وہ آنے والا
Al-Risala, July 2010, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
تمام مذاہب میں یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کے خاتمے سے پہلے ایک آنے والا آئے گا اور وہ ایک خصوصی رول ادا کرے گا۔ یہی تعلیم اسلام میں بھی ہے۔ قرآن میں بھی اس کے اشارات موجود ہیں، مثلاً خروج دابّہ وغیرہ، اور حدیث میں اس کو صراحتّاً بتایا گیا ہے۔ حدیث کی کتابوں میں جو روایات آئی ہیں، اُن میں اِس سلسلے میں تین لفظ استعمال کئے گئے ہیں— رجل مومن، مہدی، مسیح۔ بظاہر یہ تینوں الفاظ ایک ہی شخصیت کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ یہ طریقہ قرآنی اسلوب کے عین مطابق ہے۔ قرآن میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کئی لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ (17:1)، محمد (33:40)، احمد (61:6)، وغیرہ۔ اس سلسلے میں غوروفکر کے بعد چند باتیں سمجھ میں آتی پہلی بات یہ کہ اس آنے والے شخص کی پہچان یہ نہیں ہوگی کہ وہ اپنے بارے میں اعلان کرے گا، اور یہ اللہ کی خصوصی رحمت کی بنا پر ہوگا۔ اس آنے والے شخص کو اگر بذریعہ وحی بتا دیا جائے کہ تمھیں وہ شخص ہو، تو اُس پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اعلان کر کے لوگوں کو اپنے بارے میں بتائے۔ مگر اس قسم کا مبنی بروحی اعلان بے حد سنگین ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اس قسم کے اعلان کے بعد اس کو سننے والے ایک بے حد نازک امتحان میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان کی نجات کا انحصار اس پر ہو جاتا ہے کہ وہ کھلے طور پر اس کا اقرار کریں۔ اگر وہ اقرار نہ کریں، تو شدید اندیشہ ہے کہ وہ غیر ناجی قرار پائیں گے۔ آنے والا اعلان کے ساتھ اپنے کام کا آغاز نہیں کرے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ آنے والے کی پہچان صرف ایک ہوگی، اور وہ اس کا استثنائی رول (exceptional role) ہے۔ لوگوں سے یہ مطلوب ہوگا کہ وہ اعلان کا انتظار نہ کریں، بلکہ وہ رول کو دیکھ کر بطور خود آنے والے کو پہچانیں اور اس کا ساتھ دیں۔ جو لوگ اس بصیرت کا ثبوت نہ دے سکیں، وہ تاریخ کے اس آخری امتحان میں بلاشبہ نا کام قرار پائیں گے۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، حدیث کی روایتوں میں قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والے شخص کے لیے
تین الفاظ استعمال کئے گئے ہیں _ رجل مومن، مہدی اور مسیح۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ تینوں کا رول ایک ہی بتایا گیا ہے، اور وہ ہے دجال کو قتل کرنا۔ اس میں یہ واضح اشارہ موجود ہے کہ تینوں سے مراد ایک ہی شخصیت ہے، ورنہ حدیث میں تینوں کے لیے الگ الگ رول بیان کئے جاتے۔ دجال کے قتل سے کیا مراد ہے۔ اس سلسلے کی روایتوں پر غور کرنے کے بعد یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس قتل سے مراد استدلالی قتل ہے، نہ کہ جسمانی قتل۔ صحیح مسلم میں اس سلسلے میں جو لفظ آیا ہے، وہ حجیج کا مطلب ہے _ حجت اور دلیل کے ذریعے غالب آنے والا: