6- غیر ریاستی جہاد
Al-Risala, July 2010, pp. 19–20
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام میں اس قسم کے نقصان کی چھٹی مثال وہ ہے جو انیسویں صدی میں تو آبادیاتی دور میں سامنے آئی ۔ یہ مفروضہ دشمنوں کے خلاف مسلح جنگ کا معاملہ تھا۔ برطانیہ کے خلاف جنگ، فرانس کے
خلاف جنگ، اسرائیل کے خلاف جنگ وغیرہ، یہ تمام جنگیں اسلام کے ایک عروہ کو توڑنے کے ہم معنی تھیں، وہ یہ کہ جہاد (بمعنی قتال) صرف باقاعدہ قائم شدہ اسٹیٹ کا کام تھا، وہ عوام کی ذمہ داری نہیں (الرحیل للإمام)۔ لیکن موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے عام طور پر اسلام کے اس عروہ کو توڑنے میں حصہ لیا، کچھ لوگوں نے قولی اعتبار سے اور کچھ لوگوں نے عملی اعتبار سے۔ پچھلے تقریباً دو سو سال سے مسلمان دوسری قوموں کے ساتھ مسلح جہاد میں مشغول ہیں۔ مگر یہ جہاد زیادہ تر آزاد مسلم تنظیمیں (NGOs) کررہی ہیں، نہ کہ باقاعدہ طور پر قائم شدہ مسلم حکومتیں ۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، مسلم تنظیموں کو صرف پر امن دائرہ میں کام کرنے کا حق ہے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر ان کو ہرگز یہ اجازت نہیں کہ وہ ہتھیار اٹھائیں، مگر تحلیلِ حرام کا یہ کام موجودہ زمانہ میں بہت بڑے پیمانہ پر ہوا، اور تادم تحریر (20 اپریل 2010) وہ بدستور جاری ہے۔ اسلام کے اس عروہ کو توڑنے کا جو نقصان اہل اسلام کو پہنچا ہے، وہ بلاشبہ تمام دوسرے نقصانوں سے زیادہ بڑے نقصان کی حیثیت رکھتا ہے۔