ظلم کیا ہے
Al-Risala, June 2010, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر 31 میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا سب سے بڑا ظلم ہے لغوی اعتبار سے ظلم کا مطلب ہے: وضع الشيئ فى غير موضعه (المفردات للراغب الأصفهانی) یعنی کسی چیز کو اس کے اصل مقام کے علاوہ کسی اور مقام پر رکھنا۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر فطری طور پر انتہائی طاقت ور جذ بہ رکھا گیا ہے۔ (awe) کا جذبہ، اور رحم (mercy) کا جذبہ۔ صحیح یہ ہے کہ ان دونوں قسم کے جذبات کو اس کے اصل مقام پر رکھا جائے ۔ کسی اور چیز کو ان جذبات کا مرکز نہ بنایا جائے۔ استجاب کے جذبے کا صحیح استعمال یہ ہے کہ اس کو صرف اللہ واحد کے ساتھ وابستہ کیا جائے۔ اسی کا نام توحید ہے۔ اس جذبے کا مرکز کسی غیر اللہ کو بنانا شرک ہے، اور شرک ایک ناقابل معافی جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ گویا کہ شرک نام ہے ایک صحیح جذبے کے غلط استعمال کا: