Al-Risala · June 2010

اصحابِ رسول

Al-Risala, June 2010, pp. 14–16

By Maulana Wahiduddin Khan

اصحابِ رسول دراصل پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر اہلِ ایمان تھے۔ اصحابِ رسول کو قرآن میں خیرامت (آل عمران: 110) کہا گیا ہے۔ اصحابِ رسول امتیازی اوصاف کے حامل ان کی صفتیں قرآن میں مختلف مقامات پر آئی ہیں۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہاں نقل کی جاتی ہے: محمد رسول الله، والذين معه أشداء على الكفار رحماء بينهم، تراهم ركعاً سجداً يبتغون فضلاً من الله ورضوانا، سيماهم في وجوههم من اثر السجود، ذلك مثلهم فى التوراة. ومثلهم فى الإنجيل كزرع أخرج شطأه فآزره فاستغلظ فاستوى على سوقه، يعجب الزراع ليغيظ بهم الكفار، وعد الله الذين امنوا وعملوا الصالحات منهم مغفرة وأجراً عظيماً (الفتح: 29)

محمد، اللہ کے رسول ہیں۔ جو لوگ اُن کے ساتھ ہیں، وہ منکروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان تم ان کو رکوع میں اور سجدہ میں دیکھو گے۔ وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضا مندی کی طلب میں لگے ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے، سجدہ کے اثر سے۔ ان کی یہ مثال تو رات میں ہے۔ انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی، اُس نے اپنا نکھو انکا لا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹا ہوا اور پھر وہ اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا۔ وہ کسانوں کو بھلا لگتا ہے، تا کہ اُن سے منکروں کو جلائے۔ اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ نے اُن کے لیے معافی کا اور بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں اصحابِ رسول کے امتیازی اوصاف کو دو تاریخی پیشین گوئیوں کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک پیشین گوئی وہ جو تورات میں آئی ہے، اور دوسری پیشین گوئی وہ ہے جس کا ذکر انجیل میں موجود ہے۔ تو رات میں اصحابِ رسول کا پیشگی ذکر ان الفاظ میں آیا ہے: وہ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا:

He came with ten thousands of saints (Deuteronomy 33:2)

بائبل کے اس حوالے کے مطابق ، اصحابِ رسول قدسی کردار (saintly character) کے اصحابِ رسول کی یہ قدسی صفات مذکورہ قرآنی آیت کے مطابق ، حسبِ ذیل ہیں: ان صفات میں پہلی صفت وہ ہے جس کی طرف ”معه“ کے لفظ میں اشارہ کیا گیا ہے، یعنی پیغمبرِ اسلام ﷺ کا ساتھ دینے والے۔ یہ ساتھ انھوں نے کب دیا تھا۔ انھوں نے پیغمبرِ اسلام کا یہ ساتھ اُس وقت دیا تھا، جب کہ آپ کی ذات کے ساتھ ابھی تاریخی عظمت جمع نہیں ہوئی تھی۔ پیغمبرِ اسلام کو خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر پہچانا، انھوں نے بظاہر ایک معمولی شخصیت کو غیر معمولی شخصیت کے روپ میں دریافت کیا، انھوں نے تاریخی اعتراف (historical recognition) کے درجے تک پہنچنے سے پہلے آپ کی حیثیت کا اعتراف کیا، انھوں نے دورِ عظمت سے پہلے پیغمبر کو اس وقت پہچانا، جب کہ اُس کی ذات ہر قسم کی ظاہری عظمت سے پوری طرح خالی تھی، انھوں نے محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کو خدا کے نمائندہ کی حیثیت سے دریافت کر کے اُس کے آگے اپنے آپ کو پوری طرح سرنڈر کر دیا، اصحابِ رسول نے ساعتِ عُسرت (التوبة: 117) میں پیغمبرِ اسلام کا ساتھ یہ ساتھ دینا اُسی وقت ممکن تھا، جب کہ اصحابِ رسول مذکورہ امتیازی صفت کے حامل ہوں۔ أشدّاء علی الكفار اصحابِ رسول کی دوسری صفت کو قرآن میں ”أشدّاء علی الكفار“ کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اہل کفر پر شدید ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اہل باطل کے مقابلے میں غیر اثر پذیر (unyielding) کردار کے حامل تھے، مروّجہ افکار، ان کو متزلزل نہیں کر سکتے تھے، وقت کی غالب تہذیب اُن کو مرعوب کرنے والی نہ تھی، مفادات کا نظام ان کو اپنی راہ سے ہٹا نہیں سکتا تھا۔ رسول کی دریافتِ حقیقت اتنی زیادہ گہری تھی کہ وہی اُن کی پوری شخصیت کا واحد غالب عنصر بن گئی۔ اصحابِ رسول کی تیسری صفت کو قرآن میں ”رحماء بینهم“ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی

آپس میں ایک دوسرے کے لیے آخری حد تک ہمدرد اور خیر خواہ ہونا۔ اس صفت کی غیر معمولی اہمیت اُس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ اصحاب رسول کے درمیان وہ تمام اختلافات (differences) موجود تھے جو ہر انسانی گروہ کے درمیان فطری طور پر پائے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ بنیان مرصوص (الصّف : 4) کی طرح باہم متحدر ہے، انھوں نے اس صلاحیت کا ثبوت دیا کہ وہ اختلاف کے باوجود آپس میں متحد ہو سکتے ہیں، وہ شکایتوں کے باوجود ایک دوسرے کے خیر خواہ بن سکتے ہیں، وہ منفی اسباب کے باوجود اپنے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ اصحاب رسول کی یہی صفت تھی جس کی بنا پر وہ توحید پر مبنی وہ انقلاب لا سکے جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ تراهم رکعاً سجداً اصحاب رسول کی چوتھی صفت کو "تراهم رکعاً سجداً" کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ اصحاب رسول کامل طور پر اللہ کے آگے جھکے ہوئے تھے، ان کے اندر کامل درجے میں خود سپردگی کا مزاج پیدا ہو گیا تھا، اللہ کی کبریا کی معرفت ان کو اتنے بڑے درجے میں حاصل ہوئی تھی، جب کہ انسان شعوری طور پر اللہ کی قدرت کاملہ کا ادراک کر لیتا ہے اور اس کے اندر اپنے عاجز مطلق ہونے کا شعور اس طرح پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی پوری شخصیت کے ساتھ اللہ کے آگے جھک اس کے دل و دماغ میں اللہ کی بڑائی کے سوا کوئی اور بڑائی باقی نہیں رہتی، اس کا واحد کنسرن (sole concern) اللہ وحدہ لا شريك بن جاتا ہے۔ یہی توحید کامل ہے، اور اصحاب رسول اِس توحید کامل میں آخری درجے پر پہنچے ہوئے تھے۔

Printed page