Al-Risala · January 2010

It is a peaceful translation of the Quran.

Al-Risala, January 2010, pp. 31–41

By Maulana Wahiduddin Khan

اس تجربے سے معلوم ہوا کہ جدید ذہن یا مسیحی ذہن کو نفس قرآن سے کوئی ال رجی نہیں ان کی ال رجی کا سبب مسلم علماء کے اپنے اضافے ہیں جنہوں نے قرآن کی تفسیر میں یا اپنی کتابوں میں کر رکھے ہیں۔ ان اضافوں سے الگ کر کے اگر قرآن کو اس کی خالص شکل میں پیش کیا جائے تو وہ اس کو خوشی کے ساتھ قبول کریں گے۔

8 ستمبر 2009 کی صبح کو ہم لوگوں کو کریکو شہر کے باہر اُس مقام پر لے جایا گیا جس کو کنسنٹریشن کیمپ (Concentration Camp) کہا جاتا ہے۔ یہ کیمپ جس ایریا میں واقع ہے، اس کا نام آشوز (Auschwitz Birkenau) ہے۔ کار کے ذریعے یہ تقریبا ایک گھنٹے کا راستہ تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران پولینڈ پر قبضہ کرنے کے بعد ہٹلر نے یہ کیمپ بنوائے تھے۔ عام طور پر کنسنٹریشن کیمپ (Concentration Camp) کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد وہ مقام ہے جہاں کوئی حکومت اپنے ناپسندیدہ عناصر کو بند کر دے، یا ان کو سزا دے کر انھیں ختم کرنے کی کوشش کرے: Concentration Camp: Institution for detention of undesirable elements of population deemed dangerous by regime. یہ اصطلاح پہلی بار برٹش ایمپائر کے ذریعے بوئر جنگ (Boer War-1899-1902) کے زمانے میں استعمال کی گئی۔ اس کے بعد دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں ہٹلر نے اپنے ناپسندیدہ عناصر (undesirables) کے لیے اس کو استعمال کیا۔ مثلاً یہود اور پولینڈ کے کچھ باشندے ۔ ہے کہ ان کیمپوں میں تقریباً 4 ملین انسان گیس چیمبر میں ڈال کر ختم کر دیئے گئے۔ ان مرنے والوں میں تقریباً 90 فی صد لوگ یہودی تھے جو مختلف ملکوں سے یہاں لائے گئے تھے۔ یہ گیس چیمبر اب بھی وہاں سیاحوں کی زیارت کے لیے موجود ہیں۔

ہٹلر (Adolf Hitler) اپنے مزاج کے اعتبار سے، ایک غالی نسل پرست (racist) تھا۔ اسی کے ساتھ وہ ایک شعلہ بیان خطیب (rabble-rouser) تھا۔ مشہور اقتصادی بحران کے زمانے

میں اُس کو یہ موقع ملا کہ وہ جذباتی تقریریں کر کے اپنے گرد ایک بھیڑ اکٹھا کر لے اور جرمنی میں سیاسی اقتدار پر قابض ہو جائے:

Economic depression after 1929, brought mass support, making Nazis largest party in Reichstag. Hitler was appointed chancellor and established dictatorship in 1933. ہٹلر کی سیاسی پارٹی کا نام نازی پارٹی تھا۔ یہ پارٹی 1923 میں قائم ہوئی۔ یہ پارٹی یورپ میں نسلی پیوریٹی کے نام پر بنائی گئی تھی۔ یہ لوگ جرمن آرین نسل کو سب سے بڑا درجہ دیتے تھے۔ اُن کو یہ شکایت تھی کہ غیر آرین لوگ ہمارے لیے غیر وفادار ہیں۔ اس کا ایک اظہار وہ تھا جو فرسٹ انٹرنیشنل (1866) کے بعد ہوا:

