ایمان اور عمل صالح
Al-Risala, June 2010, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
کے تذکرے سے جوڑے کے طور پر کیا گیا ہے، جس کے معنی اچھے مذکورہ آیت میں آخری بات یہ کہی گئی ہے کہ ــــ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، اللہ نے ان سے معافی کا اور بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔ یہ بشارت براہِ راست طور پر اصحابِ رسول کے لیے ہے اور بالواسطہ طور پر قیامت تک کے اُن تمام لوگوں کے لیے ہے جو اصحابِ رسول کے رول کو دریافت کریں اور بعد کے زمانوں میں اس کا تسلسل جاری رکھیں۔ تسلسل کو جاری رکھنے کا یہ عمل کوئی سادہ عمل نہیں۔ اِس کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جن کے اندر تخلیقی فکر ہو اور جن کے اندر مجدّدانہ صلاحیت ہو۔ بعد کی نسلوں میں جو لوگ ایمان اور عمل صالح کی اِس اعلیٰ صلاحیت کا ثبوت دیں بذرامه مذكورہ فتنہ و فساد میں ملوث ہیں‘ ورنہ یہاں اور بھی خاص و عام لوگ ہیں، جو گے، وہ سب مذکورہ قرآنی بشارت میں شامل ہوتے چلے جائیں گے۔ ا ب ذ ر ا م هـ - - ا پ ك ا ي ٹ ل ش ن ص ا ح ب ك ن و ز ك ا ك ہ ن ا ہ ك ه - - س ا ك ب ا ل م ك ت ب ا پ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل پتے پر رابطہ کریں: The Spritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)
Tel.: 65704898/99, Fax: 28236323 مولا نا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور روانہ کر دیں ۔ اس کی قیمت بھی رسالہ کی رسید کے ساتھ ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں :
A. H. M. Danyal (President, Centre for Peace)
Mob. 9308477841, 0612-3255435