تخلیقی حمد
Al-Risala, August 2010, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت داؤد ایک پیغمبر تھے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد ایک خاص انداز میں کی۔ یہ حمد اتنی زیادہ عظیم تھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یا داؤد، اتعبت الملائكة (الشکر لابن أبي الدنيا، رقم الحديث (36) یعنی اے داؤد، تم نے تو فرشتوں کو تھکا دیا۔
یہ سادہ طور پر صرف حمدِ داؤدی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ حمدِ تفگیری کا معاملہ ہے۔ کوئی شخص اللہ کی عظمتوں پر سوچتا ہے، وہ آلاءِ اللہ میں فکر و تدبر کرتا ہے تو اُس کے اندر تخلیقی معرفت پیدا وہ نئے نئے انداز سے اللہ تعالیٰ کی عظمتوں کو محسوس کرنے لگتا ہے۔ اُس وقت اس کی زبان سے حمدِ خداوندی کے اظہار کے لیے تخلیقی الفاظ (creative words) نکلنے لگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اعلیٰ درجے کی معرفت ہمیشہ، اعلیٰ درجے کے تدبر سے کسی بندۂ خدا کو ملتی ہے۔ مثال کے طور پر سورج ایک خدائی کارخانہ ہے جو زمین پر روشنی سپلائی کرتا ہے۔ درخت بھی خدائی کارخانے ہیں جو انسان کو آکسیجن سپلائی کرتے ہیں۔ سورج دن کے وقت اپنی روشنی زمین پر بھیجتا ہے اور شام کے وقت وہ اس کو موقوف کر دیتا ہے۔
اگر درخت بھی یہی کریں کہ وہ دن کے نصف حصے میں آکسیجن سپلائی کریں اور دن کے نصف حصے میں وہ آکسیجن سپلائی کرنا بند کر دیں تو موجودہ زمین پر انسان کے لیے زندہ رہنا ممکن ہو جائے گا۔ اس طرح کی بے شمار خدائی حکمتیں ہیں۔ یہ حکمتیں واقعاتِ فطرت کے اندر چھپی ہوئی ہیں۔ انسان جب سوچتا ہے تو یہ چھپی ہوئی نشانیاں اُس پر ظاہر ہو جاتی ہیں۔
اُس وقت وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اس کی زبان پر حمد کے وہ عظیم الفاظ جاری ہو جائیں جس کی ایک مثال پیغمبر داؤد کے واقعے کی صورت میں بتائی گئی ہے۔ یہ اعلیٰ حمد ہی وہ چیز ہے جو انسان کو جنت کے اعلیٰ درجات تک پہچانے والی ہے۔