Al-Risala · June 2010

ڈسپلن کی اہمیت

Al-Risala, June 2010, pp. 34–37

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈسپلن (discipline) کا مطلب انضباط ہے۔ ڈسپلن کو ایک لفظ میں انضباطی کردار (controlled behaviour) کہہ سکتے ہیں۔ ڈسپلن کا تعلق دراصل اجتماعی زندگی سے ہے۔ سادہ طور پر کہہ سکتے ہیں کہ ڈسپلن کا مطلب ہے— عملی زندگی میں دوسروں کی رعایت کرنا۔ زندگی کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی صرف اپنے آپ کو جانے۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق، زندگی گزارے۔ اُس کے اندر دوسروں کی پروا کرنے کا مزاج نہ ہو۔ ایسی زندگی ڈسپلن کے خلاف زندگی ہے۔ اس کے برعکس، دوسرا انسان وہ ہے جو دوسروں کی رعایت کرنا جانتا ہو، جو اپنی گفتگو اور اپنے سلوک میں ہمیشہ یہ دھیان رکھے کہ دوسروں کے اوپر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ اس کی کسی بات پر دوسرا شخص ناگواری کا اظہار کرے تو وہ فوراً اپنی غلطی کو مانتے ہوئے اپنی اصلاح کرے— یہ ڈسپلن کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔

ڈسپلن کوئی سادہ چیز نہیں۔ ڈسپلن دراصل کائناتی اخلاق کا دوسرا نام ہے۔ وسیع خلا میں سیارے اور ستارے مسلسل طور پر حرکت کرتے ہیں، لیکن اُن میں کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا، جنگل میں مختلف قسم کے جانور رہتے ہیں، لیکن ہر ایک اپنی جبلت (instinct) کی کامل طور پر پابندی کرتا ہے۔ یہی وہ پابند کردار ہے جس کو انسانی زندگی کے اعتبار سے ڈسپلن کہا جاتا ہے۔

یہ ڈسپلن بے حد ضروری ہے۔ یہ آدمی کی شرافت کی پہچان ہے۔ یہ کسی آدمی کی بلند اخلاقی کو ڈسپلن کے ساتھ جینے والا انسان، ہی دراصل کامل معنوں میں انسان ہے۔ جو شخص ڈسپلن سے خالی ہو، وہ گویا کہ اعلیٰ انسانی اخلاق سے خالی ہے۔ یہ ڈسپلن کسی کے اندر خارجی ضوابط سے نہیں پیدا ہوتا، وہ آدمی کے داخلی احساس سے پیدا ہوتا ہے۔ ڈسپلن کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی دوسروں کے لیے معاون بنے، اور ڈسپلن کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے لیے زحمت (nuisance) پیدا کرنے کا باعث نہ بنے۔

سوال و جواب میں آپ کے قول وفکر سے بہت متاثر رہا ہوں۔ یہ اس بنا پر کہ میں نے آپ کی تحریر کی ہوئی باتیں آپ کے ماہنامہ الرسالہ میں پڑھی ہیں۔ میں نے آپ کی بتائی ہوئی اچھی باتیں دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن میں نے پایا ہے کہ میرے اطراف کے لوگوں میں کچھ لوگ آپ کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے۔ جب میں نے ان سے وجہ دریافت کی تو وہ مجھے کوئی قابل قبول وجہ نہیں بتا سکے۔ صرف سنی سنائی باتوں کا ایسے لوگ ذکر کرتے ہیں۔ میں ان سے کہتا رہا ہوں کہ وہ خود اپنا کوئی ذاتی تجربہ یا مشاہدہ بتائیں تو وہ بتانے سے قاصر رہے ہیں۔ اس طرح میں ان کو نظر انداز کر کے خاموشی سے تعمیری سوچ اور کام میں لگا رہا ہوں۔

میرا ایک مشاہدہ آپ کے بارے میں ایسا ہوا ہے جو میری سمجھ سے غیر مناسب ہے اور آپ جیسی شخصیت سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ کل کے اخبار (2009 ,7 .The Hindu, Aug) میں آپ آڈوانی صاحب کی لکھی ہوئی کتاب ”میرا وطن میری زندگی“ کے Release Function میں شامل ہیں۔ ایک طرح سے یہ اُس شخصیت کا endorsement ہے جس کی لکھی ہوئی یہ کتاب اس مصنف کی جو قدریں (values) ہیں، وہ اس کے قول اور اُس سے زیادہ اس کے عمل اور کردار سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اس کے بارے میں زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ میرا تجربہ ہے اور دانش مندوں کی کہاوت ہے کہ خود غرض اور ظالم کی دوستی فائدہ مند نہیں ہوتی، خواہ وہ ظالم آپ پر مہربان ہو۔ ایسے لوگوں کے دعوت نامہ کو قبول کرنے سے پہلے اچھی طرح غور کرنا چاہئے۔ اگر کسی وجہ سے ایسی دعوت قبول کرنا بھی پڑے تو ایسے موقع پر اپنی بات پوری وضاحت اور مضبوطی سے کہنا چاہئے۔ تا کہ negative values کا endorsement نہ آپ سے درخواست ہے کہ اس معاملہ میں آپ وضاحت کریں اور میری غلط فہمی دور (ایم اے صدیقی، کان پور)