Nazi party was founded on principles of ‘racial purity’, (Aryans representing ‘master race’), allgiance to führer (leader). ہٹلر نے اپنے ان نظریات کو اپنی کتاب ــ میری جدوجہد (Mein Kampf) میں لکھ دیا تھا۔ جرمنی میں سیاسی اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد ہٹلر نے اپنے ان انتہا پسندانہ نظریات کے تحت یہودی نسل کو ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن دوسری عالمی جنگ میں جرمنی کی شکست نے ہٹلر کی اس تحریک کا خاتمہ کر دیا۔ آشورز کا یہ وسیع کیمپ دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ شروع میں ہم لوگ کیمپ کے پہلے حصہ (Auschwitz I) میں گئے ۔ یہاں دور تک سرخ اینٹ کی پختہ عمارتیں پھیلی ہوئی تھیں ۔ قیدیوں کے لیے بطور جیل استعمال کی جاتی تھیں ۔ جنگ کے بعد 1947 میں یہاں ایک میوزیم (Auschwitz-Birkenau State Museum) بنا دیا گیا ہے، جہاں سیاح کثرت سے آتے بتایا جاتا ہے کہ ان سیاحوں کی سالانہ تعداد تقریباً 70 ہزار ہوتی ہے۔ یہ پہلا کیمپ میوزیم اور گیس چیمبرس پر مشتمل ہے۔ اس میوزیم میں یہاں مارے گئے لوگوں (victims) کی چیزیں مثلاً بال، جوتے، کنگھے، عینک، اور تصاویر وغیرہ موجود ہیں۔ ایک وسیع ہال میں یہاں لائے گئے مردوں اور عورتوں کے سر کے بال شیشہ کے کیس میں رکھے ہوئے تھے، اسی طرح اور دوسری چیزیں بھی۔

8 ستمبر 2009 کو جب کنسنٹریشن کیمپ میں ہم لوگ گیس چیمبر (gas chambers) دیکھ کر باہر آئے تو وہاں ویٹکن ٹی وی (Rai) کے نمائندہ مسٹر را برٹو (Roberto Olla) نے مجھ سے پوچھا کہ کنسنٹریشن کیمپ کو دیکھنے کے بعد آپ کا تاثر کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک دہشت ناک تجربہ تھا۔ اس تجربے کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ یقین نہیں آتا کہ ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ اتنا زیادہ بے رحمانہ سلوک کر سکتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میری یہ حالت دیکھ کر انٹرویو ر بھی رونے لگے۔

میں نے کہا کہ اس وقت میں اپنے آپ کو سپیچ لیس (speechless) پا رہا ہوں۔ یہی کہہ سکتا ہوں کہ خدا ہماری مدد کرے اور اس قسم کا سفاکانہ واقعہ دوبارہ تاریخ میں نہ پیش آئے۔ یہاں میوزیم میں جو مختلف سبق آموز چیزیں تھیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ ایک جگہ دیوار پر ایک کالا بورڈ لگا ہوا تھا۔ اِس بورڈ پر سفید حروف میں مشہور فلسفی جارج سنٹیا نا (وفات : 1952) کا ایک قول ان الفاظ میں لکھا ہوا تھا—جو شخص تاریخ کو یاد نہیں رکھتا، وہ ضرور اس کا اعادہ کرے گا : "The one who does not remember history, is bound to live through it again." (George Santayana)

اِس کے بعد ہم کو کیمپ کے دوسرے حصہ (Auschwitz II) میں جانا تھا جو ایک میل کے فاصلے پر واقع تھا۔ یہاں جو پروگرام تھا، اس کی بابت گائیڈ بک میں یہ الفاظ درج تھے: Memorial Ceremony: Ceremony at the Execution wall, silent March along the rail tracks and Memorial ceremony at the Monument for the victims of Nazi-facism پروگرام کے مطابق، پہلے مختلف مذاہب کے نمائندوں کے ایک وفد نے الگ الگ مقامات پر اسلام کے نمائندہ کے طور پر راقم الحروف نے عرب علماء کے ایک وفد کے ساتھ ایک یادگار مقام پر پھول ڈالا۔ یہاں کئی لوگوں کی تقریریں ہوئیں۔ ان میں سے اکثر لوگ وہ تھے جو دوسری عالمی جنگ کے موقع پر کنسنٹریشن کیمپ میں پکڑ کر لائے گئے تھے، لیکن وہ کسی وجہ سے زندہ بچ گئے۔ مقررین میں سے ایک سابق ربائی مسٹر اسرائیل (Israel Meir Lau) تھے جو اس وقت آٹھ سال کی

