قانونِ التباس
Al-Risala, June 2010, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر 6 میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر کے منکرین نے کہا کہ اگر اللہ کو اپنا پیغام ہمارے پاس بھیجنا تھا تو وہ فرشتے کے ذریعے اپنا پیغام بھیجتا، تاکہ ہمیں اس کی حیثیت کے بارے میں شبہ نہ ہو اور ہم کسی اشتنباہ کے بغیر اس کا اقرار کر لیں۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ فرشتے کو پیغمبر کی حیثیت سے بھیجتا تو اُس کو بھی انسان بنا کر بھیجتا اور: وللبسنا عليهم ما يلبسون (الأنعام: 9) یعنی ہم پھر بھی اُن کو اُسی شبہ میں ڈال دیتے جس شبہ میں وہ اب پڑے ہوئے ہیں۔ یہ کوئی منفرد واقعہ نہیں، اس آیت میں دراصل اللہ کے عام قانون التباس کو بتایا گیا ہے۔ نے انسان کو چوں کہ آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے، اس لیے اس دنیا میں ہمیشہ ہر معاملے کے ساتھ ایک شبہ کا عنصر (element of doubt) موجود رہتا ہے۔
یہ موجودہ دنیا کے لیے ایک عام قانون ہے کہ یہاں ہر واقعے کے ساتھ شبہ کا ایک عنصر شامل اس دنیا میں ہدایت صرف اُس شخص کو ملتی ہے جو اپنے شعور کو متحرک کر کے شبہ کے پردے کو پھاڑے، اور شبہ کے باوجود حقیقت کو کامل یقین کے ساتھ دریافت کر سکے۔
قانونِ التباس کا یہ معاملہ تمام پیغمبروں کے ساتھ موجود تھا۔ اسی طرح یہ معاملہ قیامت تک ہمیشہ باقی رہے گا۔ جب بھی کوئی داعی، سچا مصلح اور سچا مجدد اٹھے گا تو اس کی شخصیت کے ساتھ لازما ًشبہہ کا یہ عنصر شامل رہے گا، حتی کہ آخری زمانے میں ظاہر ہونے والے مہدی اور مسیح کا معاملہ بھی اس سے مہدی اور مسیح کی شخصیت کے ساتھ بھی شبہہ کے اسباب لازما ًموجود ہوں گے۔ پیغمبر کی طرح مہدی اور مسیح کو بھی وہی لوگ پہچانیں گے اور اُن کا ساتھ دیں گے جو شبہہ کے پردے کو پھاڑنے کی نادر صلاحیت رکھتے ہوں ۔ اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ یہاں کوئی اعلیٰ سعادت صرف اُس شخص کو ملے جو شبہات سے بلند ہو کر سچائی کو پہچانے اور یقین کے ساتھ اس کا مکمل ساتھ دے سکے۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا آزمائش (test) کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس بنا پر یہاں حقیقتوں کو دو اور دو چار کی طرح نہیں کھولا گیا ہے۔ یہاں ہر حقیقت کے ساتھ شبہ کا عنصر (element of doubt) یہ اصول پیغمبر کے زمانے میں بھی تھا اور وہ آئندہ بھی قیامت تک باقی رہے گا۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے دجال اور مہدی اور مسیح کا ظہور ہوگا۔ لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ دجال اور مہدی اور مسیح کا معاملہ مذکورہ قانون عام سے مستثنیٰ نہیں۔ اس قانون عام کے مطابق، ایسا ہر گز نہیں ہوگا کہ دجال اور مہدی اور مسیح کا ظہور اس طرح برہنہ انداز میں ہو کہ لوگ کسی شبہ یا کسی مغالطہ کے بغیر اُن کو جان لیں اور فوراً اُن کے معاملے میں اپنے مطلوب رویتے کو اختیار کر لیں۔ دجال اور مہدی اور مسیح کے ساتھ یقینی طور پر اُسی طرح شبہ کا عنصر موجود رہے گا، جس طرح وہ اس سے پہلے پیغمبروں کے ساتھ موجود تھا۔
حدیث میں بیان کردہ علامتیں بتاتی ہیں کہ قیامت اب بہت قریب ہے۔ اس اعتبار سے غالباً یہ کہنا درست ہوگا کہ دجال اور مہدی اور مسیح کا ظہور ہو چکا ہے۔
ضرورت ہے کہ لوگ اس معاملے میں کامل سنجیدگی کے ساتھ متجسس (curious) بنیں اور اپنے ایمانی تقاضوں کو پورا کریں، تاکہ ایسا نہ ہو کہ تاریخ کا کاؤنٹ ڈاؤن (countdown) اپنی آخری گنتی پر پہنچ جائے اور فرشتہ اسرافیل قیامت کا صور پھونک دے۔ جب ایسا ہوگا تو اس کے بعد کسی کے لیے نہ توبہ کا وقت ہوگا اور نہ اعتراف کا۔ سے پہلے تمام حقیقتیں شبہ کے پردے میں ہیں، صور اسرافیل اس پردے کو پھاڑ دے گا اور اس کے بعد تمام حقیقتیں عیا نأ سامنے آ جائیں گی۔
کہانیاں قرآن سے Kahaniyan Quran Se Saturday 8.30 pm, Sunday 9.30 am Monday 4.00 pm, Friday 3.00 am (Zee Salaam is available on Dish TV and DTH, channel no. 786)