اعزاز یا ڈیوٹی
Al-Risala, June 2010, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یہود کا اصل فریضہ یہ تھا کہ وہ لوگوں کے سامنے اُس سچائی کا اعلان کریں جو اُنھیں اُن کے پیغمبروں کے ذریعے دی گئی ہے۔ بائبل (یسعاہ) میں یہود کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے__ خداوند فرماتا ہے، تم میرے گواہ ہو، اور میرے خادم بھی جسے میں نے برگزیدہ کیا: “You are my witnesses” says the Lord, “and My servant, whom I have chosen”. (Isaiah: 43: 10)
بائبل کی اِس آیت میں ’’برگزیدہ گروہ‘‘ (chosen people) کا لفظ یہود کے لیے اعزاز کا ٹائٹل (title of honour) کے طور پر نہیں تھا، بلکہ وہ ٹائٹل آف ڈیوٹی (title of duty) کے طور پر تھا۔ اُن کو اللہ نے اِس لیے چنا تھا کہ وہ لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچائیں اور آخرت میں اِس کا لیکن یہود نے یہ کیا کہ انھوں نے دعوت کی ذمے داری کو چھوڑ دیا اور فخر کے طور پر یہ کہتے رہے کہ ہم خدا کے برگزیدہ گروہ ہیں۔
موجودہ زمانے کے مسلمان اِسی یہودی سنت کا اتباع کر رہے ہیں۔ قرآن میں امت محمدی کے لیے خیر امت (آل عمران: 110) کا لفظ آیا ہے، اور اُن کی ذمے داری یہ بتائی گئی ہے کہ وہ ہر زمانے میں قوموں کے سامنے خدا کے دین کی گواہی دیں (البقرۃ: 143)۔ مگر مسلمانوں نے یہ کیا کہ ’’خیر امت‘‘ کو انھوں نے اپنے لیے اعزاز کا ٹائٹل سمجھ لیا اور دعوت اور شہادت کی ذمے داری کو یکسر ترک چناں چہ اب خدا کا دین مسلمانوں کے لیے فخر کا عنوان ہے، نہ کہ ڈیوٹی کا عنوان۔ یہ صورتِ حال بے حد تشویشناک ہے۔ قرآن میں صاف صاف یہ اعلان کیا گیا ہے کہ کسی گروہ کے ساتھ اللہ کا کوئی خصوصی رشتہ نہیں۔ چناں چہ فرمایا کہ: نہ مسلمان کی آرزوؤں پر ہے اور نہ اہلِ کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو کوئی بھی برا کرے گا، وہ اس کا بدلہ پائے گا (النساء: 123)۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ کے یہاں عمل کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا، نہ کہ خودساختہ خوش خیالیوں کی بنیاد پر۔