عمر میں تھے ۔ اب وہ یروشلم میں رہتے ہیں ۔ وہاں سے وہ کانفرنس میں شرکت کے لیے آۓ تھے ۔ اس موقع پر انھوں نے انگریزی زبان میں تقریر کی ۔ ہمارے ساتھیوں نے اُن کو انگریزی ترجمہ قرآن کا ایک نسخہ دیا۔ انھوں نے اس کو خوشی کے ساتھ لیا اور کہا کہ آپ لوگوں کا بہت شکریہ یہ آپ نے مجھ کو قرآن کا نسخہ دیا۔ میں قرآن کو پڑھنا چاہتا تھا مگر میں ابھی تک اس کا کوئی نسخہ حاصل نہ کر سکا تھا ۔ انھوں نے اپنی تقریر میں جو کچھ کہا ، اس کو انھیں کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جاتا ہے :

because I am a Rabbi or because I am Jewish, but because I am a man, a human being. I believe from heaven it happened: two or three hours ago, here in the city of Krakow, I arrived last night only for this ceremony, I received a phone call from my granddaughter. “Grandfather — she said — half an hour ago I brought you a great grandchild.” She gave birth to a son at seven o’ clock in the morning today in Israel. This is my revenge. This is my answer. This is my solution. Live and let live. Live together, in friendship, in love, in peace. Thank you. یہاں اسلام کے نمائندے کے طور پر پھول ڈالنے کا کام مجھے سونپا گیا ۔ جب میں پھول لے کر آگے بڑھ رہا تھا تو میرے ساتھ چلنے والے ایک عرب عالم نے مجھ سے کہا : یا شیخ ، المسيحيون قتلوا اليهود، واليهود قتلوا المسيحيين، ونحن على طرف (مسیحیوں نے یہود کو قتل کیا اور یہود نے مسیحیوں کو قتل کیا ، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ) ۔ اُس وقت کچھ کہنے کا موقع بعد کو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ یہودی اور مسیحی کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کی بات ہے اور ہمیں دکھ ہونا چاہیے کہ انسان نے انسان کے ساتھ ایسا سفاکانہ سلوک کیا۔ یہاں میرے پاس جامعۃ الازہر کے ایک استاد ڈاکٹر حسن حنفی بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے اُن سے فلسطین کے مسئلے پر بات شروع کی۔ میں نے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے، عرب علماء اور رہنما مسئلہ فلسطین کا کوئی حل دریافت کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب ایک فریق کھلے طور پر جارحیت کر رہا ہو تو پھر ایسی حالت میں اس مسئلے کا کوئی حل کیسے نکل سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا کوئی حل اُس وقت نہیں نکل سکتا، جب تک فلسطین تحریک اپنی مسلم جدوجہد کو یک طرفہ طور پر ختم (disarmed) کرنے کے لیے تیار نہ ہوجائے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو فریق مخالف کے سامنے سرینڈر کرنا ہے۔ اس طرح کے یک طرفہ سرینڈر کے ذریعے کیسے کوئی حل نکل سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کا واضح نمونہ صلح حدیبیہ کی صورت میں موجود ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر رسول اور اصحابِ رسول نے اس یک طرفہ صلح کے ذریعے

وہ کامیابی حاصل کی جس کو قرآن میں ’’فتحِ مبین‘‘ کہا گیا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ناگنگ معاہدہ فتحِ مبین (الففتح: 1) کے دروازے کو کھولنے کے ہم معنی ہے، نہ کہ مفروضہ طور پر دشمن کے سامنے سرینڈر کرنے کے ہم معنی۔ میری بات سن کر وہ خاموش ہوگئے۔

کنسٹرکشن کیمپ سے میں بذریعہ کار ہوٹل (Sheraton) لوٹ آیا۔ شرکاء کا نفرنس کو کمیونٹی کی طرف سے آسوز (Austhwitz) کے ایک ریسٹورنٹ میں سادہ رسیپشن دیا گیا۔ اس میں معروف لنچ (lunch) کے بجائے لوگوں کو صرف جوس اور فروٹ (snack) دیا گیا تھا۔ ایسا انھوں نے رمضان کے احترام میں کیا تھا۔ یہ گویا ترک طعام کے بجائے تقلیلِ طعام کا ایک مظاہرہ تھا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہٹلر کے عروج و زوال میں بہت بڑا سبق ہٹلر کی کتاب میری جدوجہد (My Struggle) پڑھے تو معلوم ہوگا کہ وہ اپنے سیاسی حوصلے میں اس کو یقین ہے کہ وہ پورے یورپ میں نازی ازم (Nazism) کو غالب کر دے گا۔ تصور کے تحت اس نے 1939 میں دوسری عالمی جنگ چھیڑ دی، لیکن اس کا انجام صرف یہ ہوا کہ جرمنی تباہ ہو گیا اور خود ہٹلر نے ایک بنکر (bunker) کے اندر خودکشی کر لی۔ یہی انجام اس قسم کے دوسرے لوگوں کا بار بار ہوا ہے۔ مثلاً سکندرِ اعظم، چنگیز خاں، نادر خاں، نپولین، اسٹالن، وغیرہ۔ جب کسی آدمی کو بڑی سیاسی طاقت مل جائے تو وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں سب کچھ کر سکتا ہوں ۔ اس قسم کے لوگ اپنی طاقت کا غلط اندازہ کرکے اکثر بڑی بڑی سیاسی چھلانگ لگاتے ہیں جس کا نتیجہ ہمیشہ منفی صورت میں نکلتا ہے۔ ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ تاریخ کا ایک عجیب المیہ ہے کہ لوگ ہمیشہ ادارہ (institution) کو اہمیت دیتے ہیں، نہ کہ فرد (individual) کو، حالاں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام بڑے بڑے کام افراد نے انجام دئیے ہیں، نہ کہ کسی ادارے نے۔

اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کسی بڑے کام کے لیے بہت بڑے محرک (incentive) کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دراصل بڑا محرک ہے جو کسی بڑے کام کا سبب بنتا ہے۔

اور یہ ایک حقیقت ہے کہ بڑا محرک ایک فرد کے دماغ میں پیدا ہوتا ہے، نہ کہ کسی ادارے کے مجموعی چناں چہ کہا جاتا ہے کہ کوئی بڑا آرٹ ہمیشہ انفرادی دماغ (individual mind) نے تخلیق کیا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کئی لوگوں کے مجموعی دماغ (collective mind) نے کسی بڑے آرٹ کی تخلیق کی ہو۔

سوییت یونین میں بعد کے زمانے میں جب کہ اُن کے یہاں کوئی بڑا لیڈر موجود نہ رہا تو ان کے یہاں ایک نیا تصور پیدا ہوا جس کو وہ لوگ اجتماعی قیادت (collective leadership) کہتے تھے۔ لیکن یہ’’اجتماعی قیادت‘‘سوییت یونین کے زوال کو بچانہ سکی۔ سوییت یونین کا عظیم ادارہ اب بھی موجود تھا، لیکن لینن (وفات: 1924) اور اسٹالن (وفات: 1953) جیسا کوئی فرد نہ ہونے کی وجہ سے ظاہری اعتبار سے بڑا سیاسی ادارہ ہونے کے باوجود سوییت یونین منہدم ہو کر رہ گیا۔ 8 ستمبر 2009 کی دوپہر کو ہم لوگ آشوز (Auschwitz) سے لوٹ کر اپنی قیام گاہ پر واپس آج شام کو کانفرنس کا آخری پروگرام تھا۔ یہ پروگرام بہت بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔ دعاء امن (prayer for peace) کہا جاتا ہے۔

اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر مذہب کے لوگ مختلف مقامات پر اکٹھا ہو کر اپنے مذہب کے مطابق، عبادت کرتے ہیں۔ وہاں وہ امن کی دعاء کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہ تمام لوگ یکجا ہو کر جلوس کی شکل میں چلتے ہیں۔ سڑک کے دونوں طرف مقامی لوگ بڑی تعداد میں استقبال کے لیے کھڑے رہتے ہیں، پھر یہ قافلہ چلتا ہوا ایک مقام تک پہنچتا ہے جہاں بہت بڑا اسٹیج بنا ہوا ہوتا ہے۔ یہاں کانفرنس کے لوگ بلند اسٹیج پر بنی ہوئی مخصوص نشستوں پر بیٹھتے ہیں۔ یہاں امن کے موضوع پر تقریریں ہوتی ہیں، امن کی مشعل جلائی جاتی ہے، امن کے ڈیکلریشن پر دستخط کئے جاتے ہیں، وغیرہ۔ آخر میں پیس پیس (peace, peace) کہتے ہوئے سب لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔

کانفرنس کا یہ آخری اجلاس (final ceremony) جس مقام پر ہوا، اس کو مارکیٹ اسکوائرائر (Market Square) کہتے ہیں۔ یہ ایک وسیع اور کشادہ جگہ ہے۔ یہاں چاروں طرف بڑے بڑے چرچ

