3۔ فقہی اختلافات
Al-Risala, July 2010, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کے عروہ کے ٹوٹنے کا تیسرا واقعہ غالباً وہ تھا جو کہ فقہی اختلافات کی صورت میں پیش پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا تھا کہ: أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم (جامع بيان العلم وفضله 2/90) اس کا مطلب یہ تھا کہ دینی معاملات، خاص طور پر عبادات کے معاملہ میں اصحاب رسول کے درمیان فروق (differences) پائے جائیں گے، یہ فروق فطری ہوں گے اور بربنائے توسع ہوں گے، تو تم لوگوں کو آزاد چھوڑ دینا کہ وہ جس صحابی کے طریقہ کی پیروی کرنا چاہیں کریں، مگر دور عباسی کے فقہاء نے اس تعدد کو نا درست سمجھا، اور غیر ضروری طور پر اس کو ایک بنانے کی کوشش کی۔ یہ تو حد عملاً ناممکن تھا، چناں چہ تو حد کی کوشش کا یہ منفی نتیجہ نکلا کہ متعدد فقہی اسکول قائم ہو گئے ۔ فقہی مسائل میں اسی منحرفانہ طریقہ کا یہ نتیجہ ہے کہ امت متفرق فرقوں میں بٹ گئی اور امت کی سطح پر اتحاد بظاہر ایک ناممکن چیز بن گیا۔