تھرڈ آپشن سے بے خبر
Al-Risala, July 2010, pp. 37–40
By Maulana Wahiduddin Khan
طرزِ فکر کی ایک قسم وہ ہے جس کو ثنائی طرزِ فکر (dichotomous thinking) کہا جاتا ہے، یعنی صرف دو کے درمیان سوچنا۔ مثلاً سیاہ اور سفید (black & white) کے درمیان سوچنا۔ فکر انتہا پسندانہ مزاج کی بنا پر پیدا ہوتا ہے۔ آدمی پہلے ایک انتہا کو لے کر سوچتا ہے اور جب وہ اُس سے غیر مطمئن ہوتا ہے تو اس کے بعد وہ دوسری انتہا کی طرف چلا جاتا ہے۔ مگر یہ طرزِ فکر درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیشہ دو کے درمیان ایک تیسرا آپشن (third option) بھی موجود ہوتا ہے اور اکثر حالات میں اِسی طرح کا آپشن درست ہوتا ہے۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے بار بار یہ غلطی کی۔ مثلاً نو آبادیاتی زمانے میں کچھ مسلمان انگریزوں کے دشمن ہو گئے اور وہ انگریز کی ہر بات کو غلط سمجھنے لگے۔ اس کے برعکس، کچھ اور لوگ انگریز کے زبردست مقلد بن گئے اور انگریزی کلچر اختیار کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے۔ یہ ثنائی طرزِ فکر تھا، حالاں کہ اُن کے لیے ایک تیسرا آپشن بھی موجود تھا۔ وہ یہ کہ وہ انگریز کو مدد سمجھیں اور اُن کو پر امن انداز میں اسلام کا پیغام پہنچائیں۔
یہی معاملہ خواتین کا ہے۔ خواتین کے معاملے میں مسلمانوں کا مذہبی طبقہ صرف دو صورتوں کو جانتا یا تو اُنھیں روایتی خول میں بند رکھنا یا فیشن کی دنیا میں آزاد چھوڑ دینا۔ مگر یہاں ایک تھرڈ آپشن بھی موجود ہے، وہ یہ کہ عورت اپنی نسوانیت کو باقی رکھتے ہوئے تعمیرِ انسانیت کے مشن میں اپنا حصہ ادا کرے۔ اس تعمیری رول کو ادا کرنے کے لیے چند چیزیں ضروری ہیں ــــ اچھی تعلیم، شعوری ارتقاء، حالاتِ زمانہ کے مطابق ان کی تربیت، اپنے حدود کو جانتے ہوئے اجتماعی کام میں حصہ لینا، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ خالق نے جس طرح مرد کو کارِ خاص کے لیے پیدا کیا ہے، اُسی طرح اس نے عورت کو کارِ خاص کے لیے پیدا کیا ہے۔ ضرورت ہے کہ دونوں اپنے اپنے رول کو جانیں اور فطری حدود کے اندر رہتے ہوئے اُس کارِ خاص کو انجام دیں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب ’’عورت معمارِ انسانیت‘‘)
ماہ نامہ الرساله (جون (2007) کے شمارے میں ’’مسیحی ماڈل کی آمدِ ثانی‘‘ کے عنوان سے آپ کا ایک مضمون نگاہ سے گزرا۔ اس سلسلے میں دو سوال پیش خدمت ہیں۔ ایک یہ کہ اس تعبیر کے استعمال کرنے کی کیا حکمت پیش آئی۔ دوسرے یہ کہ قرآن (الأحزاب : 21) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے’’اسوہ حسنہ‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ اس کی تشریح میں آپ نے لکھا ہے کہ اس کا مطلب لازمی طور پر ہر صورت حال کے لیے عملی ماڈل کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد صرف اصولی براہِ کرم، اس معاملے کی وضاحت فرمائیں (ڈاکٹر عبدالرحمن، نئی دہلی) آپ نے غالباً اصل مضمون کو زیادہ غور کے ساتھ نہیں پڑھا، ورنہ آپ کو اس قسم کا اشکال پیش اگر آپ مضمون کو غور سے پڑھیں تو آپ پر کھل جائے گا کہ مسیحی ماڈل کی آمد ثانی کا مطلب دوسرے لفظوں میں مکی ماڈل کی آمد ثانی ہے۔ مذکورہ مضمون میں جس چیز کو مسیحی ماڈل کہا گیا ہے، وہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پوری طرح موجود ہے۔ مکی دور میں آپ نے خود اسی اصول کے مطابق عمل فرمایا ہے۔ مضمون میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ اس تصور کو زیادہ ممیز (distinguished) کرنے کے لیے اس کو مسیحی ماڈل کا نام دے دیا گیا ہے، تا کہ وہ جدید ذہن کے لیے زیادہ قابل فہم ہو سکے۔ جیسا کہ معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبرانہ مشن کے دو دور ہیں— مکی دور، اور مکی دور پر امن دعوت کا دور ہے۔ اس کے مقابلے میں مدنی دور کو جہاد اور قتال کا دور سمجھا جاتا اور یہ دونوں ادوار بلا شبہ اسلام میں مستند ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں حالات میں ایسی تبدیلیاں ہوئیں کہ اب جنگ و قتال کے بغیر تمام دعوتی کام انجام دئے جاسکتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ توحید کا مشن دوبارہ مکی دور کی طرف واپس آگیا ہے، یعنی پر امن دعوتی دور کی طرف۔ یہی وہ تاریخی حقیقت ہے جس کو مذکورہ مضمون میں
مسیح ماڈل کی واپسی کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
یہ تعبیر غیر متعلق نہیں ہے۔ ہمارے علماء اور مسلمان عام طور پر یہ مانتے ہیں کہ قیامت سے پہلے مسیح کی ’’ آمد ثانی‘‘ ہونے والی ہے۔ جس واقعہ کو لوگ مسیح کی آمد ثانی (second coming) کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں، اُسی کو اس مضمون میں مسیحی ماڈل کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی مسیح کی آمد ثانی کا مقصد گویا کہ سکی دور کی تجدید ثانی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ صرف الفاظ کے فرق کا معاملہ ہے، ورنہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ کوئی نئی بات نہیں۔
2- میں نے اپنے مضمون میں کوئی نئی بات نہیں کہی ہے۔ میں نے صرف قرآن کی مذکورہ آیت کی تشریح کی ہے۔ میں نے صرف اس سوال کا جواب دیا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں کیوں اسوۂ حسنہ کا لفظ آیا ہے، قرآن میں اسوۂ کاملہ کا لفظ کیوں استعمال نہیں کیا گیا۔ جب خود قرآن میں کاملہ کا لفظ استعمال نہیں ہوا، تو ہم کو بہر حال اس کی کوئی تو جیہہ ڈھونڈنی ہوگی۔ اور خالص علمی اعتبار سے اس کی کوئی دوسری تو جیہہ ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے معاملے میں یکساں نظری اصول تو ہمیشہ موجود رہتا ہے، مگر یکساں عملی ماڈل کبھی موجود نہیں ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ اسوہ یا ماڈل ایک عملی نمونہ کا نام ہے، اور عملی نمونہ کبھی بھی غیر متغیر یا ابدی نہیں ہوتا۔ ماڈل ہمیشہ حالات کی نسبت سے طے ہوتا ہے، نہ کہ کسی آئیڈیل نظریے کی نسبت سے۔
غور کیجئے تو خود رسول اور اصحاب رسول کے زمانے ہی میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ کے طور پر خلافت کے معاملے کو لیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کسی کو نام لے کر خلیفہ نام زد نہیں کیا۔ مگر خلیفۂ اول حضرت ابو بکر نے اس کے برعکس ، نام لے کر خلیفۂ ثانی عمر بن خطاب کو نام زد کیا۔ اس کے بعد خلیفۂ ثانی نے اس کی پیروی نہیں کی ، بلکہ انھوں نے ایک اور طریقہ اختیار کیا، اور وہ خلیفہ کے انتخاب کے لیے 6 افراد کا ایک بورڈ مقرر کرنا تھا۔
فقہاء کا یہ متفقہ اصول ہے کہ : تتغير الأحكام بتغير الزمان والمكان (زمان ومكان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں) دوسرے لفظوں میں یہ کہ عملی احکام کا تعین کسی واحد نظری معیار
کی بنیاد پر نہیں ہوتا، بلکہ وقت کے حالات کی رعایت سے ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں کامل ماڈل کا لفظ ایک ایسا لفظ ہے جو غیر فطری بھی ہے اور غیر عملی بھی اور نتیجہ غیر اسلامی بھی۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ’’مطالعہ سیرت‘‘ کا مقالہ ’’اسوہ حسنہ‘‘، صفحہ 150-141)