں نے کہا کہ ہرج کیا ہے، اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا: القتل، القتل (صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ)۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل کا زمانہ ہے۔ اُس زمانے میں جدید ہتھیار نہیں بنے تھے۔ اُس وقت یہ نا قابل تصور تھا کہ قتل اور خوں ریزی ہر طرف عام ہو جائے۔ یہ صرف موجودہ زمانے میں ممکن ہوا ہے، جب کہ عمومی تباہی کے ہتھیار (weapons of mass destruction) بنائے گئے اور وسیع پیمانے کا قتل و خون ممکن ہو گیا۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں ہر طرف اور ہر روز کثرت سے قتل اور خوں ریزی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس بات کی علامت ہے کہ اب قیامت بہت قریب آچکی ہے۔ اس پیشین گوئی کی صداقت کے لیے یہ ثبوت کافی ہے کہ یہ پیشین گوئی بہت پہلے اُس وقت کی گئی، جب کہ موجودہ قسم کا قتل اور تشدد بالکل نا قابل قیاس تھا۔
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوشک الفرات أن يحسر عن كنز من ذهب (صحیح مسلم، كتاب الفتن) یعنی وہ زمانہ آنے والا ہے، جب کہ دریائے فرات میں سونے کا ایک خزانہ نکلے۔
اس حدیث میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے، اُس سے مراد واضح طور پر پٹرول ہے، جس کو موجودہ زمانے میں سیال سونا (liquid gold) کہا جاتا ہے اور جو بہت بڑی مقدار میں شرقِ اوسط (Middle East) کے عرب علاقے میں ظاہر ہوا ہے۔ یہ واقعہ بھی پیغمبر اسلام کے زمانے میں
ناقابل تصور تھا۔ موجودہ زمانے میں بلاشبہ آپ کی یہ پیشین گوئی پوری ہو چکی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی ایک علامت ہے کہ قیامت اب زیادہ دور نہیں۔
4- ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب قیامت کی دس نشانیوں کا اُن میں سے ایک نشانی دُخان کا ظاہر ہونا ہے۔ دُخان کے لفظی معنی دھواں (smoke) اس روایت میں یہ پیشین گوئی کی گئی تھی کہ ایک وقت ایسا آئے گا، جب کہ زمین کی پوری فضا دھوئیں سے بھر جائے گی۔
موجودہ زمانے میں یہ پیشین گوئی واقعہ بن چکی ہے۔ اس سے مراد واضح طور پر وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں فضائی کثافت (air pollution) کہا جاتا ہے۔ یہ کثافت، جدید صنعتی دور کا ایک ظاہر ہ ہے۔ جدید صنعتی دور نے تاریخ میں پہلی بار وہ چیز پیدا کی ہے جس کو کاربن ایمیشن (carbon emission) کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پوری فضا کار بن ڈائی آکسائڈ سے بھر گئی ہے، جو انسان جیسی مخلوق کے لیے انتہائی حد تک مہلک ہے۔ فضائی کثافت کا یہ معاملہ پیغمبرِ اسلام کے زمانے میں نا قابل تصور تھا۔ ایسی حالت میں چودہ سو سال بعد اس پیشین گوئی کا واقعہ بننا، قرب قیامت کی ایک واضح نشانی کی حیثیت رکھتا ہے۔
5- ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنکم سترون بعد قلیل أمراً عظيماً، يُحرّق البيت، ويكون ويكون (صحیح مسلم، کتاب الفتن )۔ آئندہ تم ایک امرِ عظیم دیکھو گے، وہ یہ کہ ایک گھر جلا دیا جائے گا۔ ایسا ہوگا اور ضرور ہوگا۔ حدیث کے الفاظ پر غور کیجیے تو یہ کسی عام گھر کو جلانے کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ ایک بہت بڑے گھر کو جلانے کی بات ہے، جیسا’ گھر‘ قدیم زمانے میں موجود نہ تھا۔ اس پیشین گوئی سے غالباً وہ واقعہ مراد ہے جو 11 ستمبر 2001 کو نیو یارک (امریکا) میں پیش آیا۔ یہاں مشہور ورلڈ ٹریڈ سنٹر (World Trade Centre) واقع تھا۔ یہ سنٹر 72-1970 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی ایک سودس یہ گویا کہ ایک عمارتپی پہاڑ تھا۔ روایتی طریقوں سے اس کو توڑنا، یا جلانا ناممکن تھا۔
