سوال و جواب
Al-Risala, June 2010, pp. 38–42
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی تین آیتوں کے بارے میں استفسار مطلوب ہے۔ براہِ کرم، جواب دے کر ممنون فرمائیں: 1- ’’اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں اقتدار دے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو اقتدار دیا تھا۔ اور ان کے لیے ان کے دین کو جما دے گا، جس کو ان کے لیے پسند کیا ہے۔ اور ان کی خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد انکار کرے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں‘‘ (النور: 55)۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت فی الارض کا وعدہ ان لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی انعام ہے جو ایمان اور عملِ صالح کے حقیقی تقاضوں کو پورا کریں۔ لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے نہ صرف بڑے حصّے پر بلکہ ان ممالک میں بھی جہاں مسلمان آباد ہیں اور ان کی حکمرانی بھی ہے، اِس پر ان عالمی طاقتوں کا قبضہ اور غلبہ ہے جو حقیقتاً ایمان اور عملِ صالح سے محروم ہیں، بلکہ بعض ممالک ایسے بھی ہیں جیسے روس، چین، جاپان، وغیرہ نہ صرف ایمان اور عملِ صالح سے تہی دامن ہیں، بلکہ وہ خدا کے وجود کے بھی قائل نہیں ہیں۔ لیکن اس کے برعکس خود کو صاحبِ ایمان بتانے والے لوگ موجودہ دور میں ان عالمی طاقتوں کے مقابلے میں انتہائی کمزور ہیں اور وہ زندگی کے ہر شعبہ میں ان کے محتاج اور دست نگر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر خلافت فی الارض محض خدائی انعام ہے اور یہ انھیں لوگوں کو ملنے والا ہے جو ایمان اور عملِ صالح کی روش کو اختیار کریں تو پھر جو قومیں سرے سے ایمان اور عملِ صالح کے تصور سے عاری ہیں، ان کو استحکام کس بنیاد پر ملا ہوا ہے۔
2- قرآن میں ایک آیت آئی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: ’’اللہ ہی وفات دیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آئی ان کو سونے کے وقت، پھر وہ ان کو روک لیتا ہے جن کی موت کا فیصلہ کر چکا ہے اور دوسروں کو ایک وقت مقرر تک کے لئے رہا کر دیتا ہے، بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور کرتے ہیں‘‘ (الزمر: 42)۔
اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص کی موت اس کی نیند کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالی کسی شخص کے لئے موت کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ رات کو جب سوئے گا تو اگلے دن وہ نہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ نیند کی حالت میں کسی کی موت کا واقعہ ہونا بہت ہی شاذ و نادر ہے۔ عام طور پر لوگوں کی موت جاگتے ہوئے آتی ہے۔ اس کے علاوہ حادثات وغیرہ بھی زیادہ تر دن میں ہی آیت کا صحیح مفہوم جاننے کے لئے میں آپ کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
3- قرآن میں ایک جگہ ارشاد ہوا ہے: ألم تروا كيف خلق الله سبع سموات طباقا (نوح: 15) یعنی کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے ۔ سوال یہ ہے کہ جب سات آسمان تہ بہ تہ نظر نہیں آتے تو پھر اس کو مخاطب کس طرح تسلیم کرے کیوں کہ سات آسمانوں کو تہ بہ تہ دیکھنا صاحب ایمان کے لیے ممکن ہے اور نہ منکرین حق کے لیے تاہم اگر اس رویت سے رویت عینی مراد لی جائے تو پھر اس کو عمومی طور پر سمجھنا مشکل ہے۔ اس سے رویت قلبی مراد لی جائے اور اسلوب بیان کو محاورات عرب پر محمول کیا جائے تو اس آیت کو دلیل بنا کر پیش کرنے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ تقریبا دو سو سال سے فلکیات سے متعلق ہونے والی تحقیقات کے باوجود بھی ہم اس بارے میں سائنسی بنیادوں پر حتمی معلومات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ پچھلی چند دہائیوں میں فلکی طبیعات کے سلسلے میں چند انتہائی دلچسپ دریافتیں ضرور ہوئی ہیں اور ان سے معجزۂ قرآن کی حقانیت ثابت ہوئی ہے۔ مگر جس زمانے میں یہ آیت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی، اس زمانے میں سائنسی تحقیقات کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ اس صورت حال میں قرآن کے اولین مخاطب کے لیے سات آسمانوں کا تہ بہ ہونا کیسے سمجھ میں آسکتا تھا اور وہ ان کو دلیل کے طور پر کیسے دیکھ یا جان سکتے تھے۔ جب کہ موجودہ دور میں بھی کسی آدمی کے لئے راست انداز میں سات آسمانوں کا مشاہدہ اور نظارہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ میں قرآن کی اس آیت کا مفہوم آپ سے جاننا امید ہے کہ آپ اپنے جواب سے ضرور نوازیں گے (غلام نبی کشانی، سری نگر، کشمیر)
1- خلافتِ ارضی کسی گروہ کا حق (right) نہیں ہے، نہ مسلم گروہ کا اور نہ غیر مسلم گروہ کا۔ خلافتِ ارضی کا فیصلہ اللہ کی ایک سنت کے مطابق ہوتا ہے۔ یہ سنت اصلا تعمیر دنیا کے اصول پر قائم جس گروہ کے اندر مقابلہ تعمیر دنیا کی زیادہ صلاحیت ہو، اس کو زمین کی خلافت عطا کی جاتی ہے۔ کسی مفسد گروہ کے لیے کبھی خلافتِ ارضی کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
اگر دنیا میں دو گروہ ہوں اور دونوں تعمیر دنیا کی تقریباً یکساں صلاحیت رکھتے ہوں، تو اُس گروہ کو ترجیح دی جائے گی جو تعمیر دنیا کے ساتھ ایمان کی صفت اپنے اندر رکھتا ہو، بصورتِ دیگر خلافتِ ارضی کا فیصلہ غیر مومنین کے لیے کر دیا جائے گا۔ موجودہ زمانے میں جن گروہوں کو خلافتِ ارضی حاصل ہے، ان کے بارے میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ وہ مقابلہ تعمیر دنیا کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ جہاں تک موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا معاملہ ہے، وہ نہ صرف یہ کہ تعمیر دنیا کی صلاحیت سے محروم ہیں، بلکہ وہ اپنے ایمانی زوال کی آخری حد پر پہنچ چکے ہیں۔ ان کے بارے میں اقبال کا یہ شعر پوری طرح صادق آتا ہے:
تیرے محیط میں کہیں ، گو ہر زندگی نہیں ڈھونڈ چکا میں موج موج، دیکھ چکا صدف صدف واضح ہو کہ عمل صالح سے مراد صرف عبادتی عمل نہیں ہے۔ اس میں وہ چیز بھی شامل ہے جس کے لیے ہم نے تعمیر دنیا کا لفظ استعمال کیا ہے۔ شخصی نجات کے لیے ایمان اور اخلاص کافی ہے، لیکن خلافتِ ارضی کا فیصلہ صرف ایمان اور اخلاص کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کا فیصلہ اُس عملِ صالح کی بنیاد پر کیا جاتا ہے جس میں دنیا کی مثبت تعمیر لازمی طور پر شامل ہو۔ 2- سورہ الزمر میں موت کے وقت وفات کی بات معروف معنی میں موت کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ وہ شبہہ موت کے معنی میں ہے۔ اس آیت کا مطلب دراصل یہ ہے کہ جس طرح نیند کی حالت میں روزانہ تم کو موت کا جزئی تجربہ ہوتا ہے، اُسی طرح آخر کار وہ دن آئے گا، جب کہ تم کو موت کا کلی تجربہ
