سوال و جواب
Al-Risala, July 2010, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
مئی 2010 کے شمارے میں ’’دابۃ‘‘ کے متعلق آپ نے لکھا ہے کہ اس سے مراد وہ انسان ہے جو آخری زمانے میں حق کا اعلان کرے گا، جب کہ اس سے پہلے الرسالہ میں آپ نے دابہ کو جدید کمیونیکیشن بتایا ہے۔ ایسی حالت میں سوال یہ ہے کہ کس رائے کو لیا جائے، پہلی رائے کو یا دوسری رائے براہ کرم، اس کنفیوزن کو دور فرمائیں (ڈاکٹر محمد اسلم خان، سہارن پور)
دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 27 میں بتایا گیا ہے کہ دابہ کلام کرے گا (النمل: 82) جیسا کہ معلوم ہے، کمیونیکیشن ایک غیر ذی روح چیز ہے۔ اس کے اندر اپنے آپ کلام کرنے کی صلاحیت نہیں۔ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ عالمی کمیونیکیشن کے زمانے میں ایک شخص پیدا ہوگا جو جدید کمیونیکیشن کے ذرائع کو استعمال کر کے آیات الہی کو لوگوں تک پہنچائے گا۔ ایسی حالت میں دابہ کے رول کو ادا کرنے کے لیے انسان اور کمیونیکیشن دونوں یکساں طور پر ضروری ہیں۔ گویا کہ انسان اور کمیونیکیشن دونوں ایک ہی رول کے دو پہلو ہیں، یعنی اعلان حق کے رول کو ادا کرنے والا ایک انسان ہوگا، اور اس کام کے لیے وہ جس ذریعے کو استعمال کرے گا، وہ جدید کمیونیکیشن کا ذریعہ ہوگا، واللہ أعلم بالصواب۔ الرسالہ مشن سے وابستہ تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنا ای میل اور ٹیلی فون نمبر روانہ فرمائیں۔ ای میل یا فون نمبر کی تبدیلی کی صورت میں اس کو اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے۔ مطلوبہ تفصیل ایس ایم ایس (SMS) کے ذریعہ بھی روانہ کی جاسکتی ہے۔ مکمل ایڈریس کے بجائے اپنا نام اور مقام (مع ضلع اور صوبہ) کی تعیین ضروری ہے: