ابتغاء رضوان اللہ
Al-Risala, July 2010, p. 2
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کے مطابق مقبول عمل وہ ہے جو خالص رضوان اللہ (الحدید: 27) اور مرضیات اللہ (البقرہ: 265) کے لیے انجام دیا جائے۔ جس عمل میں رضوان الہی یا مرضات الہی کی اسپرٹ شامل نہ ہو، وہ آخرت کے اعتبار سے مقبول عمل نہیں، خواہ بظاہر لوگوں کو وہ ایک شان دار کام دکھائی دیتا ہو۔ اللہ کی رضا (goodwill) کے لیے کام کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جب آپ کوئی کام کریں تو آپ اپنے منہ سے یہ الفاظ بول دیں کہ ــــ میں اللہ کی رضا کے لیے یہ کام کر رہا یہ رضاے الہی کی تصغیر ہے۔ رضاے الہی یا رضوان الہی ایک گہری اسپرٹ کا نام ہے۔ یہ اسپرٹ لمبے عمل کے نتیجے میں کسی کے اندر پیدا ہوتی ہے اور جو شخص اس زندہ اسپرٹ کے تحت کام کرے، اُس کا عمل رضاے الہی کے مطابق کیا جانے والا عمل ہے۔ جو کام اس اسپرٹ سے خالی ہو، وہ گویا کہ پلاسٹک کا پھول پلاسٹک کا پھول دیکھنے میں بظاہر پھول نظر آتا ہے، لیکن اس کو کبھی حقیقی پھول کا درجہ نہیں ملتا۔ اصل یہ ہے کہ جب ایک بندۂ خدا کے اندر تلاش کا جذبہ (seeking spirit) پیدا ہوتا ہے تو وہ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ سچائی کو جاننے کی کوشش کرتا ہے، وہ خدا کی کتاب کو پڑھتا ہے، حدیثِ رسول کا مطالعہ کرتا ہے، تخلیقات خداوندی میں غور وفکر کرتا ہے، وہ ہر قسم کے تعصبات سے خالی ہو کر یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ سچائی کیا ہے۔ آخر کار اس کے اوپر سچائی پوری طرح کھل جاتی ہے۔ یہی دریافت وہ مقام ہے جہاں سے رضاے الہی کا سفر شروع ہوتا ہے۔
اس دریافت کے بعد یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی سوچ بدل جاتی ہے۔ وہ اپنے رات دن کے لمحات میں اسی کے بارے میں سوچتا ہے۔ آخر کار، اس کی زندگی کا ایک فوکس (focus) بن جاتا ہے۔ یہ فوکس اللہ کی رضا ہوتی ہے۔ وہ دل و جان سے یہ چاہتے لگتا ہے کہ اس کا رب اس سے راضی ہو۔ وہ اپنے رب کی رحمتوں کا مستحق بنے۔ قیامت کے دن وہ عرش الہی کے ساے میں جگہ پائے۔ اس اسپرٹ کے ساتھ انجام دیا جائے، وہی رضاے الہی کے مطابق کیا جانے والا کام ہے۔