(Cathedral) اور بڑی بڑی عمارتیں ہیں۔ یہاں لوگ بہت بڑی تعداد میں اکٹھا ہوئے تھے۔ ساتھیوں نے یہاں قرآن کا انگریزی ترجمہ بڑے پیمانے پر لوگوں کو دیا۔ آخری اجلاس کے موقع پر جن لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا، ان میں سے ایک مسٹر یوشع (Joshua P. Du Bois) تھے۔ وہ صدر امریکا براک اوباما کے خصوصی معاون ہیں۔ میرے ساتھیوں نے مسٹر یوشع کو قرآن کے انگریزی ترجمے کی مزید کاپیاں دیتے ہوئے کہا کہ براہ کرم، اس کو آپ صدر امریکا اور وائٹ ہاؤس کے دیگر افراد تک پہنچانے میں ہمارا تعاون فرمائیں۔ نے خوشی کے ساتھ اس درخواست کو قبول کیا اور کہا کہ ہم ضرور اس کو صدر اوباما تک پہنچا دیں گے۔ مسٹر یوشع نے اپنا جو وزٹنگ کارڈ دیا، اس میں ان کے بارے میں یہ الفاظ درج تھے: Special Assistant to the President Obama and Executive Director, White House Office of Faith-Based and Neighborhood Partnerships, The White House, Washington, D.C. اس اجلاس کے بعد کانفرنس کی رسمی کارروائی ختم ہو چکی تھی۔ آج شام کے کھانے کا انتظام کریکو کے ایک تاریخی مقام (Gardens of the Archeological Museum) پر کیا گیا تھا۔ اس کا جو دعوت نامہ ہم لوگوں کو ملا، اس کے اوپر یہ الفاظ درج تھے:

The Marshal of the Voivodship of Matopolska is privileged to invite you to a dinner. یہاں میوزیم کے خوب صورت پارک کے اندر خاص انداز سے سفید کپڑوں کے ذریعے بنایا ہوا ایک بہت بڑا ہال تیار کیا گیا تھا۔ اسی ہال میں ہم لوگوں کے کھانے کا انتظام تھا۔ اس موقع پر ہمارے ساتھیوں نے ایک میز پر قرآن کے انگریزی ترجمے کی کاپیاں رکھ دیں۔ وہ حاضرین سے مل کر انھیں قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دے رہے تھے۔

عجیب بات ہے کہ اس کانفرنس میں جو عرب آئے ہوئے تھے، انھوں نے اس دعوتی کام سے کوئی دل چسپی نہیں لی، بلکہ کانفرنس کے دوران انھوں نے ہمارے ساتھیوں کی اس دعوتی جد و جہد کی حوصلہ شکنی کی۔ ان لوگوں سے بات کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ ان کے اندر دعوت الی اللہ

کا کوئی جذبہ موجود نہیں۔ اسلام کے نام پر جس چیز سے وہ باخبر ہیں، وہ صرف اُن کا قومی فخر ہے، اِس کے سوا کچھ اور نہیں۔

یہاں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی، اُن میں سے ایک مزکیتھرین تھیں۔ وہ سویڈن کے شہر اپسالا (Uppsala) کے چرچ کی نمائندہ تھیں۔ میرے ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی نے اُن سے سویڈش (Swedish) زبان میں بات کی اور اُن کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔ مولانا محمد ذکوان ندوی اِس سے پہلے سویڈن (یورپ) کے دار السلطنت اسٹاک ہوم (Stockholm) میں چار سال تک رہ چکے ہیں۔ مزکیتھرین نے کہا کہ مجھ کو اِس ترجمہ قرآن کی ایک مزید کاپی چاہیے۔ میں اِسے اپنے ساتھی کو مطالعے کے لیے دوں گی۔ مزکیتھرین کے کارڈ پر اُن کے متعلق یہ الفاظ درج تھے:

PhD, Reverend, Chaplain to the Archbishop وارسا کے ایک ڈیلی نیوز پیپر (Rzeczpospolita) کی نمائندہ مزایوا (Ewa Czaczkowska) نے کانفرنس سے متعلق میرے تاثرات پوچھے ۔ میں نے حسبِ ذیل الفاظ میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا:

According to my experience, the International meeting at Kracow organized by the community of St. Egidio, is very important. I see it in term of a process. Karacow meeting is a part of a continued process. It is like reviving the spirit of Assisi. The Community of St. Egidio is trying to mobilize people on the spirit of peace. Such mibilization itself is very important. I have participated in some meeting of this kind. I have found that it always yields positive result, specially in terms of peace and brotherhood. I hope that Kracow meeting will surely boost this peace process. پولینڈ نسبتاً یورپ کا ایک پس ماندہ ملک ہے، لیکن یہاں کا انفراسٹرکچر (infrastructure) تقریباً اُسی معیار کا نظر آیا جو یورپ کے دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً سوئزرلینڈ اور