تاریخ کو کچھ لوگوں نے دو ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کیا اور اس کو فضا میں تیز اڑاتے ہوئے لے جا کر ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ٹکرا دیا۔ اس کے بعد ایک عظیم دھماکہ کے ساتھ پوری بلڈنگ جل کر کھنڈر ہو گئی۔ ایسے کسی واقعے کے ظہور میں آنے کے لیے بہت سے اسباب درکار تھے۔ یہ اسباب تاریخ میں پہلی بار بیسویں صدی عیسوی میں انسان کو حاصل ہوئے ۔ ایسی حالت میں اس انوکھی پیشین گوئی کا حرف بہ حرف پورا ہونا ، اِس بات کی یقینی علامت ہے کہ اب قیامت کا وقت قریب آچکا ہے، اس کے آنے میں اب زیادہ دیر نہیں۔
6- ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تقوم السّاعة حتّی لا يُقال في الأرض : الله، الله (صحيح مسلم، كتاب الإيمان؛ الترمذی، كتاب الفتن ) یعنی قیامت صرف اُس وقت قائم ہوگی جب کہ زمین پر کوئی اللہ، اللہ کہنے والا باقی نہ رہے۔ اس حدیث میں قول سے مراد قول لسان نہیں ہے، بلکہ قول معرفت ہے، جیسا کہ قرآن (المائدۃ: 83) سے ثابت ہوتا ہے۔ قول معرفت کا معیار قرآن میں بتا دیا گیا ہے۔ وہ معیار یہ ہے کہ قول معرفت ایک ایسے انسان کی زبان سے نکلتا ہے، جو اللہ کے ساتھ حب شدید (البقرہ: 165) اور خوف شدید (التوبۃ: 18) کا تعلق رکھتا ہو۔ جس کا حال یہ ہو کہ جب اس کے سامنے خدا کا ذکر کیا جائے، تو اس کا سینہ خدا کی عظمت کے احساس سے دہل اٹھے (الأنفال : 2) ۔ جب زمین پر اس معنی میں خدا کی عظمت کا اعتراف کرنے والے لوگ باقی نہ رہیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ قیامت کا وقت قریب آگیا ہے۔ انسان کا وجود اور یہاں کی ہر چیز جو انسان کو ملی ہوئی ہے، وہ سب خدا کا انعام ہے۔ اللہ کا چرچا کرنے والوں کا زمین پر نہ ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ ایسی صورت حال کا مطلب یہ ہے کہ لوگ خدا کے انعام کو تو خوب خوب لے رہے ہیں ، لیکن وہ مُنعم کا اعتراف نہیں کرتے۔ جب زمین پر ایسی صورت حال پیدا ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انسان نے آخری طور پر اس بات کا جواز کھو دیا ہے کہ اْس خدا کی زمین پر مزید آباد رہنے کا موقع دیا جائے۔
موجودہ زمانے میں یہ پیشین گوئی واقعہ بن چکی ہے۔ موجودہ زمانے میں ایسے لوگ تو کثرت
سے ملیں گے جو تکرار لسان کے طور پر اللہ کا نام لیں، مگر اللہ کے نزدیک ایسے لوگوں کی کوئی قیمت نہیں، اور جہاں تک حقیقی معنوں میں اللہ کو یاد کرنے کا سوال ہے، ساری زمین پر بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جو اس معاملے میں مطلوب معیار پر پورے اتریں۔
اس کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ پرنٹنگ پریس اور اسٹیج کے دور کے آنے کے بعد مسلمان بڑی بڑی سرگرمیاں کر رہے ہیں، مگر حقیقی معنوں میں خدا کا چرچا کرنے والے لوگ کہیں نظر نہیں آتے۔ اپنے قومی فخر میں جی رہے ہیں، نہ کہ خدا کی عظمت میں۔ خدا کی حقیقی عظمت کا ذکر ان کی تقریروں اور تحریروں اور ان کے اداروں میں کہیں نظر نہیں آتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے اپنی قومی عظمت کو تو ضرور دریافت کیا، لیکن وہ خدا کی عظمت کو دریافت نہ کر سکے۔ ایسی حالت میں یہ ایک فطری بات ہے کہ ان کی زندگیاں خدا کی حقیقی عظمت کے چرچے سے خالی نظر آئیں۔
