امن، امن، امن
Al-Risala, July 2010, pp. 23–26
By Maulana Wahiduddin Khan
بیسویں صدی کے آخر تک تمام دنیا کے مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ عرب سے لے کر عجم تک ہر جگہ صرف ایک آواز گونجتی تھی، اور وہ جہاد کی آواز تھی۔ کچھ مسلمان عملاً مسلح جہاد میں مشغول تھے اور کچھ مسلمان جہادی بولی بولتے تھے۔ عرب دنیا میں عرب شاعر الزرکلی (وفات: 1976) کا یہ شعر گونجتا تھا: جدّدی حطّین أو شبه حطّینا هات صلاح الدین ثانیة فینا برصغیر ہند کے رہنما بھی سب کے سب اسی قسم کی بولی بولتے تھے۔ انھوں نے مسلم مسائل کے حل کے لیے’’فلسفۂ اضرار‘‘ دریافت کیا۔ وہ جوش کے ساتھ یہ شعر پڑھتے تھے:
اگر کانٹوں میں ہو خوئے حرِیری حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے یہی سوچ اُن مسلمانوں کی تھی جو یورپ اور امریکا میں رہتے ہیں۔ وہ یہ کہہ کر نام نہاد مجاہدین کی تبریر (justify) کرتے تھے کہ ظالموں کو سبق سکھانے کے لیے ہمیں کچھ کرنا ہی پڑے گا: We have to teach them a lesson یہ صورتِ حال بیسویں صدی عیسوی کے آخر تک ہر جگہ باقی رہی۔ ہر جگہ کے لکھنے اور بولنے والے مسلمان کسی نہ کسی الفاظ میں اس طرح کی بات لکھتے تھے یا بولتے تھے۔ بیسویں صدی کا مسلم میڈیا یا اس قسم کی باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ ذہن صرف اُن لوگوں کا نہیں تھا جو صحافت یا اسٹیج کی سرگرمیوں میں نمایاں ہوتے ہیں، بلکہ یہی ذہن ان لوگوں کا بھی تھا جو بظاہر صحافت اور اسٹیج سے دور اُن سے بھی گفتگو کیجئے تو معلوم ہوتا تھا کہ وہ بھی اُسی تلخی اور شکایت میں جی رہے ہیں جس میں دوسرے لوگ مبتلا ہیں۔ گویا کہ کچھ لوگ اگر ایکٹیو جہاد (active jihad) میں سرگرم تھے، تو دوسرے لوگ پیسیو جہاد (passive jihad) میں سرگرم۔
یہ صورتِ حال اتفاقی نہ تھی۔ پچھلے ہزار سال میں مسلمانوں کے درمیان جو لٹرپچر تیار ہوا، اُس میں سب کچھ تھا، مگر اْس میں دو چیز مکمل طور پر حذف تھی اور وہ ہے دعوت اور امن کا تصور۔ اِس کے بعد
جب مغربی طاقتوں نے مسلم ایمپائر کو توڑ دیا تو اس کے خلاف ردعمل کی بنا پر یہ ذہن اور زیادہ پختہ ہوگیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیسویں صدی عیسوی کی پوری، منفی سوچ اور منفی سرگرمیوں کی نذر ہو گئی۔ پوری صدی میں نہ دعوت کا پیغام لوگوں کے سامنے آیا اور نہ امن کا پیغام، جب کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔
راقم الحروف پر اللہ تعالی نے استثنائی طور پر دعوت اور امن کی اہمیت کھولی۔ 1947 میں انڈیا کی آزادی کے بعد میں نے اللہ کی توفیق سے یہ کام شروع کیا۔ دسمبر 1950 میں، میں اعظم گڑھ میں اُس وقت وہاں سبزی منڈی ہال میں ایک نمائش (exhibition) لگائی گئی۔ میں نے مرحوم یوسف آرٹسٹ اور دوسرے ساتھیوں کی مدد سے وہاں پہلی بار اسلامی کتابوں کا ایک بک اسٹال لگایا۔ بک اسٹال کے اوپر لال رنگ کے روشن حروف میں ایک سائن بورڈ لگایا گیا جو اتنا بڑا تھا کہ وہ گیٹ سے دکھائی دیتا تھا۔ اس سائن بورڈ پر قرآن کی آیت: واللہ يدعو إلى دار السلام (يونس : 25) کا انگریزی ترجمہ ان الفاظ میں لکھا ہوا تھا:
