يبتغون فضلاً من الله ورضواناً
Al-Risala, June 2010, pp. 16–19
By Maulana Wahiduddin Khan
اصحاب رسول کی پانچویں صفت وہ ہے جس کو قرآن میں "يبتغون فضلاً من الله ورضواناً" کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصحاب رسول کی معرفت نے اُن کے اندر اللہ کی ذات پر کامل یقین پیدا کر دیا تھا، وہ اللہ پر کامل اعتماد (confidence) والے بن گئے تھے، وہ یہ سمجھنے لگے تھے کہ دینے والا بھی اللہ ہے اور چھینے والا بھی اللہ، کامیابی کا سرا بھی اللہ کے
ہاتھ میں ہے اور ناکامی کا سرا بھی اللہ کے ہاتھ میں ۔ وہ ہر دوسری چیز سے زیادہ اللہ پر بھروسہ کرنے والے بن گئے تھے ، اُن کی امیدیں اور آرزوئیں تمام تر اللہ پر منحصر ہوگئی تھیں ۔ سيماهم في وجوههم من أثر السجود اصحابِ رسول کی چھٹی صفت کو قرآن میں ”سیماهم في وجوههم من أثر السجود“ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اصحابِ رسول کی دریافتِ حقیقت نے اُن کے اندر آخری حد تک وہ صفات پیدا کردیں جن کو سنجیدگی (sincerity) اور تقویٰ اور تواضع (modesty) کہا جاتا ہے۔ یہی کمالِ انسانیت کی پہچان ہے، یہی وہ صفات ہیں جو کسی انسان (man) کو سپر انسان(super man) بناتی ہیں۔ ان صفات کی حامل شخصیت کو ربانی شخصیت (divine personality) کہا جاتا ہے۔ اصحابِ رسول بلاشبہہ ان صفات میں کمال درجے پر تھے۔ اس کے بعد اصحابِ رسول کی اُس خصوصیت کو بیان کیا گیا ہے جس کا ذکر انجیل میں حضرت مسیح کی زبان سے ان الفاظ میں آیا ہے: ”اُس نے ایک اور تمثیل ان کے سامنے پیش کر کے کہا کہ آسمان کی بادشاہی اُس رائی کے دانے کی مانند ہے جس کو کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بودیا۔ بیجوں سے چھوٹا تو ہے، مگر وہ جب بڑھتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا اور ایسا درخت ہو جاتا ہے کہ ہوا کے پرندے آکر اس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں:“ Another parable He put forth to them, saying: “The kingdom of heaven is like a mustard seed, which a man took and sowed in his field, which indeed is the least of all the seeds, but when it is grown, it is greater than the herbs and becomes a tree, so that the birds of the air come and nest in its branches”. (Mathew 13:31-32)
اصحابِ رسول کی جو صفت تو رات میں مختصر ا اور قرآن میں تفصیلاً بیان کی گئی ہے، اُس کا تعلق اصحابِ رسول کی انفرادی خصوصیات سے ہے۔ یہ اعلیٰ خصوصیتیں ہر صحابی کے اندر کامل درجے میں پائی جاتی تھیں ۔ ان خصوصیات نے ہر صحابی کو، ایک مستشرق کے الفاظ میں ، ہیرو (hero) بنادیا تھا۔
اصحابِ رسول کی دوسری صفت جو انجیل اور قرآن دونوں میں آئی ہے، وہ تمثیل کی صورت میں اِس اجتماعی انقلاب کو بتاتی ہے جو اصحابِ رسول کے ذریعے برپا ہوا تھا۔ یہ تمثیل ایک درخت کی صورت میں ہے۔ اِس درخت کا بیج پیغمبر اسلام کی پیدائش سے ڈھائی ہزار سال پہلے صحرائے عرب میں لگایا گیا تھا۔ اِس کا آغاز حضرت ابراہیم اور حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کی قربانیوں کے ذریعے ہوا یہ پودانسل درنسل بڑھتا رہا۔
اصحابِ رسول اِسی تاریخی نسل کا اگلا حصہ تھے۔ اصحابِ رسول نے غیر معمولی قربانی کے ذریعے یہ کیا کہ انھوں نے توحید کے نظریے کو فکری انقلاب کے دور تک پہنچا دیا۔ اِس فکری انقلاب کے بعد تاریخ بشری میں ایک نیا پر اساس جاری ہوا۔ بعد کی عالمی تبدیلیاں اِسی انقلابی عمل کا نتیجہ تھیں۔ مؤرخ ہنری پرین (وفات: 1935) نے اِس انقلابی واقعے کا اعتراف اِن الفاظ میں کیا ہے— اسلام نے زمین کے نقشے کو بدل دیا، تاریخ کے روایتی دور کا کامل خاتمہ ہوگیا: Islam changed the face of the globe, the traditional order of history was overthrown. ”يعجب الزراّع“ کے لفظ میں ایک تاریخی پس منظر کی طرف اشارہ ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کے پہلے کی جو دعوتی تاریخ ہے، اُس میں بار بار ایسا ہوا کہ خدا کے داعیوں نے دعوت کا بیج ڈالا، لیکن وہ بڑھ کر ایک شاداب درخت نہ بن سکا۔ یہ واقعہ پہلی بار اصحابِ رسول کے ذریعے پیش آیا۔ دعوت کے عمل میں یہ ارتقا سارے زمین و آسمان کے لیے بے پناہ مسرت کا باعث تھا، جو دعوتِ توحید کو ایک شاداب باغ کی صورت میں دیکھنے کے لیے ہزاروں سال سے اس کا انتظار کر رہے تھے۔ ليغيظ بهم الكفار ”ليغيظ بهم الكفار“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اہلِ باطل جو حق کا فروغ دیکھنا نہیں چاہتے تھے، اُن کے لیے حق کے فروغ کا یہ عظیم واقعہ بے پناہ مایوسی کا سبب بن گیا۔ ان کی ہزاروں سال کی خوشیاں خاک میں مل کر رہ گئیں۔ ان کا یہ حوصلہ آخری طور پر ختم ہو گیا کہ وہ حق کو ہمیشہ مغلوب رکھیں گے
اور اس کو کبھی ابھرنے کا موقع نہ دیں گے۔ اس مایوسی میں دونوں گروہ یکساں طور پر شریک تھے، باطل پرست انسان بھی، اور ابلیس کا دشمن حق قافلہ بھی حق کی یہ کامیابی دونوں ہی کے لیے ان کے منصوبوں پر صحت ایمان کی طرح اس کا حامل ہے، اس لیے یہ یا دوری کے ساتھ کے خاتمہ کے ہم معنی بن گئی۔