7- قربِ قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت حدیث میں یہ بتائی گئی ہے کہ اُس زمانے میں اسلام کا کلمہ دنیا کے ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں داخل ہو جائے گا (لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر، ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام)۔ اس سلسلے میں مزید یہ الفاظ آئے ہیں: بعزّ عزيز، وذُلّ ذليل (مسند احمد، جلد 6، صفحہ 4)۔ یعنی عزت والے کو عزت کے ساتھ اور ذلت والے کو ذلت کے ساتھ۔ اس سے مراد کسی قسم کی سیاسی طاقت نہیں ہے۔ یہ ایک اسلوبِ کلام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواہی نہ خواہی (willingly or unwillingly) یعنی کوئی شخص چاہے یا نہ چاہے، اسلام کا کلمہ بہرحال اس کے گھر میں داخل ہو جائے گا۔
یہ واقعہ کس طرح ہوگا۔ کمپیوٹر ایج (computer age) نے اس بات کو پوری طرح قابل فہم بنا دیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ عملاً ہر گھر میں اور ہر آفس میں کمپیوٹر داخل ہو گیا ہے۔ انٹرنیٹ اور ویب سائٹ پر تمام اسلامی معلومات بھری جا رہی ہیں۔ اب دنیا کے کسی بھی مقام پر اور کسی بھی آفس یا گھر میں ایک شخص اپنے کمپیوٹر کے ذریعے، اسلام کے بارے میں پوری معلومات خود اپنی زبان میں حاصل کر سکتا ہے۔ اس معاملے پر غور کرتے ہوئے سمجھ میں آتا ہے کہ ہر گھر میں کلمۂ اسلام
کے داخلے سے مراد امکانی داخلہ (potential entry) ہے، نہ کہ واقعی داخلہ (actual entry)۔ امکانی داخلے کے اعتبار سے بلاشبہ، اسلام کا کلمہ ہر گھر میں داخل ہو چکا ہے۔ مذہب کی تاریخ بتاتی ہے کہ خدا نے جب انسان کو پیدا کیا تو شروع ہی سے انسان کی رہ نمائی کے لیے دنیا میں پیغمبر آتے رہے۔ پیغمبروں کا دور، وہ دور ہے جب کہ وحی (revelation) کی سطح پر حقیقت کا علم دیا جاتا رہا۔ یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ جدید سائنسی انقلاب آیا۔ اب یہ ہوا کہ جو حقیقت پہلے وحی کی سطح پر بیان کی جا رہی تھی، وہ خود علم انسانی کی سطح پر آخری حد تک مُبرہن حقیقت (proved fact) بن گئی۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ الہامی کتاب (قرآن)، اور انسانی علم دونوں کے اعتبار سے مشترک طور پر مسلّمہ بنیاد (mutually accepted ground) فراہم ہوئی ہے، جس نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ سچائی کی یقینی معرفت حاصل کی جاسکے۔ اس کے بعد معرفتِ حق کا کوئی اور درجہ باقی نہیں۔ اس کے بعد جو ہونے والا ہے، وہ صرف یہ کہ قیامت واقع ہو، اور خداوند ذوالجلال براہِ راست طور پر انسان کے سامنے آجائے۔ آخری وقت آگیا ہے کہ تمام انسان جاگ اٹھیں۔ جو لوگ اب بھی نہ جاگیں، ان کو قیامت کا بھونچال جگائے گا، مگر اُس وقت کا جاگنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔
نوٹ: زیر نظر مقالہ دو سال پہلے تیار کیا گیا تھا۔ اس درمیان میں اس مقالے کو بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو برائے مطالعہ دیا گیا، انڈیا کے اندر بھی اور انڈیا کے باہر بھی۔ خاص طور پر انڈیا کے تقریباً تمام بڑے تعلیمی اداروں سے منسلک افراد کو اسے پڑھنے کے لیے دیا گیا۔ اس کو پڑھنے کے بعد تمام اہلِ علم نے اس سے بنیادی طور پر اتفاق کیا، کسی بھی عالم کی طرف سے کوئی قابلِ ذکر اختلاف سامنے نہیں آیا۔ اس طرح کے دوسال گزارنے کے بعد اب الرسالہ میں اس کو شائع کیا جا رہا ہے۔ (25 مارچ 2010)