And God calls to the home of peace (10:25)
اس آیت میں بیک وقت دو باتیں کہی گئی ہیں — دعوت اور امن۔
اس کے بعد میں اپنے طور پر دعوتی کام کرتا رہا۔ 19-18 فروری 1955 کو لکھنؤ کے امین الدولہ پارک میں جماعتِ اسلامی ہند کے زیر اہتمام ایک اجتماع ہوا۔ اس موقع پر میں نے اپنا ایک مقالہ پڑھا جو بعد کو تین زبانوں میں شائع ہوا— اردو، ہندی، انگریزی۔ اس کا اردو ٹائٹل ”نئے عہد کے دروازہ پر‘‘ تھا۔ اور ہندی میں ”نو یگ کے پرولیش دوار پر‘‘ اور انگریزی میں اس کا ٹائٹل یہ تھا: On the Threshold of a New Era اللہ کی توفیق سے یہ کام بلا انقطاع جاری رہا۔ اس مقصد کے لیے میں نے 1950 میں ادارہ اشاعتِ اسلام اس کے بعد 1970 میں اسلامک سنٹر کے نام سے نئی دہلی میں ایک دعوتی مرکز قائم کیا۔ 2001 میں سنٹر فار پیس اینڈ اسپرچولیٹی (سی پی ایس انٹرنیشنل) کا قیام عمل میں آیا۔
بیسویں صدی کے آخر تک یہ حال تھا کہ لوگ اس کام کو ون مین شو (one man show)
تاہم اللہ کی توفیق سے یہ کام مسلسل جاری رہا۔ اردو، عربی، ہندی اور انگریزی میں سیکڑوں کتابیں تیار ہوکر ہر جگہ پھیلیں۔ پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا یا دونوں کے ذریعے مسلسل یہ پیغام لوگوں کے سامنے آتا رہا۔ اسی کے ساتھ بار بار مجھے بین الاقوامی کانفرنسوں میں نیز ملک کے اندر ہونے والی کانفرنسوں میں شرکت کا موقع ملا۔ ہر جگہ میں نے اس مشن کو لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔ تاہم لوگ اپنی کنڈیشننگ کی بنا پر اس پیغام کی اہمیت کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتے تھے۔ آواز ابتدا لوگوں کی نظر میں عرصے تک تقریباً اجنبی بنی رہی۔ مثال کے طور پر 1965 کا واقعہ ہے۔ کا ایک اردو جریدہ، جو اُس وقت ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان مقبول ترین جریدہ تھا، اُس نے میرے مضامین کو یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ’’ آپ کے مضامین ہمارے جریدے میں کھپ نہیں رہے ہیں‘‘۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مذکورہ جریدہ احتجاجی اسلوب پر نکالا گیا تھا۔ اس کے مقابلے میں، میرے مضامین تعمیری اسلوب پر لکھے گئے تھے۔ اس فرق کی بنا پر میرے مضامین مذکورہ جریدے کے لیے ناقابلِ قبول بن گئے۔ اسی طرح الاخوان المسلمون کا ہفت روزہ جریدہ’’الدعوۃ‘‘ جو قاہرہ سے نکلتا تھا اور عرب دنیا میں بے حد مقبول تھا، اْس میں میرے خلاف ایک مضمون شائع ہوا۔ جس میں میرے دعوتی مشن کو نئی قادیانیت (قاديانيّـة جديدة) بتایا گیا تھا۔ مذکورہ جریدہ الاخوان المسلمون کے نقطۂ نظر کا ترجمان تھا جو مسلح جہاد کے ذریعے مقاصدِ ملت کا حصول چاہتے تھے، اِس لیے اِس جریدے کو میرا نقطۂ نظر سمجھ میں نہ آیا جو پُر امن دعوت کے اصول پر قائم ہے۔ تاہم اکیسویں صدی کے آتے ہی صورتِ حال یکسر بدل گئی۔ تمام دنیا کے مسلمان امن کی اور دعوت کی بات کر رہے ہیں، جگہ جگہ امن اور دعوت کے نام پر بڑی بڑی کانفرنسیں منعقد کی جارہی ہیں۔ مثال کے طور پر میڈرڈ (اسپین) میں جولائی 2008 کوسعودی حکومت کے تحت’’ بین الاقوامی امن کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، اور دسمبر 2008 میں مکہ میں’’بین الاقوامی دعوت کانفرنس‘‘ کا انعقاد عمل میں آیا، وغیرہ۔
یہ ایک واقعہ ہے کہ آج ساری دنیا کے مسلمانوں میں دعوت اور امن کی باتیں ہو رہی ہیں۔
سیکولر مسلمان اور مذہبی مسلمان دونوں اپنے اپنے انداز میں اسی قسم کی بات کہہ رہے ہیں۔ صدی عیسوی میں یہ نئی صورت حال اللہ کی توفیق سے ہمارے مشن کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ ایسی واضح حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔
کسی بھی بڑے واقعے کے ظہور میں کچھ معاون اسباب کام کرتے ہیں۔ یہی ہمارے مشن کے ساتھ پیش آیا۔ حضرت عائشہ کی روایت کے مطابق، ہجرت کے پانچ سال پہلے اوس اور خزرج کے درمیان پیش آنے والی جنگِ بُعاث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے لیے ایک مددگار واقع کی حیثیت رکھتی تھی (كان يوم بُعاث يوماً قدّمه الله لرسوله صلی اللہ علیہ وسلم) ۔ جنگ بُعاث میں مدینہ کے بڑے بڑے سردار ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد وہاں مزاحمت (resistance) کرنے والے لیڈر باقی نہ (فتح الباری، جلد 7، صفحہ 137، كتاب المناقب، باب مناقب الأنصار)۔
11 نومبر 2001 میں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو توڑنے کا مشہور واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کے بعد امریکا غضب ناک ہو گیا۔ اس نے عراق اور افغانستان کے خلاف براہ راست طور پر اور پوری مسلم دنیا کے خلاف بالواسطہ طور پر ایک انتقامی جنگ چھیڑ دی۔ اس جنگ میں نام نہاد جہاد کے اکابر رہنما یا تو مارے گئے یا وہ خاموش ہو گئے۔ امریکا کا یہ آپریشن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک خدائی آپریشن تھا۔ اُن تمام طاقتوں کو زیر کر دیا جو امن اور دعوت کے مشن کے خلاف محاذ بنائے ہوئے تھے۔ چناں چہ آج ہر شخص دیکھ رہا ہے ساری مسلم دنیا میں تمام زبانیں اور تمام قلم امن اور دعوت کی بات کہہ رہے ہیں۔ آخری زمانے کے جس دور امن کی پیشین گوئی حدیث میں گئی تھی، وہ دورِ امن اب پوری طرح آچکا ہے۔ اب ہماری ذمے داری یہ ہے کہ جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کے فریضے کو انجام دیں، یہاں تک کہ حدیث کے الفاظ میں، اسلام کا کلمہ (كلمة الإسلام) دنیا کے تمام چھوٹے اور بڑے گھروں میں داخل ہو جائے۔
خصوصی شمارہ ”قیامت کا الارم“ علاحدہ پمفلٹ کی صورت میں تیار ہو گیا ہے۔ اس کو گولڈ ورڈ بکس سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