اس آیت کا مقصد نیند کی حقیقت بتانا نہیں ہے، بلکہ ایک مثال کے ذریعے موت کو قابل فہم بنانا یہی اسلوب حدیث میں بھی موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نبوت ملی تو مکہ میں آپ نے اپنے پہلے خطاب میں فرمایا تھا: واللہ لتموتن كما تنامون، ولتبعثن كما تستيقظون (أنساب الأشراف للبلاذری، رقم الحديث: 50) یعنی خدا کی قسم، تمھیں مرنا ہے جس طرح تم سوتے ہو، اور پھر تم کو دوبارہ اٹھنا ہے جس طرح تم جاگتے ہو۔ اصل یہ ہے کہ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ بطور تمثیل ہے، نہ کہ بطور تبیین۔ نیند کو موت سے تشبیہ دی گئی ہے اور بعث بعد الموت کو بیداری کی مثال کے ذریعے قابل فہم بنایا گیا گویا کہ نیند ایک جزئی موت ہے، اور جزئی موت کی مثال سے کلی موت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ 3- سورہ نوح کی مذکورہ آیت کے بارے میں عرض ہے کہ اس کے دو پہلو ہیں۔ اُس کا ایک پہلو یہ ہے کہ سماوات کی دنیا سات طبقوں میں تقسیم ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ بے حد و وسیع ہے، یہاں تک کہ کوئی شخص اس کی وسعت کا کامل اندازہ نہیں کر سکتا۔
جہاں تک تعداد کی زبان میں سماوات کے سات ہونے کا معاملہ ہے، وہ ابھی تک غیر معلوم یہ کوئی تعجب کی بات نہیں، کیوں کہ ساری ترقی کے باوجود انسان، کائنات کے بارے میں بہت کم مثال کے طور پر جدید تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ وسیع کائنات کا 95 فی صد سے زیادہ حصہ ناقابل مشاہدہ ہے۔ اس ناقابل مشاہدہ حصہ کائنات کو ڈارک میٹر (dark matter) یا بلیک ہول (black hole) کہا جاتا ہے۔
اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کائنات بے حد و وسیع ہے۔ اس وسعت کا علم آج بھی انسان کو مذکورہ آیت میں جو چیز بناء استدلال ہے، وہ سات کی گنتی نہیں ہے، بلکہ وہ کائنات کی یہ لامحدود وسعت ثابت کرتی ہے کہ اس کا خالق ایک انتہائی عظیم ہستی ہے۔ وہ بے پناہ قدرت اور طاقت کا حامل ہے۔ گنتی کے پہلو کو دوسری بہت سی غیر معلوم چیزوں کی طرح ایک غیر معلوم چیز مان لیا جائے تو خالق کی عظمت و قدرت کے ثبوت کے لیے سماوات کا ظاہر ا بالکل کافی ہے۔
آپ نے ” دار الاسلام، دار الکفر اور دار الحرْب “ کے عنوان سے ماہ نامہ الرسالہ میں بار بار لکھا الرسالہ فروری 2010 میں ” اسلام کے نام پر غیر اسلام “ کے عنوان سے جو مضمون ہے، اس میں آپ نے ان اصطلاحات پر کافی اچھی روشنی ڈالی ہے۔ الرسالہ دسمبر 2003 اور اپریل 2005 میں بھی اس موضوع پر آپ نے بحث کی ہے۔ ان مضامین نے میرے ذہن پر نہایت مثبت اثر ڈالا ہے۔ آپ کے مطابق، یہ اصطلاحیں سیاسی بدعت اور اجتہادی خطا کا درجہ رکھتی ہیں۔ مگر آپ کا یہ جملہ ” اس لئے صحیح اسلامی نظریہ کے مطابق، صرف دو اصطلاحیں درست ہیں— دار الاسلام اور دار الدعوة “ (امن عالم، صفحہ 156) کنفیوژن پیدا کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ دار الاسلام کی اصطلاح اگر ایک سیاسی بدعت ہے تو پھر آپ کا یہ لکھنا کہ دار الاسلام کی اصطلاح درست ہے، کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ (رستم علی، پٹنہ، بہار) دار الاسلام اور دار الکفر کی اصطلاحات کو بطور فقہی اصطلاحات مان لیا گیا ہے۔ اصطلاح سازی سے اختلاف ہے۔ کیوں کہ اس قسم کی اصطلاح بعد کو عباسی دور میں اختیار کی گئی۔ سے پہلے صحابہ اور تابعین کے زمانے میں اس قسم کی قانونی اصطلاحات کا کوئی وجود نہ تھا۔ جہاں تک دار الانسآن یا دار الدعوة کا تعلق ہے، اُس کو میں نے متبادل فقہی اصطلاح کے طور پر تحریر نہیں کیا ہے۔ میرا مطلب صرف یہ ہے کہ اگر اس معاملے میں اصطلاح بنانا ہو تو قرآن اور حدیث کی روشنی میں دار الانسان اور دار الدعوة جیسی اصطلاح بنانا درست ہو سکتا ہے۔ میں نے اس معاملے میں جو کچھ لکھا ہے، اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ موجودہ ممالک حکماً دار الانسان اور دار الدعوة ہیں۔ میں نے یہ الفاظ اس معاملے میں مسلمانوں کی ذمہ داری کو بتانے کے لیے استعمال کئے ہیں، نہ کہ فقہی معنوں میں اصطلاح سازی کے لیے۔