Al-Risala · July 2010

9- رجال کو معیار بنانا

Al-Risala, July 2010, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ : ترکت فیکم أمرین، لن تضلوا ما تمسكتم بهما : کتاب الله و سنة نبيه (موطاً، النهي عن القول بالقدر ) یعنی میں تمھارے اندر دو بنیادی چیزیں چھوڑ رہا ہوں جب تک تم ان کو پکڑے رہوگے، تم گمراہ نہ ہوگے۔ یہ دو چیزیں ہیں ــــ خدا کی کتاب، اور اس کے رسول کی سنت ۔ یہ بلاشبہہ اسلام کا ایک اہم عروہ تھا، لیکن بعد کے زمانہ میں یہ عروہ عملاً بالکل توڑ دیا گیا۔ بعد کے زمانہ کے مسلمانوں کے دین کا ماخذ اصلاً قرآن اور سنت نہیں رہا، بلکہ ان کے اکابر ان کے دین کا ماخذ بن گئے۔ اس تبدیلی نے اصل اسلام کو عملاً ایک معطل دین بنا دیا ہے۔ اب تقریباً تمام مسلمان دین کے نام پر خود اپنے اکابر کے مذہب پر قائم ہیں۔ اس کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ کسی بھی معاملہ میں لوگوں کے سامنے قرآن اور سنت کا حوالہ دیجیے تو ان کو زیادہ اہم معلوم نہ ہوگا، لیکن اگر ان کے اپنے اکابر کے اقوال و آراء کا حوالہ دیجیے تو وہ فوراً اس کو قبول کر لیں گے۔ وہ اس آیت قرآن کے مصداق بن جائیں گے : إذا هم يستبشرون (الزمر: 45)۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لئے ان کے دین کا ماخذ قرآن اور سنت

نہیں ہے، بلکہ عملاً ان کے اپنے اکابر ان کے دین کا ماخذ ہیں۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کا عین وہی حال ہوا ہے جس کو قرآن میں یہود کا شیوہ بتایا گیا ہے: اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أربابا من دون الله (التوبة: 31)

Printed page