جب قیامت قریب آجائے گی
Al-Risala, June 2010, pp. 10–11
By Maulana Wahiduddin Khan
قیامت سے پہلے آخری زمانے میں ایک دور آئے گا جس کو حدیث میں فتنۂ دہیماء کہا گیا ہے۔ فتنہ دہیماء سے مراد: الفتنة السوداء المظلمة ہے، یعنی مکمل تاریکی کا فتنہ۔ دوسرے لفظوں میں اس کو فکری تاریکی (intellectual darkness) کہا جاسکتا ہے۔ فتنہ دہیماء سے مراد قیامت سے پہلے کا وہ زمانہ ہے جب کہ اشاعتی ذرائع کی کثرت کے نتیجے میں مختلف قسم سے افکار کا جنگل اتنا زیادہ بڑھ جائے گا کہ لوگ فکری کنفیوژن میں جینے لگیں گے۔
اس نازک دور میں اللہ کی سنت کے مطابق ، کسی بندۂ خدا کے ذریعے کامل سچائی ظاہر ہوگی۔ بہت سے لوگ جو اس کامل سچائی کو دلائل کی روشنی میں جانچیں گے، وہ نظری طور پر جان لیں گے کہ یہی خدائی سچائی ہے۔ لیکن خدائی سچائی ہمیشہ انسانوں میں سے کسی انسان کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے۔ نظری اعتراف کے باوجود اُس میں شبہہ کا ایک عنصر (element of doubt) ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ یہ صورت حال اہل ایمان کے لیے ایک نازک امتحان کا سبب بن جاتی ہے۔
اس صورت حال میں اہل ایمان کے لیے بظاہر دو موقف ہوتے ہیں — ایک، یہ کہ وہ نظری اعتراف کے باوجود عملی طور پر غیر جانب داری (indifference) کا رویہ اختیار کر لیں۔ دوسرا، یہ کہ وہ اجتہاد کریں اور اپنے اجتہاد کے مطابق، جو سچائی ظاہر ہوئی ہے، بھر پور طور پر وہ اس کے ساتھی بن خالص شرعی اعتبار سے، پہلا موقف اختیار کرنا کسی کے لیے جائز نہیں۔ اس طرح کی صورت حال میں غیر جانب داری کا موقف ایک جرم کی حیثیت رکھتا ہے، یقینی طور پر وہ کوئی جائز موقف نہیں۔ اس طرح کی صورت حال میں درست موقف یہی ہے کہ اہل ایمان اجتہاد کرتے ہوئے شبہہ کے پردے کو پھاڑیں اور دوڑ کر سچائی کا ساتھ دیں۔ یہ وہ موقع ہے جب کہ اجتہاد فرض ہو جاتا اگر آدمی کا اجتہاد درست تھا تو حدیث کے مطابق، اُس کو اللہ تعالیٰ کے یہاں دوہرا اجر ملے اور اگر بالفرض اُس نے اجتہادی خطا کی ہے، تب بھی اس کے لیے ایک اجر کی بشارت ہے
(صحیح البخاری، کتاب الاعتصام، باب اجر الحاکم)۔ اجتہادی خطا پر بھی اجر کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے موقع پر غیر جانب دارانہ رویہ سرے سے جائز ہی نہیں۔ ایسے موقع پر آدمی کو ہر حال میں اجتہادی فیصلہ کرنا ہے، خواہ اس کے لیے اجتہادی خطا کا رسک (risk) کیوں نہ موجود ہو۔ اس سلسلے میں ایک متعلق روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: إذا اقترب الزّمان لم تكد رؤيا المؤمن تكذب (کتاب التعبیر، باب القید فی المنام) یعنی جب (قیامت کا) زمانہ قریب آئے تو مومن کا خواب جھوٹا خواب نہیں ہوگا۔ اس حدیث کی شرح میں ابن حجر العسقلانی نے لکھا ہے کہ :إن المراد بالزمان المذكور زمان المهدى (فتح الباری 12/223) یعنی اس روایت میں جس زمانے کا ذکر ہے، اُس سے مراد مہدی کا زمانہ ہے۔ اسی طرح سنن الترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی میں اس روایت کے تحت یہ الفاظ درج ہیں: قالوا : يريد به زمن خروج المهدى (6/56) یعنی علماء نے کہا ہے کہ اس زمانے سے مراد مہدی کے خروج کا زمانہ ہے۔
اصل یہ ہے کہ مہدی کا زمانہ فتنہ دہیماء کا زمانہ ہوگا۔ اُس زمانے میں افکار کی کثرت کے نتیجے میں حقائق مشتبہ ہو جائیں گے۔ تمام لوگ فکری کنفیوژن میں جینے لگیں گے۔ ایسی حالت میں مہدی کے ظہور کے باوجود لوگوں کے لیے مہدی پر یقین کرنا مشکل ہو جائے گا۔ لوگ دیکھیں گے کہ مہدی جو بات کہہ رہا ہے، وہ پوری طرح مبنی بر حق ہے۔ لیکن مہدی عام انسان جیسا ایک انسان ہوگا، اس بنا پر لوگوں کے لیے شبہ کا ایک عنصر باقی رہے گا۔
اُس وقت اللہ تعالیٰ کی خصوصی تائید رؤیا صادقہ (سچے خواب) کی شکل میں ظاہر ہوگی۔ کے علم کے مطابق، جن لوگوں کے اندر سچی تلاش کا جذبہ ہوگا، اُن کو مہدی کی نسبت سے تائیدی خواب دکھائے جائیں گے۔ یہ خواب گویا کہ مہدی کے حق میں تائید مزید (additional support) کے ہم معنی ہوں گے۔ ایسے خوابوں کو دیکھنے والے اہل ایمان یہ یقین کر لیں گے کہ یہی وہ شخص ہے جس کی پیشین گوئی حدیث میں مہدی کے لفظ سے کی گئی ہے، اور پھر وہ دل سے اس کے ساتھی بن جائیں گے۔