Al-Risala · June 2010

خاتمہ کا آغاز

Al-Risala, June 2010, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق ، انسانی تاریخ کے دو دور ہیں — قیامت سے پہلے کا دور ، اور قیامت کے بعد کا دور ۔ قرآن اور حدیث میں بتایا گیا ہے کہ قیامت جب قریب آجائے گی تو کچھ کھلی کھلی علامتیں (signs) ظاہر ہوں گی ، یہ اس بات کا اعلان ہوگا کہ انسانی تاریخ کے پہلے دور کا خاتمہ قریب آگیا ہے ۔ ان علامتوں میں سے ایک علامت وہ ہے جس کے لئے قرآن اور حدیث میں دُخان، یعنی دھواں (smoke) کا لفظ آیا ہے ، اس سلسلے میں قرآن کی آیت یہ ہے : فارتكب يوم تأتى السماء بدخان مبين ۔ يغشى الناس ، هذا عذاب أليم (الدخان: 11-10) یعنی انتظار کرو اس دن کا جب آسمان ایک کھلے ہوئے دھوئیں کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا ۔ وہ لوگوں کو گھیر لے یہ ایک درد ناک عذاب ہے :

Watch out for the Day when the sky brings forth plainly visible clouds of smoke. That will envelop the people. This will be a painful punishment. (44: 10-11)

اپریل 2010 میں یورپ میں جو واقعہ پیش آیا ، وہ غالباً اسی پیشین گوئی کے مطابق تھا۔ 14 اپریل 2010 کو یورپ کے ملک آئس لینڈ (Iceland) میں اچانک ایک آتش فشاں پھٹ پڑا۔ یہ آتش فشاں برف کے پہاڑ (glaciers) کے نیچے تھا۔ اس کے نتیجہ میں اتنا زیادہ راکھ نکلی جو تقریباً پورے یورپ کی فضا میں پھیل گئی ۔ ہر طرف اندھیرا چھا گیا ۔ یورپ کے شہروں میں ہر دن تقریباً 30 ہزار فلائٹس آپریٹ کی جاتی ہیں، مگر اس کے نتیجہ میں نصف سے زیادہ جہازوں کی آمد و رفت بند اس قدرتی آفت کے نتیجہ میں ہوائی کمپنیوں کو ہر دن تقریباً دو سو ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔ یورپ بلکہ دوسرے ملکوں کی سرگرمیاں ٹھپ ہوگئیں ۔ یہ سلسلہ ایک ہفتہ سے زیادہ مدت تک جاری اس قسم کی قدرتی آفت معلوم تاریخ میں پہلی بار ظاہر ہوئی ہے۔

یہ کہنا غالباً صحیح ہوگا کہ آئس لینڈ کا آتش فشانی انخجار ہی دخان تھا جس کی پیشین گوئی قرآن اور

حدیث میں بہت پہلے کی گئی تھی۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ غالباً دوسرے نشانات جو حدیث میں بتائے گئے ہیں، وہ ظاہر ہو چکے ہیں۔ دخان کا معاملہ غالباً آخری نشانی سے پہلے کی نشانی (last but one) کا معاملہ ہے اس کے بعد جو نشانی ظاہر ہونے والی ہے، وہ غالباً سورج کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا اس کے بعد غالباً آخری واقعہ ہوگا، یعنی فرشتہ اسرائیل کا صور پھونکنا۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں یہ الفاظ آئے ہیں : هذا عذاب أليم۔ یہاں عذاب سے مراد غالباً قیامت کا عذاب نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جس کے لیے قرآن (السجدة : 21) میں دوسری جگہ عذاب ادنیٰ کا لفظ آیا ہے (ولنذيقنهم من العذاب الأدنى دون العذاب قرآن کے مطابق، بڑا عذاب وہ ہے جو قیامت کے وقت صورِ اسرافیل کے بعد آئے گا، لیکن اس سے پہلے چھوٹے چھوٹے علامتی عذاب آئیں گے، تاکہ لوگ متنبہ ہو کر اپنی اصلاح کر لیں۔ گلوبل وارمنگ، پانی کی شدید قلت، زلزلوں کی کثرت اور دخان وغیرہ، اِسی قسم کے چھوٹے عذاب حالات بتاتے ہیں کہ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ انسان متنبہ ہو، اس سے پہلے کہ وہ وقت آجائے جب کہ متنبہ ہونا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔

Printed page