One who overcomes in the argument.
Al-Risala, July 2010, pp. 14–16
By Maulana Wahiduddin Khan
دجال کے لفظی معنی ہیں _ بہت زیادہ فریب دینے والا (great deceiver)۔ ہے کہ دجال پر فریب نظریات کے ذریعے لوگوں کو مسحور کرے گا، وہ باطل کو خوش نما بنا کر پیش کرے گا۔ یہ دراصل اُسی چیز کی ایک مبالغہ آمیز صورت ہوگی جس کو شیطان کے حوالے سے قرآن میں تزئین (15:39) کہا گیا ہے۔ اس قسم کا فتنہ کبھی ایک شخص کی گردن کاٹنے سے ختم نہیں ہوتا۔ وہ اُسی وقت ختم ہوسکتا ہے، جب کہ استدلال کے ذریعے اس کو نظریاتی سطح پر پوری طرح باطل ثابت کر دیا جائے۔ دجال کا نظریاتی فتنہ تاریخ کا سب سے بڑا فتنہ ہوگا۔ اس لیے استدلال کی سطح پر اس کا خاتمہ کرنا بھی تاریخ کا ایک انتہائی عظیم واقعہ ہوگا۔ اسی بات کو صحیح مسلم (کتاب الفتن) کی ایک روایت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ھذا اعظم الناس شہادۃ عند رب العالمین۔ اس حدیث میں واضح طور پر شہادت سے مراد جسمانی قربانی نہیں ہے۔ جسمانی قربانی میں عظیم اور غیر عظیم کا کوئی فرق یہاں شہادت سے مراد گواہی (witness) ہے، یعنی دلائل ربانی کے ذریعے دلائل شیطانی کو آخری حد تک باطل ثابت کرنا۔
’’عظیم ترین شہادت‘‘ کے لفظ میں ایک اہم حقیقت کا اشارہ موجود ہے، وہ یہ کہ آنے والے کی پہچان یہ ہوگی کہ وہ اپنے رول کے اعتبار سے ایک استثنا (exception) ہوگا۔ وہ ایک ایثارول انجام دے گا جو پورے زمانے کے اعتبار سے ایک استثنائی رول ہوگا، اور یہی استشنا اس کی پہچان ہوگی۔
رجلِ مومن کے لفظ میں یہ اشارہ ہے کہ اس کی معرفت استثنائی درجے کی معرفت ہوگی۔ مہدی کے لفظ میں یہ اشارہ ہے کہ وقت کے تمام سوالات میں وہ استثنائی طور پر درست رہنمائی دینے کی صلاحیت کا مسیح کے لفظ میں یہ اشارہ ہے کہ وہ رأفت اور رحمت (57:27) بالفاظ دیگر امن (peace) کے اصول کا کامل معنوں میں اظہار کرے گا۔
آنے والے کے بارے میں حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایات آئی ہیں۔ ان میں سے اکثر روایتیں تمثیل کی زبان (symbolic language) میں ہیں۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ زمانے میں اسی اسلوب کا عام رواج تھا۔ چناں چہ خاتم النبیین (محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب) کے بارے میں جو پیشین گوئیاں بائبل میں آئی ہیں، وہ بھی تمثیل کی زبان میں ہیں۔ یہی اسلوب دور آخر میں ظاہر ہونے والے کے لیے حدیث کی کتابوں میں اختیار کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں فیصلہ کن بات یہ ہے کہ قیامت سے پہلے موجودہ دنیا میں جو واقعات پیش آنے والے ہیں، وہ پراسرار انداز میں پیش نہیں آئیں گے، بلکہ وہ معلوم اسباب کی صورت میں پیش آئیں امتحان کی اس دنیا میں یہی اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، یہ سنت کبھی کسی کے لیے ختم ہونے والی نہیں۔ معاصر اہل ایمان کی ذمے داری حدیث میں، آنے والے کی نسبت سے، یہ الفاظ آئے ہیں: وجب علی کل مؤمن نصره وإجابته (أبو داؤد، كتاب المهدی) یعنی ہر مومن پر یہ واجب ہوگا کہ وہ اس کی آواز پر لبیک کہے اور اس کا ساتھ دے۔ اس حدیث رسول سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا جب آئے گا تو اُس وقت معاصر (contemporary) اہل ایمان کی ذمے داری کیا ہوگی۔ وہ ذمے داری یہ ہوگی کہ وہ اس کو پہچانیں اور اس کے مشن میں بھرپور طور پر اس کا ساتھ دیں۔
واضح ہو کہ آنے والے کے بارے میں بہت زیادہ روایات آئی ہیں، لیکن ان روایتوں میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ آنے والا اعلان کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کرے گا، اور نہ یہ کہا گیا ہے کہ اس کے معاصرین اعلان کے ساتھ اس کا اعتراف کریں۔ اس قسم کے اعلان کا ذکر روایتوں میں موجود نہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنے والے کا رول اگر چہ اپنے زمانے کے اعتبار سے عملاً وہی رول ہوگا جو پیغمبر کا رول ہوتا ہے، لیکن یہ مشابہت با اعتبار رول ہوگی، نہ کہ با اعتبار اعلان۔ جہاں تک معاصرین کا تعلق ہے، اُن کی ذمے داری یہ نہیں ہوگی کہ وہ شخصی تعیین کے ساتھ اپنے اعتراف کا اعلان کریں۔ شخصی تعیین کے ساتھ اعتراف صرف پیغمبر کے لیے مخصوص ہے، غیر پیغمبر کے لیے اس قسم کا شخصی اعتراف درست نہیں۔ البتہ معاصرین کی یہ لازمی ذمے داری ہوگی کہ وہ آنے والے کو پہچانیں، وہ اس کے لیے دعا ئیں کریں، اور عملی اعتبار سے وہ پوری طرح اس کا ساتھ دیں۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا اقترب الزمان لم تكد رؤيا المؤمن تكذب (صحیح البخاری، کتاب التعبير) یعنی جب قیامت قریب آجاۓ گی، تو اُس وقت جو مومن ہوگا، وہ سچا خواب دیکھنے لگے گا۔
اس حدیث رسول پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ اس کا تعلق اُس شخص سے ہے جو قیامت کے قریب ظاہر ہوگا۔ چوں کہ اس شخص کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا کہ جبریل آکر اس کو بتائیں کہ تمھیں آنے والے شخص ہو، اور نہ معاصرین پر یہ فرض ہوگا کہ وہ اعلان کے ساتھ اس کا اقرار کریں۔ والے شخص کی واحد پہچان اس کا استثنائی رول ہوگا۔ اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنی خصوصی رحمت سے اُس کے لیے ایک اضافی مدد (additional support) کا انتظام کرے گا۔ یہ انتظام سچے خواب کی صورت میں ہوگا۔ آنے والے کے معاصرین کثرت سے ایسے خواب دیکھیں گے جو اُس کو یقین دلائیں گے کہ آنے والا شخص وہی ہے جس کو انھوں نے خواب میں دیکھا۔