Al-Risala · August 2010

اسلامی نظریۂ جنگ

Al-Risala, August 2010, pp. 8–9

By Maulana Wahiduddin Khan

’’نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقۂ دعوت وتبلیغ اور عصری تحریکات‘‘ کے عنوان کے تحت ایک مشہور عالم کا ایک مقالہ شائع ہوا ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے اسلامی نظریۂ جنگ پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’اسلامی جہاد کی کار گزاریوں میں اس کے علاوہ اور کسی بات کی گنجائش نہیں کہ پہلے پہل دشمنوں کو دین کی دعوت دی جائے۔ اگر وہ اسے قبول کر لیتے ہیں، تو اُن کے جان و مال حرام ہیں۔ جب اس کا انکار کریں، تو ان سے اسلام اور مسلمانوں کی (سیاسی) ذمے داری میں داخل ہو جانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ لیکن جب وہ لوگ اس کا بھی انکار کر دیں، تو پھر جہاد کا حکم ہے، اور اُن سے جنگ کی جائے گی، یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں، یا اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں۔ یہی اسلامی طریقہ ہے۔ (پندرہ روزہ تعمیر حیات، لکھنؤ، 25 اپریل 2010، صفحہ 7)

یہی اکثر علماء کا خیال ہے۔ لیکن یہ سراسر ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ اسلام میں انکارِ دعوت پر جنگ نہیں ہے، اسلام میں صرف جارحیت (aggression) پر مدافعانہ جنگ ہے۔ اس مدافعانہ جنگ کی بھی بہت سی لازمی شرطیں ہیں۔ ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ اس دفاعی جنگ کا حق بھی صرف ایک قائم شدہ حکومت کو ہے (الرحيل للإمام)۔ غیر حکومتی افراد یا غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کو ہرگز یہ اجازت نہیں کہ وہ کسی کو منکر یا دشمن قرار دے کر اُس کے خلاف مسلح جنگ شروع کر دیں۔ اگر کسی مقام پر وہ صورتِ حال ہو جس کو عام طور پر ظلم یا بے انصافی سے تعبیر کیا جاتا ہے، تو وہ ہرگز کسی مسلم فرد یا مسلم تنظیم کے لیے جنگ چھیڑنے کا عذر نہیں۔ ایسی صورت حال میں کسی مسلم فرد یا مسلم تنظیم کے لیے ایک ہی انتخاب (choice) ہے، یہ کہ وہ کامل طور پر پر اُمّن رہتے ہوئے دعوت اور اصلاح کا کام کرے۔ بالفرض اگر فریقِ مخالف کی طرف سے زیادتی کا سلوک کیا جائے تو اس کے بعد بھی مسلمانوں کے لیے صرف ایک ہی انتخاب ہے، اور وہ صبر ہے، یعنی وہ اپنے نزاعی عمل کو یک طرفہ طور پر موقوف کر دیں اور فریق ثانی کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں

ایک روایت حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں آئی ہے: أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله (صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب الأمر بقتال الناس) یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں، یہاں تک کہ وہ یہ کہہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں۔ اس حدیث سے کچھ لوگ یہ مطلب نکالتے ہیں کہ اسلام کا نشانہ لوگوں سے اُن کے عقیدے کو بدلوانا ہے، اسلامی دعوت کا آغاز پر امن تبلیغ سے ہوگا، لیکن اگر وہ پر امن تبلیغ سے اسلام قبول نہ کریں تو اُن سے باقاعدہ جنگ کی جائے گی، تاکہ وہ مجبور ہوکر اسلام کے حلقے میں داخل ہو جائیں۔ اس حدیث کا یہ مطلب یقینی طور پر درست نہیں ہے۔ پہلی بات یہ کہ اس حدیث میں ”الناس“ کا لفظ عام معنوں میں نہیں ہے، بلکہ وہ خاص معنی میں ہے۔

اس حدیث میں الناس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر بنو اسماعیل (قریش مکہ) ہیں۔ اس حدیث کو عمومی معنوں میں لینا ہرگز درست نہیں۔ الناس کے لفظ کا ایسا خصوصی استعمال قرآن میں بھی دیگر مقامات پر موجود ہے۔ مثلاً سورہ النصر (110) میں الناس سے مراد مخصوص طور پر یہی قریش مکہ ہیں، نہ کہ عمومی طور پر ساری دنیا کے لوگ۔

اس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے معاصر الناس سے اس قسم کی جنگ نہیں کی۔ اس واقعے کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ مذکورہ حدیث میں قتال کا لفظ اپنے لغوی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ شدت کلام کا ایک اسلوب ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ ہیمرنگ کی زبان (language of hammering) ہے، وہ تشریعی حکم کی زبان نہیں۔

اسلامی تعلیم کے مطابق، دعوت وتبلیغ کا کام مکمل طور پر ایک پرامن کام ہے، اپنے آغاز میں بھی اور اپنے انجام میں بھی۔ دعوت کا نشانہ ایک انسان کے ذہن ودماغ کو بدلنا ہے، تاکہ وہ ایک صالح انسان بن سکے۔

اس قسم کا مقصد صرف پر امن نصیحت کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے، نہ کہ جنگ اور قتال کے جنگ اور تشدد کا طریقہ معکوس نتیجہ پیدا کرے گا، نہ کہ مطلوب نتیجہ۔

Printed page