اصل یہ ہے کہ کسی واقعہ کو دیکھنے کے دو زاویے (angles) ہوتے ہیں۔ ایک، مثبت زاویہ اور دوسرا منفی زاویہ۔ ایک واقعہ مثبت زاویہ سے دیکھنے میں صحیح واقعہ نظر آئے گا۔ اسی واقعہ کو دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو وہ منفی واقعہ بن جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صلح حدیبیہ پیش آیا۔ اس وقت ایک صحابی حضرت عمر فاروق نے منفی زاویہ سے دیکھا تو ان کو وہ پسپائی کا ایک واقعہ نظر آیا۔ انھوں نے کہا کہ: لم نعطی الدنیۃ فى دیننا (الأوسط فى السنن، رقم الحدیث: 244)۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے اس کو مثبت زاویہ سے دیکھا اور قرآن میں اعلان کیا گیا کہ یہ فتح مبین ہے (الفتح: 1)

آپ کی غلط نہی یہ ہے کہ آپ نے مذکورہ اجتماع میں میری شرکت کو دوستی کے زاویہ سے دیکھا اور اس کو صاحب کتاب کا endorsement سمجھ لیا۔ آپ کے لیے صحیح یہ تھا کہ آپ اس کو دعوت کے زاویہ سے دیکھتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ مذکورہ اجتماع میں میری شرکت ایک صحیح اور باعث ثواب معاملہ جو شخص بھی، ماہ نامہ الرسالہ اور اس کا خبر نامہ باقاعدگی کے ساتھ پڑھے تو اس کو معلوم ہوگا کہ مذکورہ واقعہ کوئی استثنائی واقعہ نہ تھا، بلکہ وہ بہت سے واقعات میں سے صرف ایک واقعہ تھا۔ میں اور میرے ساتھی دعوت الی اللہ کا مشن چلا رہے ہیں۔ یہ مشن ایک مبنی بر لٹریچر مشن ہم مسلسل یہ کر رہے ہیں کہ انڈیا کے اندر اور انڈیا کے باہر ہونے والے اجتماعات میں شرکت وہاں ہم لوگوں کے درمیان اسلامی لٹریچر تقسیم کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہم ہر مذہب اور ہر گروہ اور ہر پارٹی کے اجتماعات میں جاتے ہیں۔ اگر ہم آپ کے بیان کردہ زاویے سے چیزوں کو دیکھیں تو ہم دعوت کے مواقع (opportunities) کو استعمال نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں گناہ گار ثابت ہوں گے۔

ہمارا یہ طریقہ پیغمبر کی سنت کے عین مطابق ہے۔ حضرت یوسف نے قدیم مصر میں وہاں کے بادشاہ کے ایڈمنسٹریشن میں ایک ذمہ دارانہ عہدہ قبول کیا، حالاں کہ یہ بادشاہ ایک مشرک بادشاہ تھا۔

حضرت یوسف اگر اس معاملہ کو (شرک) کے زاویے سے دیکھتے تو وہ بادشاہ کے ایڈمنسٹریشن میں شرکت مگر آپ نے اس کو اپنے دعوتی مشن کی حیثیت سے دیکھا اور قبول کر لیا۔ اسی طرح پیغمبر اسلام ﷺ اپنی نبوت کے ابتدائی زمانہ میں 13 سال تک مکہ میں تھے۔ وہاں آپ کعبہ میں جاتے اور نماز ادا فرماتے اور لوگوں کو دعوت پہنچاتے، حالانکہ اس زمانے میں کعبہ کی عمارت میں کھلے طور پر 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ اگر اس واقعہ کو منفی زاویے سے دیکھا جائے تو وہ شرک کا اینڈورسمنٹ (endorsement) نظر آئے گا۔ لیکن رسول اللہ نے اس کو دعوت کے زاویے سے دیکھا۔ آپ نے یہ فارمولا اختیار کیا کہ ــــ بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کرو اور وہاں موجود لوگوں میں اپنا پیغام پہنچاؤ۔

ہم نے اپنے دعوتی مشنن میں اسی پیغمبرانہ طریقہ کو اختیار کیا ہے۔ ہم لوگوں کو دشمن اور دوست کے اعتبار سے نہیں دیکھتے۔ ہم ہر انسان کو صرف انسان کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ ہر عورت اور ہر مرد کو ہم حق کا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہم ہر اجتماعی موقع پر جاتے ہیں۔ ہمارے پاس قرآن کا ترجمہ اور دوسری اسلامی کتابیں ہوتی ہیں ان کو ہم ایک ایک شخص تک پہنچاتے ہیں۔ مذکورہ اجتماع میں پورے انڈیا کے تقریباً تمام ٹاپ کے کٹر ہندو لیڈر موجود تھے۔ ہمارے ساتھیوں نے بڑے پیمانے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر ان لوگوں کو مطالعے کے لیے دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ الناس أعداء ما جهلو کی مثال ہے۔ جو لوگ دعوت کے فرض سے غافل ہیں، جو یہ نہیں سمجھتے کہ مسلمان کا دوسرے انسانوں سے تعلق داعی اور مدعو کا تعلق ہے، وہ اس معاملے میں غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ انسانوں کو دوست اور دشمن کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ کو اپنا اور کسی کو غیر سمجھتے ہیں۔ وہ کسی سے محبت کرتے ہیں اور کسی سے نفرت۔ ایسے لوگ ایک داعی کی پوزیشن کو سمجھ نہیں پاتے۔ آپ کو چاہئے کہ آپ ہمارے بارے میں کسی انگریزی یا ہندی اخبار میں ایک خبر پڑھ کر رائے نہ بنائیں بلکہ خود ہماری تحریروں کو پڑھ کر ہمارے بارے میں رائے بنائیں ۔ ایسا کریں تو آپ کو بھی مذکورہ قسم کی غلط فہمی نہیں ہوگی۔

Printed page