اس کا سبب یہ ہے کہ مسیحی یورپ (باستثناء ترکی) ہر جگہ یہ ذہن پایا جاتا ہے کہ انفراسٹرکچر کے مطالعے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا ہے۔ یورپ میں دوسری کئی برائیاں پائی جاتی ہیں، لیکن انفراسٹرکچر کے معاملے میں سب کا ذہن ایک ہے، وہ یہ کہ انفراسٹرکچر کو اعلیٰ معیار پر باقی رکھنا ہے۔ وہاں کا کوئی کنٹریکٹر (contractor) اگر کوئی سڑک بنائے یا تعمیرات کرے تو وہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کہ اپنے فائدے کے لیے وہ طے شدہ معیار میں کمی کر دے۔

انڈیا اور پاکستان کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہاں کی سپریم چیز صرف ایک ہے، اور وہ صرف پیسہ (money) ہے۔ یہاں کا انجینئر اور کنٹریکٹر کم تر معیار کی چیزیں بنائے گا، صرف اس لیے کہ اس کی اپنی کمائی میں اضافہ ہو سکے۔

کری کو میں ایک بار ایسا ہوا کہ ہم سڑک پر بذریعہ کار سفر کر رہے تھے۔ درمیان میں ایک جگہ کار تقریباً 15 منٹ تک آہستہ آہستہ چلتی رہتی رہی۔ میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہماری کار کے آگے ایک گھوڑا گاڑی چل رہی ہے۔

اس قسم کی گاڑی یہاں سیاحوں کی تفریح کے لیے چلائی جاتی ہے جس کو جوائے رائیڈ (joy ride) کہا جاتا ہے۔ انڈیا میں اس طرح کے موقع پر کار کا ڈرائیور مسلسل ہارن بجائے گا، لیکن وہاں ایک بار بھی ڈرائیور نے ہارن نہیں بجایا۔ وہ صبر کے ساتھ چلتا رہا، یہاں تک کہ راستہ صاف ہو گیا، پھر اس نے اپنی گاڑی تیز چلائی۔

ہم لوگ پولینڈ میں تین دن تک رہے۔ ہمیں یہاں کی مختلف سڑکوں پر گزرنے کا موقع ملا، لیکن کہیں کوئی شور وغل یا ہارن کی آواز سنائی نہیں دی، کسی مقام پر ایسا نہیں ہوا کہ بھیک ماننے والے لوگ ہماری گاڑی کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں۔ انڈیا میں گانے والے لوگ اس قسم کے گیت گاتے ہیں: مرے دیش کی دھرتی سونا اگلے، اگلے ہیرے موتی لیکن پہلا موقع پاتے ہی وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کو یورپ اور امریکا بھیج دیتے ہیں—انڈیا کے سارے بگاڑ کا سبب صرف ایک ہے اور وہ کرپشن (corruption) ہے۔

انڈین میں کرپشن کے خاتمے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

ایک عرب عالم سے مجدد اور تجدید دین کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مجدد مجدد کوئی پر اسرار لفظ نہیں۔ مجدد در اصل وہ ہے جو بدلے ہوئے حالات میں اسلام کے ریلو نس (relevance) کو دریافت کرے ۔ مثلا موجودہ زمانے میں سیکولرازم اور جمہوریت کے سیاسی نظریات سامنے آئے تو تمام مسلم رہنماؤں نے اس کے خلاف منفی رد عمل کا اظہار کیا، حالاں کہ تجدیدی نقطۂ نظر سے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ وہ سیکولرازم اور جمہوریت کے مقابلے میں اسلام کی مثبت پوزیشن کو دوبارہ دریافت کریں۔

کری کو سے واپسی کا سفر 9 ستمبر 2009 کو شروع ہوا ۔ واپسی کا سفر بھی دوبارہ اُسی راستے سے طے ہوا جس راستے سے ہم لوگ دہلی سے کری کو گئے تھے۔ راستے میں ایک انگریزی اخبار میں ایک خبر پڑھنے کو ملی۔ یہ خبر نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (8 ستمبر 2009) میں بھی چھپی ہے۔ خبر کا عنوان یہ تھا خدا کا عقیدہ انسان کے دماغ میں پیوست ہے:

Printed page