Al-Risala · August 2010

قرآن میں تدبر

Al-Risala, August 2010, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ قرآن کی آیتوں پر تدبر کرو (ص : 29)۔ اس کی ایک سادہ مثال قرآن کی سورہ نمبر 2 میں یہ بتایا گیا ہے کہ اہل جنت کو جب وہاں کا رزق دیا جائے گا، تو وہ کہیں گے کہ ایسا ہی رزق ہم کو دنیا میں بھی ملتا تھا (البقرۃ : 25)۔

اس آیت میں جنت کی نعمتوں کے لیے رزق کا لفظ استعمال ہوا ہے اور دنیا کی نعمتوں کے لیے بھی رزق کا لفظ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آخرت کی جنت کا رزق بھی عین وہی ہوگا جو موجودہ دنیا میں انسان کو ملتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔

کیوں کہ جنت کی ہر چیز کامل (perfect) ہوگی اور موجودہ دنیا کی ہر چیز غیر کامل (imperfect) ہوتی ہے۔

اس سوال پر غور کرتے ہوئے ہم اس حقیقت تک پہنچتے ہیں کہ ہر لفظ کا ایک ابتدائی مفہوم ہوتا ہے اور دوسرا اس کا انتہائی مفہوم۔ مذکورہ آیت میں دنیا کی نسبت سے، رزق کا لفظ اپنے ابتدائی مفہوم میں آیا ہے، اور جنت کی نسبت سے، رزق کا لفظ اپنے انتہائی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ دنیا میں ہر چیز اپنے ابتدائی درجہ لذت کے اعتبار سے ملتی ہے، جب کہ جنت میں ہر چیز اپنے انتہائی درجہ لذت کے اعتبار سے ملے گی۔

اس سادہ مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں تدبر کا مطلب کیا ہے۔ تدبر کا مطلب اصلًا یہ ہے کہ آپ کسی قرآنی آیت کو لے کر اُس پر سوال قائم کرسکیں ۔ جب سوال سامنے آئے گا تو ذہن غوروفکر کے ذریعے اُس کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کرے گا۔

اس طرح آیت کے اندر چھپے ہوئے معانی کھلیں گے، آیت کے گہرے معانی تک آپ کی رسائی ہونے لگے گی۔ اس طرح آپ کا یقین بڑھے گا، آپ کی معرفت میں اضافہ ہوگا، آپ کے اندر ذہنی ارتقاء کا عمل شروع ہوجائے گا۔

Printed page